ڈسکہ، انتخاب، تحقیقاتی رپورٹ (2)

ڈسکہ، انتخاب، تحقیقاتی رپورٹ (2)

  

 وائرلیس اور موبائل فون کے ذریعے پولیس نے اُن کے ساتھ رابطے کی کوشش کی۔.اس دوران صورتحال پی ای سی، پنجاب کے نوٹس میں لائی گئی۔ جبکہ آر او نے محترم چیف الیکشن کمشنر کو فون پر بریفنگ دی۔ صبح ساڑھے چار بجے کے قریب ڈی ایس پی ڈسکہ نے مطلع کیا کہ ان کا کچھ پی اوز سے رابطہ ہوا ہے اور انہیں واپس لانے کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ دفتر میں سکیورٹی کے ناکافی انتظامات دیکھتے ہوئے اس نے ڈی ایس پی ڈسکہ سے سکیورٹی بڑھانے کا کہا۔ ونگ کمانڈر، چناب رینجرز سے رابطہ کرکے رینجرز تعینات کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔صبح ساڑھے چار بجے رینجرز تعینات کردیے گئے۔ جیسے سیکورٹی بحال ہوئی اور صورت حال کنٹرول میں دکھائی دینے لگے تو اس نے ڈی پی او یا آرپی او سے امن و امان کی بحالی کے لیے اٹھائے گئے اقدامات اور پولنگ والے دن سکیورٹی کی خراب صورت حال پر بات کرنا ضروری نہ سمجھا۔ اس نے بتایا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب ایسی کوئی شکایت دائر نہیں کی گئی تھی، اورصرف نوشین افتخار نے مختلف پولنگ اسٹیشنوں پر کچھ واقعات کی نشاندہی کی تھی۔ ڈی ایس پی اور اے سی ڈسکہ کو فوری طور پر سائٹ پر پہنچنے کی ہدایت کی گئی۔تاہم جب سہ پہر ساڑھے تین بجے سے چار بجے تک صورت حال بہت زیادہ خراب ہوگئی تو آرپی او گوجرانوالہ کوڈی ای سی سیال کوٹ کے ذریعے ای میل بھیج کر کہا گیا کہ وہ حلقے کے انیس پولنگ اسٹیشنوں پرخراب ہوتی ہوئی صورت حال کو کنٹرول کرے۔ انکوائری افسر نے ڈی آر او کے کردار کے بارے میں پوچھا کہ جب دن بھر ٹی وی چینل رپورٹنگ کررہے تھے کہ سیاستدان پولنگ سٹیشن میں داخل ہوکر پولنگ کے عمل میں رکاوٹ کیوں کر ڈال رہے ہیں۔ اس نے محض یہ بتانے کی زحمت کی کہ پرنسپل کے دفتر میں ڈی آر او اور آر او کا کیمپ آفس قائم کیا گیاتھا جہاں ٹی وی پرمسلسل نظر رکھی گئی اور ڈی ایس پی کومناسب  ہدایات جاری کردی گئی تھیں۔اس کے مطابق جب بھی کسی واقعے کی اطلاع ملی، ڈی ایس پی ڈسکہ نے موقع پر پہنچ کر مسئلہ حل کرایا۔ دوبارہ پولنگ کے فیصلے کی وجہ یہ تھی کہ ڈسکہ میں ہوائی فائرنگ کے واقعات نے ووٹرز کو خوفزدہ کردیا، پولنگ کا عمل رک گیا، ووٹرزووٹ کاسٹ نہ کر سکے، مختلف پولنگ سٹیشنوں پر کم باہر نکلے۔اس کے علاوہ 20 پولنگ سٹیشنز کے نتائج انتہائی تاخیر سے آئے تھے۔ وہ نتائج اصل سے مختلف تھے بادی النظر انہیں تبدیل کیا گیا تھا۔ 

