غیر مسلم کا قتل اورہمارا دین

غیر مسلم کا قتل اورہمارا دین
غیر مسلم کا قتل اورہمارا دین

  

بد قسمتی سے پاکستان میں ایک چلن بن چکا ہے کہ خصوصاً غیر مسلموں پر توہین رسالتؐ یا توہین مذہب کا الزام لگایا اور بغیر کسی ثبوت کے پھر اسے مارنا یا قتل کر دینا اب عام ہو چکا ہے کہ کیونکہ قتل کرنے والوں کو بھی پتہ ہے کہ اب ان کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ ایسا ہی سیالکوٹ میں سری لنکن شہری کے ساتھ ہوااور قتل کرنے والوں نے بے دھڑک ہو کر ایک زندہ انسان کو جلا کر بربریت کی وہ مثال قائم کی ہے، جس سے مسلمانوں کو دنیا بھر میں شرمندگی ہوئی ہے۔ کسی بھی انسان کا قتل کبیرہ ترین گناہ ہے اور یہ کسی کو حق حاصل نہیں کہ توہین رسالت کا الزام لگائے اور بغیر کسی ثبوت کے اسے قتل کر دے۔ ہمارے ملک میں سسٹم موجود ہے ریاست ہے ادارے موجود ہیں، سب سے پہلے تو جرم کی اطلاع اگر ہوا ہے تو ان تک لے جائی جائے اگر وہ کچھ نہیں کریں گے تو اللہ کی ذات ان سے جواب دہ ہو گی نا کہ ریاستی کوتاہی کا کسی انفرادی شخص سے جواب ہو گا۔ یہ جتھوں کو حق حاصل نہیں ہے کہ وہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لیں۔ اسلام اس طرح کی حرکت کی بالکل اجازت نہیں دیتا۔ پھر لاش کا مسلہ کرنا یہ انتہائی سنگین مسئلہ ہے۔ بخاری شریف میں حدیث پاک ہے کہ اللہ کے نبی ؐ نے فرمایا :”جو کسی معاہد یعنی ذمی کو قتل کرے گا وہ جنت کی خوشبو تک نہیں پائے گا، جب کہ اس کی خوشبو چالیس سال کی مسافت سے بھی محسوس ہوتی ہے“۔

 ایک کافر شخص کو قتل کرنا اس پر الزام لگانا اور بغیر ثابت کئے اسے قتل کرنا اس کی لاش کو جلانا یہ درندگی تو ہو سکتی ہے اسلام کی تعلیمات کا درس ہرگز نہیں ہو سکتا ہے۔

ایک اور حدیث میں آتا ہے کہ اللہ کے نبی ؐ نے فرمایا جنت کی ہوا جنت سے چالیس سال کی مسافت سے بھی پہنچتی ہے اور جو کئی کسی معاہد یعنی ذمی کو نا حق قتل کرے وہ جنت کی ہوا سے بھی دور ہو جائے گا۔

 سری لنکن شہری کو جس طرح بے دردی سے آگ لگا کر قتل کیا گیا یہ انتہائی افسوسناک حرکت ہے اور ویسے بھی آگ لگا کر جلانا کسی بھی طرح  کی اسلام میں سزا موجود نہیں ہے۔کسی کو آگ لگا کر جلا دینا یہ اللہ کے سوا کوئی سزا نہیں دے سکتا۔ 

