لاہور حلقہ 133 اور پیپلز پارٹی کی دبنگ آمد 

لاہور حلقہ 133 اور پیپلز پارٹی کی دبنگ آمد 
لاہور حلقہ 133 اور پیپلز پارٹی کی دبنگ آمد 

  

حلقہ نمبر 133 میں ہونے والے انتخابات میں دو اہم نتائج سامنے آئے ہیں دونوں ہی حیران کن ہیں ویسے تو کہا یہ جا رہا ہے کہ یہ سیٹ مسلم لیگ(ن) کی تھی اس نے جیت لی کوئی حیران کن بات نہیں ہے، لیکن یہ بھی کہا جا رہاہے کہ مسلم لیگ(ن) نے اس دفعہ بہت کم ووٹ لئے اس سے مسلم لیگ(ن)کی پذیرائی میں کمی کا رجحان ظاہر ہوتا ہے۔ مسلم لیگ(ن) کی شائستہ پرویز ملک نے 43811 ووٹ حاصل کر کے کامیابی حاصل کی، جبکہ 2018 ء کے انتخابات میں مسلم لیگی امیدوار89699 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے تھے بظاہر یہ ایسے ہی لگتا ہے کہ مسلم لیگ(ن)کی پذیرائی میں کمی واقع ہوئی ہے، مسلم لیگ (ن)کے بیانیے کو لاہوریوں نے پذیرائی نہیں دی ہے، لیکن یہ بات ہرگز درست نہیں ہے، جبکہ ابھی تک ہمارے پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر ایسا ہی کہا جا رہاہے کہ مسلم لیگ(ن) کی پذیرائی میں کمی ظاہر ہو رہی ہے۔ 

آئیے حیران کن نتیجہ دیکھتے ہیں۔ 2018ء میں رجسٹرڈ ووٹروں میں 51.89  فیصد ووٹروں نے اپنا حق رائی دہی استعمال کیا ڈالے گئے مجموعی ووٹوں میں سے مسلم لیگ(ن) نے 89699 ووٹ حاصل کئے، جبکہ2021ء کے ضمنی انتخابات میں اسی حلقے کے مجموعی ووٹوں کا صرف 18.59 فیصد کاسٹ کیا گیا۔ ڈالے گئے 18.59 فیصد ووٹوں میں مسلم لیگ(ن)کی امید وار نے 46811 ووٹ حاصل کئے یہ ووٹ 2018ء کے حاصل کردہ فیصد ووٹوں سے زیادہ ہیں، لیکن 2021ء میں ووٹ ڈالنے کے رجحان میں، 2018ء کے مقابلے میں کمی واقع ہوئی۔ ویسے تو ضمنی انتخابات میں عام طور پر کم ہی ووٹر دلچسپی لیتے ہیں اور لاہور کی اس سیٹ کے بارے میں مجموعی تاثر یہی تھا کہ یہ سیٹ مسلم لیگ(ن) کی ہے اور وہ آسانی سے جیت بھی جائے گی اس لئے عملاً انتخابی مہم میں شدت وحدت پیدا نہیں کی یا یوں کہئے کہ مسلم لیگ(ن) انتخابی مہم میں ویسی گرما گرمی پیدا نہیں کر سکی جیسی پیپلز پارٹی نے کی، لیکن اس کے باوجود  2018ء کی نسبت، اس دفعہ مسلم لیگ (ن) کی امیدوار ڈالے گئے مجموعی ووٹوں کا تناسب کے لحاظ سے زیادہ حصہ حاصل کرنے میں کامیاب رہیں۔ یہ حیران کن نتیجہ ہے، جس کے بارے میں زیادہ بحث و مباحثہ نہیں کیا گیا۔ شاید تجزیہ نگاروں کی اس پہلو کی طرف نظر نہیں گئی یا انہوں نے جان بوجھ کر صرف نظر کیا ہے بہرحال وجوہات کچھ بھی ہوں مسلم لیگ(ن) کی 2021ء میں جیت کے اس پہلو کی طرف توجہ نہیں دی گئی ہے۔ 