مسٹر عبدالحمید، آرای سی، ڈی ایم او

7۔  مسٹر عبدالحمید نے اپنے بیان میں بتایا کہ وہ گیارہ جنوری 2021 ء کی شام کو سیالکوٹ پہنچااور انتخابات لڑنے والے امیدواروں کے ساتھ تین اجلاسوں کیے۔ پہلا اجلاس 13 جنوری کو منعقد ہوا۔  انہوں نے بریفنگ دی اور ضابطہ اخلاق کی کاپیاں فراہم کی گئیں۔ اسی طرح مقابلہ کرنے والے امیدواروں سے دوسری اور تیسری ملاقات امیدواروں سولہ اور سترہ جنوری اورفروری کے پہلے ہفتے میں ڈی آر او کے دفتر میں ہوئی۔ اس کے علاوہ مانیٹرنگ ٹیم، ڈی سی اور ڈی پی او،سیالکوٹ کو پچیس جنوری 2021ء کو شام چھے بجے میٹنگ کے لئے مدعو کیا گیا تھا۔ اس میٹنگ میں سیالکوٹ کی انتظامیہ نے اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایاتاہم آنے والے دنوں میں تعاون کا عملی مظاہرہ دیکھنے میں نہ آیا۔ ان درخواستوں کے باوجود کچھ حقیقی مطالبا ت،جیسا کہ دستاویزات کی فراہمی جن کا تعلق مسٹر رمضان کمبوہ، ڈی ایس پی کے چھٹی کے احکامات،چودہ جنوری کو گاؤں، حسہ ججامیں امیدوار اسجد ملہی کے گن مین کی ہوائی فائرنگ، اور اسی دن قلعہ کالروالہ اور چوہدری عبدالوحید کے فارم ہاؤس پر فائرنگ کے واقعات کی ایف آئی آرسے تھا، سے ڈی پی او نے معذرت کرلی۔ تحریک لبیک کے امیدوار، مسٹر خلیل ساندھونے درخواست کی کہ ڈی سی سیال کوٹ، جو اُس کی پارٹی کے کارن کنوں کو ایم اپی او تھری کے تحت گرفتار کررہا تھا، کو روکا جائے۔ ڈی سی سیالکوٹ سے مسلسل پوچھا گیا لیکن اس نے کوئی جواب نہیں دیا جس پر اسے چیف سیکرٹری، حکومت پنجاب سے ای میل کے ذریعے رابطہ کرنا پڑا، لیکن ان کے دفتر نے بھی کوئی جواب نہ دیا۔ حتیٰ کہ اسے پہلے سے فراہم کی گئی سیکیورٹی گاڑی اور ایک موٹر سائیکل پر دو پولیس اہلکار تعینات تھے، بھی واپس لے لی گئی۔ 

8۔حلقے میں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے تناسب کے بارے میں ڈی ایم او نے مزید کہا کہ جہاں تک ترقیاتی کاموں کی خلاف ورزی،  این اے اور ایم پی اے حضرات کی شرکت، ہوائی فائرنگ کے واقعات اور بڑے پینا فلیکسز کی تنصیب یاہورڈنگز وغیرہ کے استعمال کا تعلق ہے تو زیادہ تر خلاف ورزیاں پی ٹی آئی کے کارکنوں /امیدواروں نے کیں۔انہوں نے الیکشن میں ناکامی کا ذمہ دار ضلعی پولیس اور سول انتظامیہ کو ٹھہرایا۔