فرمان نبوی ؐ ہے کہ آگ کا عذاب صرف رب تعالی کی ذات دے سکتی ہے اس کے علاوہ کسی کو یہ اجات نہیں ہے کہ وہ سزا کے طور پر لوگوں کو آگ کا عذاب دے۔ مسلمان امتی کو یہ اجازت نہیں یہ اللہ کے نبی ؐ کے فرمان کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ دین اسلام تو غیرمسلم اقلیتوں اور مسلمانوں کے درمیان عدل و انصاف اور مساوات قائم کرنے کا حکم دیتا ہے۔ قرآن میں ان غیرمسلموں کے ساتھ،جو اسلام اور مسلمانوں سے برسرپیکار نہ ہوں اور نہ ان کے خلاف کسی شازشی سرگرمی میں مبتلا ہوں، خیرخواہی، مروت، حسن سلوک اور رواداری کی ہدایت دی گئی ہے، لیکن یہاں تو ایسے غیر مسلم شہری کو سزا دی گئی ہے جس جرم کا نہ تو کوئی گواہ ہے اور نہ ہی اس کی قانون کو خبر کی گئی۔سری لنکن تو ویسے بھی بہت بھلے مانس اور شریف لوگ ہیں مجھے یاد ہے چند سال قبل میرا سری لنکا جانا ہوا، وہاں ایک ٹیکسی میں سفر کیا تو ٹیکسی والے نے ایک ہوٹل سے برگر لے کر دیا اور اس کے پیسے بھی خود ادا کئے جب میں نے پیسے دینے چاہے تو اس نے کہا نہیں ہم پاکستانیوں سے بہت محبت کرتے ہیں تو آپ ہمارے مہمان ہیں۔ سری لنکا کی ٹیم پر یہاں حملہ ہوا اور اس کے باوجود وہ یہاں کرکٹ کھیلنے آئے۔پاکستان میں ڈینگی آیا تو سری لنکن ڈاکٹرز نے اپنی خدمات مہیا کیں الغرض سری لنکا کے پاکستان پر بہت احسانات ہیں اب ریاست کی ذمہ داری ہے کہ سری لنکن شہری کے قاتلوں کو فوری سزا دے کر اس زیادتی کا ازالہ کرنے کی بھرپور کوشش کرے۔ 

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک مسلمان نے ایک ذمی کو قتل کردیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو قصاص میں قتل کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: ”میں ان لوگوں میں سب سے زیادہ حقدار ہوں جو اپنا وعدہ وفا کرتے ہیں“۔اب جن لوگوں نے سری لنکن شہری کو بے گناہ قتل کیا ہے اگر وہ خود کو مسلمان کہتے ہیں اور اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہیں تو انہیں پھر قانون سے بھاگنے کی بجائے از خودد گرفتاری دینی چاہئے اگر وہ اتنے ہی سچے ہیں اور جنت کے طلب گار ہیں تا کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے، لیکن یہاں معاملہ سارا ذاتی رنجش، دین سے دوری اور اسلامی تعلیمات سے بے بہرہ ہونے کی وجہ سے یہ  انتہائی اندوہناک سانحہ پیش آیا ہے،جو پاکستان کے چہرے پر ایک بدنما داغ بن گیا ہے جو اب اسی صورت دھل سکتا ہے کہ ریاست پاکستان ملزمان کو قرار واقعی سزا دے تا کہ مستقبل میں اس طرح کی جتھہ بندی اور گروہ بندی کا جو نہ صرف معاشرے،بلکہ اسلام کی بدنامی کا باعث بن رہی ہے اس کا سد باب کیا جا سکے۔ ذمہ کے متعلق اللہ کے نبی ؐ نے فرمایا کہ خبر دار! جو شخص کسی معاہد، یعنی ذمی غیر مسلم پر ظلم کرے گا، یا اس کے حقوق میں کمی کرے گا، یا اس کی طاقت سے زیادہ اس پر بار ڈالے گا، یا اس سے کوئی چیزاس کی مرضی کے خلاف وصول کرے گا،اس کے خلاف قیامت کے دن میں خود مستغیث بنوں گا۔اب جن لوگوں نے اللہ کے نبیؐ کے فرمان کی سیالکوٹ میں خلاف ورزی کی ہے اور وہ بھی دین کے نام پر کی ہے وہ خود سوچیں کہ آخرت میں اللہ کے نبی ؐ  سری لنکن شہری کے حق میں خود استغاثہ کریں گے تو ان کی کیا حیثیت رہ جائے گی۔

مزید :

رائے -کالم -