اب ہم دوسرے حیران کن نتیجے کی طرف آتے ہیں وہ ہے پیپلز پارٹی کے امیدوار اسلم گل کی حیران کن کارکردگی۔انہوں نے 32313 ووٹ حاصل کر کے تجزیہ نگاروں کی حیران کر دکھایا 2018ء میں پیپلز پارٹی 5585 ووٹ حاصل کر پائی تھی،اس دفعہ 32313 ووٹ حاصل کئے، یعنی 2018ء کے مقابلے میں 26728 زیادہ ووٹ حاصل کر کے سب کو حیران کر دیا۔ الیکشن 2021ء میں پیپلز پارٹی کے بارے میں ایک خیال عام تھا کہ یہ پارٹی فارغ ہو چکی ہے ویسے 2018ء کے الیکشن میں پنجاب میں تو پیپلز پارٹی کا عملاً صفایا ہی ہو گیا تھا۔ لاہور کیونکہ مسلم لیگ(ن) کا گڑھ سمجھا جاتا ہے اس لئے پیپلز پارٹی کا یہاں ایک ایسی سیٹ پر جو ایک عرصے سے مسلم لیگ(ن) کی رہی ہو، 32313 ووٹ لینا حیران کن ہی نہیں،بلکہ ڈرامائی عمل کہلائے جانے کے لائق ہے۔ اسے پیپلز پارٹی کا "کم بیک"  (Come Back) بھی کہا جا رہا ہے اور یہ کسی حد تک درست بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن اس حلقے کے نتائج کو مجموعی ٹرینڈ قرار دینا درست نہیں ہے، کیونکہ لاہور ایک عرصے سے ن لیگ کا گڑھ رہا ہے حد تو یہ ہے کہ 2003ء کے عام انتخابات میں جب لیگی قیادت جنرل مشرف کے قہر کا شکار ہو کر تتر بتر ہو چکی تھی اس وقت بھی لاہور کی تمام نشستوں پر (سوائے ایک سرحدی سیٹ پر جہاں پیپلز پارٹی کا امیدوار کامیاب ہوا تھا)مسلم لیگ(ن) نے کلین سویپ کیا تھا۔ اب تو 2018ء کے بعد پی ٹی آئی حکومت نے کیونکہ تعمیراتی کاموں پر توجہ ہی نہیں دی اور بالخصوص لاہور کو تو بالکل ہی نظر انداز کئے رکھا، جس کی وجہ ہے لاہور میں برے حالات ہیں۔

جو سڑک ٹوٹ گئی اس کی مرمت نہیں ہوئی، جو سٹریٹ لائٹ فیوز ہو گئی اسے بدلا ہی نہیں گیا۔ اس پر مستزاد مہنگائی اور بے روزگاری نے موجودہ حکومت کو عوامی پذیرائی میں کمی کر دی ہے۔ حلقہ 133 کے انتخابات کے وقت پی ٹی آئی کے جمشید چیمہ اور ان کی اہلیہ کے کاغذات نامزدگی ہی مسترد ہو گئے اور اس طرح پی ٹی آئی مقابلے سے ہی آؤٹ ہو گئی۔ اصل مقابلہ تو ن لیگ اور پی ٹی آئی کے درمیان ہونا تھا، جس طرح 2018ء کے عام انتخابات کے وقت پرویز ملک اور پی ٹی آئی کے اعجاز چودھری کے درمیان کانٹے دار مقابلہ ہو اتھا۔ باخبر حلقوں کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ اعجاز چودھری اپنے بیٹے کو ٹکٹ دلوانا چاہتے تھے، لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ پھر حلقے میں الیکشن لڑنے /لڑوانے کی ذمہ داری،کیونکہ انہیں سونپی گئی تھی،کہ وہ منجھے ہوئے سیاسی کارکن اور رہنما ہیں اس لئے پارٹی نے ٹکٹ تو جمشید چیمہ کو دیا، لیکن پارٹی کی طرف سے تمام انتظام و انصرام ان کے حوالے کیا گیا۔پھر کاغذات نامزدگی یا مسترد ہو جانا، ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے، جس کا جواب تلاش کرنا چاہئے کہ کیا ایسا بھول پن میں ہو گیا یا پس پردہ کچھ اور حقائق بھی ہیں۔بہرحال معاملات کچھ بھی ہوں پی ٹی آئی مقابلے سے باہر ہو گئی۔ 

اس حلقے میں پیپلز پارٹی کمزور بلکہ انتہائی کمزور پوزیشن میں تھی پی ٹی آئی نے مقابلے سے آؤٹ ہونے کے بعدمسلم لیگ(ن) اور پی پی پی آمنے سامنے آگئے۔ پیپلز پارٹی کی قیادت میں اسے ایک ٹیسٹ کیس بنایا۔ سب سے پہلے ایک کارکن، منجھے ہوئے سیاسی کارکن کو ٹکٹ دے کر مستحسن فیصلہ کیا پھر پوری پارٹی قیادت نے دامے درمے سخنے اس حلقے میں کام کیا۔ پارٹی کے پرانے کارکنان کو، نظریاتی لوگوں کو، پرانے ووٹر خاندانوں کو متحرک کیا۔ رابطے کئے۔ پیپلز پارٹی نے ا س حلقے میں حقیقی پیپلز پارٹی بن کر کام کیا، جس کے نتائج ہمارے سامنے آئے۔پیپلز پارٹی کے مردہ جسم میں جان پڑتی ہوئی نظر آنے لگی ہے قیادت اور کارکنان نے یک جان دو قالب بن کر کام کیا۔ انتخابی مہم چلائی لوگوں کو باہر نکالا۔ پیپلز پارتی کی شہلا رضا کی کارکردگی کے باعث عورتوں نے اسلم گل کو دل کھول کر ووٹ دئیے۔ 32000 ووٹ تھوڑے نہیں ہیں پنجاب میں اور پھر لاہور میں مسلم لیگ (ن)کے ایک موروثی حلقے میں پیپلز پارٹی کے کارکن امیدوار کا اتنے ووٹ لینا یقینا حیرت انگیز سیاسی وقوعہ ہے، جس کے آئندہ انتخابات میں اثرات دیکھے جا سکتے ہیں۔ شرط یہ ہے کہ پیپلز پارٹی فیصلے کیا کرتی ہے اور کیسے کرتی ہے۔ 

مزید :

رائے -کالم -