مسٹر اطہر عباسی، ڈی سی ای، آر او

9۔  اطہر عباسی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اسے اٹھارہ دسمبر 2020ء کو آر او قرار دیا گیا تھا۔ انتخابی شیڈول کا اعلان اکیس دسمبر 2020ء کو کیا گیا تھا۔ بائیس دسمبر 2020ء کو مسٹر ماجد شریف ڈوگر، آر ای سی گوجرانوالہ ڈویژن، ڈی آر او پی پی 52 وزیر آباد نے اُنہیں فون کرکے سیال کوٹ جانے سے پہلے کمشنر گوجرانوالہ کے ساتھ آر پی او کے دفتر میں ملاقات کرنے کا کہا۔ بائیس دسمبر کو اجلاس میں شرکت کرنے کے بعد وہ سیال کوٹ روانہ ہوگیا کیوں کہ وہ ڈی سی اور ڈی پی او سیال کوٹ سے ملنا چاہتا تھا۔اپنا دفتر ڈسکہ کے بجائے سیالکوٹ میں قائم کرنے کی وجہ یہ بیان کی کہ وہ سیال کوٹ میں آسانی سے دوسرے محکموں کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کر سکتا تھا، نیز وہ ڈی سی سیال کوٹ کا پہلے سے تیار شدہ سیٹ اپ بھی استعمال کر سکتا تھا ضلعی انتظامیہ کے ساتھ پہلی غیر رسمی میٹنگ بائیس یا تئیس دسمبر 2020 ء کو ہوئی۔اس میٹنگ میں کوئی وعدہ یا فیصلہ نہ کیا گیا۔ تاہم اس نے ڈی سی اور ڈی پی او سے پولنگ اسٹیشنوں کی تصدیق، انتخابی عملے کی تعینات، لاجسٹک سپورٹ، سکیورٹی پلان کی تیاری اور پولنگ اسٹیشنوں کی حساسیت کے حوالے سے درجہ بندی کے لیے اُن کی مدد چاہی۔ ڈی سی سیال کوٹ کے کمیٹی روم میں تیس دسمبر 2020ء کو ہونے والے رسمی اجلاس، جس کی قیادت ڈی آر او نے کی، ضلعی انتظامیہ نے ضمنی انتخابات کے منصفانہ اور شفاف انعقاد میں اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔ آر او نے مزید کہاکہ وہ ضلعی انتظامیہ سیالکوٹ کی طرف سے پیش کردہ تعاون سے مطمئن ہیں۔ ڈی پی او کو دو خط لکھنے پڑے کیونکہ ضلعی پولیس کی طرف سے سیکورٹی پلان میں تاخیر ہورہی تھی۔ علاقے کی سیاسی حساسیت ان کے علم میں تھی لیکن امن و امان کی خرابی کی کسی نے اطلاع نہیں دی اور نہ ہی اس پر ڈی پی او سے کوئی بریفنگ لی۔اس نے ڈی آر او کے بیان کی نفی کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن سے پہلے حالات معمول پر تھے اور اس نے کبھی بھی ڈی آر او سے حلقے میں فوری طور پر پہنچنے کی درخواست نہیں کی تھی۔ نیم فوجی دستوں کو اس نے پیشگی سازگار ماحول بنانے کے لیے طلب کیا تھا۔ رینجرز کا کردار "دوسرے درجے" کی مدد کے لیے تھا۔پولیس اور وہ پہلے سے ہی پورے حلقے میں "کوئیک رسپانس فورس" کے طور پر تعینات تھے۔حلقہ پولنگ کے دن جب امن و امان کی صورتحال خراب ہوئی تو رینجرز کو طلب کیاگیا۔ اُنہوں نے فوری رسپانس دیا۔تاہم چناب رینجرز بہتر بتا سکتی ہے کہ اس کے باوجود امن و امان کی صورت حال کیوں اور کیسے بگڑ گئی۔ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ رینجرز (DSR) چناب رینجرز اپنے دفتر میں موجود تھے۔چناب رینجرز کے ایس او پیز میں آر او آفس کا تحفظ بھی شامل تھا۔وہاں ہجوم کو کنٹرول کرنا مشکل تھا۔ جان کے خطرے کی وجہ سے اس نے حکام کو آگاہ کیاتھا۔خوف زدہ ہوکراس نے ڈی ایس آر کے ساتھ ساتھ ڈی ایس پی سے بھی اپنے دفتر کی سکیورٹی میں اضافہ کرنے کو کہا تھا۔ لیکن وہ اس بات سے بے خبر تھے کہ انہوں نے ان کی ہدایات پر عمل کیا یا نہیں۔ آراو نے تصدیق کی کہ ٹرانسپورٹیشن پلان تسلی بخش ہے۔ 272 ٹویوٹا ہائی ایس حاصل کی گئی تھیں۔ 272 عمارتوں میں قائم کیے گئے 360 پولنگ سٹیشنوں کے لیے ٹرانسپورٹ فراہم کی جانی تھی۔ گویا ایک گاڑی دو سے زیادہ پولنگ سٹیشنوں کے لیے نہیں تھی۔صبح دوبجے کے قریب 20 پولنگ اسٹیشنوں سے نتائج کی عدم وصولی کا علم ہوا۔وہ پولنگ سٹیشن آر او آفس سے 20 سے 50 کلومیٹر کے دائرے میں واقع تھے۔ اس کا کہنا تھا کہ لاپتہ پولنگ عملے کا پتہ لگانے کے لیے انہوں نے اے سی ڈسکہ کے ساتھ 20 لاپتہ پریزائیڈنگ افسران کو کال کی لیکن 19 پریذائیڈنگ افسران کے موبائل فون بند پائے گئے اورایک (جو آن تھا) نے کال وصول نہیں کی۔ ڈی ایس پی ڈسکہ سے صبح دو سے تین بجے کے درمیان رابطہ کرکے کہا گیا کہ وہ پریذائیڈنگ افسران کے ساتھ تعینات پولیس اہلکاروں سے رابطہ کرے۔ اس نے کچھ دیر بعد بتایا کہ کچھ راستے میں ہیں جبکہ باقیوں سے رابطہ نہیں ہوسکا۔ اس سے پہلے ان کے علم میں یہ بات بھی آئی تھی کہ ڈی ایس پی اُنہیں لانے والا ہے۔لاپتہ  پریذائیڈنگ افسران صبح پانچ سے چھے کے درمیان اس کے دفتر پہنچ گئے۔ اس دوران اس نے ڈی سی سیالکوٹ سے دو بج کر پچاس منٹ پر رابطہ کرنے کی کوشش بھی کی لیکن اس کے باوجوداس کا نمبر تھا، اس نے کال اٹینڈ نہیں کی۔ ڈی پی او سیالکوٹ نے ان کی کال اٹینڈ کی اور ضروری اقدامات کی یقین دہانی کرائی پھر بھی صورتحال جوں کی توں ہے۔ آر او نے انکوائری آفیسر کو بتایا کہ اس نے کسی ایس اے پی او کو کال کرنے کی کوشش نہیں کی جب کہ  پریزائیڈنگ افسران تک رسائی حاصل نہیں کی جا سکتی تھی۔ یہ صبح دو سے تین بجے کا وقت تھا جب اس نے محسوس کیاحالات قابو سے باہر ہونے جا رہے تھے۔آر اوکے مطابق پہلے اور بعد میں فرق کے بارے میں ٹرانسپورٹ اور سیکورٹی پلان کے بارے میں اسے کوئی قابل ذکر نہیں ملافرق سوائے گاڑیوں کی تعداد اور پولیس اہلکاروں کی تعداد کے جنہیں بعد میں سیکورٹی پلان میں دوگنا کردیا گیا۔مزید یہ کہ چار نئے زون بھی شامل کیے گئے جہاں ایک ایس پی رینک کے افسر کو ہر زون کا انچارج بنایا گیا۔ نئے سیکیورٹی پلان میں کچھ چوکیاں اور اہم مقامات تشکیل دیے گئے جو پرانے سیکیورٹی پلان کا حصہ نہیں تھے۔وہ کوئی بات یقینی طور بتانے کے قابل نہیں تھا اور نہ ہی پولنگ اسٹیشن پر موجود یا گاڑیوں کے ساتھ بھیجے جانے والے پولیس اہلکاروں کی اصل تعداد یاد تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ ساتھ تعینات تمام پولیس اہلکار واپس آئے یا نہیں یا وہ آر او کے دفتر گئے اور نہ ہی  پریزائیڈنگ افسران سے ان کے بارے میں دریافت کیا۔ پریذائیڈنگ افسران کا دیر سے آنے کی بیان کردہ وجہ گھنی دھند کا بہانہ یا ان کے دور سے آنے کے سوا کچھ نہیں تھا۔حلقے کے زیر اثر علاقوں تاہم ان کی باڈی لینگویج سے ٹھکاوٹ ظاہر تھی اور بوکھلائے ہوئے بھی تھے۔آراو لو یاد نہیں آیا کہ کیا اس نے لاپتہ پی او ان کے دفتر پہنچ جانے پر حکام کو مطلع کیا یا نہیں۔ اسے ہیرا پھیری یا من گھڑت کا پتہ چلانتائج کے بارے میں جب مسلم لیگ (ن) کے مدمقابل امیدوار نے تحفظات کا اظہار کیا اور اس سلسلے میں صبح 4:25 پر اس کے سامنے ایک درخواست جمع کرائی۔ مسلم لیگ کی امیدوار کواپنے دعوے کو درست ثابت کرنے کے لیے ثبوت پیش کرنے کا کہا گیا جو اس نے واٹس ایپ پیغامات کی شکل میں فراہم کیے تھے۔مزید برآں، اس نے ای سی پی سے اس کو روکنے کے لیے مناسب احکامات جاری کرنے کی درخواست کی۔مزید یہ کہ اُس نے الیکشن کمیشن سے انتخابی نتائج روکنے کی درخواست کی تاکہ اصل فارم 45 کا پریزائیڈنگ افسران کے پیش کردہ فارمز سے موازنہ کیا جاسکے۔بادی النظر ایسا دکھائی دیتا تھا کہ پریزائیڈنگ افسران کے فارم 45 میں تبدیلی کی گئی ہے۔  اس کا مزید کہنا تھا کہ وہ مختلف سیاستدانوں کے دوروں کو نہیں روک سکتا تھا لیکن اس نے پولیس اہلکاروں سے کہا تھا کہ انہیں نکال دیا جائے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ آخر میں آر او کا کہنا تھا کہ اگر سیکورٹی کے حالات بہتر ہوتے تو صورت حال مختلف ہوتی۔

