ناقابل ِ برداشت، واقعات

ناقابل ِ برداشت، واقعات

  

پاکستان کی سیاسی اور فوجی قیادت نے فیصلہ کیا ہے کہ مذہبی انتہا پسندی اور جتھہ بندی کی  سرکوبی کے لیے حکومت ایک جامع حکمت ِ عملی پر عمل پیرا ہو گی، اور کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔وزیراعظم عمران خان کے دفتر میں ان کے زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد جاری ہونے والے اعلامیے میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ سیالکوٹ جیسے واقعات ناقابل ِ برداشت ہیں۔وزیر داخلہ شیخ رشید احمد،وزیر اطلاعات فواد چودھری کے علاوہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ، قومی سلامتی کے مشیر ڈاکٹر معید یوسف،وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور سینئر فوجی اور سول حکام نے اجلاس میں شرکت کی،اور سانحہئ سیالکوٹ کے حوالے سے حالات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اعلامیے کے مطابق شرکا نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ذمہ داروں کو بہرصورت کٹہرے میں لایا جائے گا، جس جس نے بھی جرم کا ارتکاب کیا ہے،اسے کڑی سزا ملے گی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ افراد ہوں یا ہجوم، کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کا حق حاصل نہیں ہے،اور سانحہئ سیالکوٹ جیسے واقعات کی روک تھام کے لیے جامع حکمت عملی پر عملدرآمد کیا جائے گا۔ اعلامیے میں سری لنکن منیجر کو بچانے کے لیے ہجوم کے سامنے ڈٹ جانے والے عدنان ملک کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔یاد رہے انہیں تمغہئ شجاعت عطا کیا جا چکا ہے،اور جب یہ سطور لکھی جا رہی ہیں،ان کے اعزاز میں وزیراعظم ہاؤس میں ایک خصوصی تقریب کا اہتمام ہو رہا ہو گا۔ انہیں اسلام آباد بُلا کر وزیراعظم کے مہمان کے طور پر ٹھہرایا گیا ہے۔عدنان ملک کی پذیرائی لائق ِ تحسین ہے۔ ایک دوسرے صاحب کی نشاندہی بھی کی گئی تھی، جو ہجوم کے سامنے کھڑے ہوئے تھے،ان کی تلاش کر کے انہیں بھی شاباش دی جانی چاہیے۔اجلاس کے شرکا نے جس عزم کا اظہار کیا،اس سے یقینا قانون نافذ کرنے والوں کی حوصلہ افزائی ہو گی،اور قانون ہاتھ میں لینے والوں کے راستے تنگ ہوں گے لیکن بگاڑ جس حد تک پہنچ چکا ہے،اس کے لیے پیہم کوشش کرنا ہو گی۔قانون ہاتھ میں لینے والوں کو سخت سزائیں ملنی چاہئیں،خصوصی عدالتیں قائم کر کے دن، رات سماعت ہو اور جلد سے جلد فیصلوں کا اعلان کیا جائے۔ اس سے بھی زیادہ  ضروری یہ ہے کہ ایسی فضا پیدا کی جائے جس میں کسی کو اس طرح کی کارروائی کا حوصلہ ہو نہ جرأت۔ اس کے لیے علمائے کرام کو موثر کردار ادا کرنا ہو گا۔ مسجدوں کے خطیبوں کو بھی مسلسل تلقین کرنا ہو گی کہ قانون ہاتھ میں لینے والے اللہ کے قہر اور غضب کو دعوت دیتے ہیں۔کسی بھی شخص کو کسی بھی بہانے قانون شکنی کی ترغیب کی اجازت نہیں دی جا سکتی، اس کے لیے ان اداروں اور ان اشخاص کی کڑی نگرانی کرنا ہو گی،جو گمراہ کن تاویلات کے ذریعے لوگوں کو تشدد پر اکساتے ہیں۔ حب ِ رسولؐ کے نام پر جذبات کو بھڑکاتے ہیں،کسی تحقیق و تفتیش کی ضرورت محسوس کیے بغیر چڑھ دوڑنے کی ترغیب دیتے ہیں۔حکومت پر لازم ہے کہ پُرزور آگاہی مہم چلائے، اور قرآن کریم کے اس فرمان کی وسیع پیمانے پر نشر و اشاعت کی جائے کہ جس نے ایک انسان کو ناحق قتل کیا،اس نے گویا پوری انساینت کو قتل کر دیا،اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔انسانی جان کی حرمت اور حفاظت ہر مسلمان کا  اولین فریضہ ہے، انسانی جان سے کھیلنا قبیح ترین جرم اور گناہ ہے۔اس کے ساتھ ہی ساتھ حملہ آور جتھوں کے سامنے دیوار بن جانے والوں کو انعامات اور اعزازات دینے کے لیے بھی قانون بنایا جائے تاکہ ہر سطح پر لوگ خود اٹھ کر فتنہ پروروں کا ہاتھ روکنے میں  سرگرم ہو سکیں۔

یاد رکھا جائے،خرابی ایک دن میں پیدا نہیں ہوتی،نہ اسے ایک دن میں دور کیا جا سکتا ہے۔ لاقانونیت کا بڑھتا ہوا رجحان انتہائی خطرناک ہے،مذہبی انتہا پسندوں کے علاوہ بھی ایسے گروہ موجود ہیں،جو قانون ہاتھ میں لینا اپنا حق سمجھ بیٹھے ہیں،اور تو اور قانون کے محافظ سمجھے جانے والے وکلا میں بھی تشدد کا رجحان فروغ پا رہا ہے، سیاسی جماعتوں میں بھی غیر ذمہ دار عناصر دیکھنے میں آ رہے ہیں، مذہبی جماعتوں میں بھی مخالفوں کو للکارنے، اور ان پر چڑھ دوڑنے والے صاف دیکھے جا سکتے ہیں۔ہر ہر سطح پر قانون شکنوں کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنا ہوں گی۔کسی ایک واردات کے بعد محض سخت الفاظ میں بیان جاری کرنے سے حالات کا رخ نہیں موڑا جا سکتا۔ اس کے لیے مسلسل اور پیہم کوشش کرنا ہو گی،اور ہر ہر ادارے کو اس پر عمل پیرا بھی ہونا ہو گا،کسی بھی دائرے میں طاقت کو قانون بنانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

مزید :

رائے -اداریہ -