10۔آر او اور ڈی ای سی سیالکوٹ کو ہدایت کی گئی کہ وہ اس دفتر کو سیکیورٹی، امن و امان کو کنٹرول کرنے کی سکت اور ٹرانسپورٹ فراہم کریں۔اُن کی طرف سے ضروری اقدامات اٹھائے گئے۔

11۔  معاملے کی گہرائی میں جاکر تحقیقات کے لیے پورے واقعہ کے پیچھے سچ تلاش کرنے کا عزم کرتے ہوئے زیر دستخطی نے فیصلہ کیاکہ مزید لوگوں کو شامل کرکے انکوائری کے دائرے کو پھیلایا جائے جن پر مذکورہ ضمنی الیکشن کو مسخ کرنے کا گھناؤنا کھیل کھیلنے کا شبہ ہوسکتا تھا۔ سب سے پہلے، دس پریذائیڈنگ افسران اور اُن کے نائب قاصدوں کوسولہ اپریل 2021 ء کو نوٹس جاری کرتے ہوئے انکوائری کے لیے ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر سیالکوٹ کے دفتر میں بیس اپریل کو پیش ہونے کا حکم دیا گیا۔ اسی طرح باقی دس پریذائیڈنگ افسران کو دو دن بعد، یعنی بائیس اپریل کو طلب کیا گیا۔ بیس ایس اے پی او اور بتیس پولیس اہل کاروں کو چوبیس اور پچیس اپریل 2021ء کو طلب کیا گیا۔ ڈی ای س سیال کوٹ نے متعلقہ افراد کو اُن کے محکموں کے ذریعے نوٹس بھجوائے۔ 

12۔انکوائری آفیسر نے سوالنامے دینے کا طریقہ اپنایا۔مندرجہ ذیل نمونے کے مطابق افراد کو انکوائری کے لیے بلایا:  

i۔پریذائیڈنگ آفیسرز کے لیے اکتیس سوالات پر مشتمل ایک جامع سوال نامہ پر مشتمل تھا،اور

ii۔پولیس اہل کاروں کے لیے ترتیب دیا گیا سوال نامہ بچیس سوالوں پر مشتمل تھا۔ 

13۔ مذکورہ افراد نے،جن پولنگ سٹیشنوں پر انہیں تعینات کیا گیا تھا، انہوں نے اپنے جوابات جمع کرائے۔ ان کا خلاصہ درج ذیل ہے۔

 پولنگ سٹیشن نمبر 2۔ گورنمنٹ بوائز پرائمری سکول، ہنجرا (مشترکہ)

14۔   مسٹر عمر فاروق ڈوگر، پریذائیڈنگ افسر نے جو اب دیا کہ الیکشن والے دن سے پہلے الیکشن مینجروں کے سوا کسی نے اُس سے رابطہ نہیں کیا تھا۔وہ الیکشن سے ایک دن پہلے پولنگ سٹیشن پر پہنچ گیا تھا اور اس میں اسے دو گھنٹے لگے تھے۔ اٹھارہ فروری 2021ء کو وہ پولنگ سٹیشن کی طرف اکیلے روانہ ہوگئے۔ اس کے فون کے بند ہونے کی وجہ چارچنگ کا ختم ہوجانا تھا۔ پولنگ ختم ہونے کے بعد اس کے پولنگ سٹیشن کے ایجنٹ نتیجہ حاصل کیے بغیر ہی روانہ ہوگئے۔ واٹس ایپ کے ذریعے بھی نتیجہ اس لیے نہ بھیجا جاسکا کیوں کہ اس کے فون کی بیٹری ختم ہوچکی تھی۔جب وہ سٹیشن سے روانہ ہوا تو متعین کردہ پولیس عملہ اس کے ہمراہ تھا۔ اس کے پاس آر او کا نمبر کا نہیں تھا اس لیے وہ اس سے رابطہ نہ کرسکا۔پولیس نے اُنہیں کہا تھا کہ وہ ایک قافلے کی صورت سفر کریں، اس لیے اُنہیں آر او کے دفتر تک پہنچنے میں نو گھنٹے لگ گئے۔ پریزائیڈنگ افسر ہونے کے ناتے پولیس اُس کے ماتحت تھی۔ لیکن یہ پولیس کی مرضی تھی کہ وہ سیال کوٹ ٹھہر جائیں کیوں کہ اُنہیں کسی اور گاڑی کا انتظار تھا۔ 

15۔ سوال نامے پر دیے گئے جوابات کی روشنی میں اس سے مزید استفسار کیا گیا، اور اس کا ہر بیان ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے بیانات کا خلاصہ مندرجہ ذیل ہے: 

اس نے بیان دیا کہ جس وقت اس نے آر او کے دفتر سے انتخابی مواد حاصل کیا ا س کے ہم راہ ایک پولنگ آفیسر اور دو پولیس کے اہل کا رتھے۔ پولنگ ختم ہونے کے بعد جس گاڑی میں وہ واپس آئے وہ وہی تھی جس میں گئے تھے۔ اس سے قبل پی اوانہوں نے کہا کہ ان کے پولنگ ایجنٹس پولنگ سٹیشن سے پہلے ہی چلے گئے تھے۔وہ انہیں فارم-45 فراہم کر سکتا تھا تاہم اس نے دیکھا کہ پولنگ ایجنٹس کے فارم 45 کے ساتھ ان کا تضاد تھا۔اس کا موقف یہ تھا کہ وہ صرف اس فارم 45 کا ذمہ دار تھا جس پر اُس کے دستخط موجود تھے۔

16۔ پریذائیڈنگ آفیسر کو اپنے قیام کی جگہ کا علم نہیں تھا جب اسے بتایا گیا کہ وہ مستند ریکارڈ کے مطابق بیس فروری کی صبح تک سیالکوٹ میں تھا۔ ایک سوال کے جواب میں اس نے بتایا کہ پولیس کی وجہ سے اسے آر او آفس پہنچنے میں نو گھنٹے لگ گئے کیوں کہ اسے بتایا کہ جب باقی آئیں گے تو وہ مل کر جائیں گے۔تاہم وہ کوئی ٹھوس وجہ بیان کرنے میں ناکام رہا ہے کہ آخر تمام گروپ کا انتظار کرنا کیوں ضروری تھا۔۔اس نے آر او کے دفتر سے تعینات پولیس پر تمام ذمہ داری ڈال دی۔ ایک سوال پر کہ آپ سیالکوٹ کیوں رہے؟آپ کی رضامندی سے ہوا کیوں کہ پولیس آپ کی ماتحت تھی۔ اس نے صاف جواب دیا کہ یہ اس کی مرضی نہیں تھی۔اور پولیس نے اسے روکے رکھا تھا۔ ایک مرتبہ پھر اسی وجہ کا اعادہ کیا گیا کہ وہ دوسری گاڑیوں کے پہنچنے کا انتظار کر رہے تھے۔

17۔غلام عباسس سینئر اسسٹنٹ پریذائیڈنگ آفیسر

سوال و جواب کے دوران اس نے بتایا کہ وہ پریذائیڈنگ آفیسر کے ساتھ انتخابی مواد جمع کرنے کے لیے (آر او آفس سے) نہیں تھا کیوں کہ پریذائیڈنگ آفیسر نے اس سے ایسا کرنے کے لیے کہا تھا۔ پریذائیڈنگ آفیسر کا خیال تھا کہ موذکورہ مواد کی وصول کے لیے پولنگ آفیسر اس کے ساتھ ہوگا، جب کہ وہ اگلے دن ان کے ساتھ شامل ہو سکتا ہے۔ 

شام ساڑھے پانچ بجے تک پولنگ ایجنٹوں کے ساتھ ساتھ پولیس اہلکار بھی سارے عمل کے دوران موجود رہے۔ اس نے خالی فارم-45 کی 5 سے 6 کاپیوں پر دستخط کیے تھے۔ مذکورہ فارم پر اٹھارہ فروری 2021  ء کی شام دستخط اس کی اپنی مرضی سے نہیں کیے گئے تھے، بلکہ اس نے پریذائیڈنگ آفیسر کی ہدایت پر ایسا کیا تھاتاکہ اس دن وقت بچا سکیں۔ اگرچہ اس نے ان فارموں پر دستخط کیے تھے لیکن ان پر اپنے انگوٹھے کا نشان نہیں لگایاتھا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے چارسو چھیانوے ووٹ حاصل کیے ہیں اور پولنگ ایجنٹس کو فارم 45 بھی فراہم کیا گیا۔ جب ایک پولنگ ایجنٹ سے حاصل کردہ فارم-45 اسے دکھایا گیا تو اس نے اپنے دستخط کی شناخت کے لیے کہااس نے اپنے دستخط پہچان لیے لیکن اس بات کی تصدیق نہیں کر سکا کہ اس فارم پر موجود دوسرے دستخط پریذائیڈنگ آفیسر کے تھے یا نہیں۔گنتی مکمل ہونے کے بعد پولنگ بیگ کو سیل نہیں کیا گیا کیوں کہ اس بندش کے عمل کے دوران پی او کو ایک کال موصول ہوئی تھی۔ اس کے بعد اس نے انہیں سیکورٹی رسک سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں پولنگ سٹیشن چھوڑ کر ہر چیز پولنگ بیگ میں ڈال کر جانا ہوگا۔(جاری ہے)

مزید :

رائے -اداریہ -