لاہور کا ضمنی انتخاب، پیپلزپارٹی خوشی سے نہال

 لاہور کا ضمنی انتخاب، پیپلزپارٹی خوشی سے نہال
 لاہور کا ضمنی انتخاب، پیپلزپارٹی خوشی سے نہال

  

لاہور کے ضمنی انتخاب میں پیپلزپارٹی کی عمدہ پرفارمنس کے بعد آصف علی زرداری بھی خوشی سے نہال ہیں۔ بلاول ہاؤس لاہور میں انہوں نے جیالوں کے ساتھ ایک تقریب برپا کی تو اس میں وہی آصف علی زرداری نظر آئے جو کہا کرتے تھے، میں ان سب کو دیکھ لوں گا۔ اب بھی انہوں نے کہا ہے آپ اسی طرح محنت اور جذبے سے کام کریں، پاکستان سنبھالنا میر اکام ہے۔ یہ شاید اپنی نوعیت کا پہلا موقع ہے کہ جب الیکشن ہارنے والی جماعت اس پارٹی سے زیادہ جشن منا رہی ہے، جس نے انتخاب جیتا ہے۔ لاہور جیسے شہر میں جہاں پیپلزپارٹی تقریباً ختم ہو چکی تھی، 32ہزار ووٹوں نے پیپلزپارٹی کا ایسا ڈنکا بجایا ہے کہ سب حیران و پریشان ہیں، حیران خود پیپلزپارٹی والے ہیں اور پریشان اس کے مخالفین ہیں۔ عام انتخابات کے پانچ ہزار ووٹوں کے مقابلے میں چھ گناہ زیادہ ووٹ لے کر پیپلزپارٹی نے مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف دونوں کے لئے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے، یہ وہ جماعت ہے جب اس کی لہر چلتی ہے تو پھر چلتی ہی چلی جاتی ہے۔ توقع کی جا رہی تھی کہ قومی حلقہ 133 میں ایک یکطرفہ مقابلہ ہو گا۔ مسلم لیگ (ن) اپنی ہی نشست ایک بڑے مارجن سے جیت جائے گی۔ یک طرفہ مقابلے کی امید اس لئے بھی کی جا رہی تھی کہ تحریک انصاف میدان میں نہیں تھی، جو گزشتہ عام انتخابات میں اس حلقے سے دوسری بڑی جماعت بن کر ابھری تھی، مگر مقابلہ تو خاصا جاندار ثابت ہوا اور اسلم گل نے پیپلزپارٹی کے امیدوار کی حیثیت سے اس مقابلے میں حقیقی طور پر جان ڈال دی۔

ویسے تو کسی ایک حلقے کے انتخاب سے یہ اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے کہ سیاسی ہوا کدھر کو چل رہی ہے۔ یہ بات بھی حتمی طور پر نہیں کی جا سکتی ایک حلقے کے نتیجے سے مجموعی طور پر عوام کا رجحان کس سمت میں جا رہا ہے۔ تاہم لاہور ایک ایسا شہر ہے  جس کی سیاسی سمجھ بوجھ اور سیاسی شعور باقی سب شہروں سے زیادہ ہے۔ پھر پیپلزپارٹی کے لئے یہ شہر گزشتہ کئی برسوں سے ایک اجنبی شہر بنا ہوا ہے۔ یہاں مسلم لیگ (ن) نے ایسا قبضہ جمایا ہے جو ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ کہا یہ بھی جاتا ہے کہ نوازشریف اور شہبازشریف نے اپنے ادوارِ اقتدار میں سب سے زیادہ توجہ بھی اسی شہر پر مرکوز رکھی، پھر صوبے کے وسائل  لاہور پر خرچ کئے اس لئے لاہوری ان کے سوا کسی اور طرف دیکھتے ہی نہیں۔ تحریک انصاف بھی مسلم لیگ (ن) کے اس ”قبضے“ کو عام انتخابات میں ختم نہیں کر سکی تھی۔ پیپلزپارٹی کا تو تقریباً اس شہر سے صفایا ہو گیا تھا۔ ایسے میں صرف 18فیصد ٹرن آؤٹ میں پیپلزپارٹی کے امیدوار کا 32ہزار ووٹ لے جانا ایک بڑی تبدیلی کا اشارہ تو نظر آتا ہے۔ یہی وجہ ہے پیپلزپارٹی کے اکابرین بشمول آصف علی زرداسری اپنی اس شکست کو بھی فتح کے طور پر منا رہے ہیں۔ ان کے لئے یہ فتح کا پہلا قدم ہے جو آگے چل کر منزل کی نوید ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کا پیپلزپارٹی کو سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا وہ اس تاثر کو ختم کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے کہ صرف سندھ کی جماعت ہے۔ پنجاب کے دل لاہور میں اپنا ووٹ بنک ظاہر کرکے پیپلزپارٹی نے اپنے وجود کا احساس دلایا ہے۔

مسلم لیگ (ن) کی طرف سے یہ الزام لگایا جا رہا ہے پیپلزپارٹی ووٹوں کی خریداری میں ملوث رہی ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے اسے ٹی ایل پی اور ڈاکٹر طاہر القادری کی حمایت بھی حاصل تھی، یہ تک بھی کہہ دیا گیا تحریک انصاف کا ووٹ بھی اسلم گل کو ملا، تاہم یہ سب باتیں اس ایک حقیقت کو نہیں جھٹلا سکتیں کہ پیپلزپارٹی کا ووٹ بنک بڑھا اور مسلم لیگ (ن) کا کم ہوا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کو سوچنا چاہیے اس کے ووٹ آدھے کیوں کم ہو گئے ہیں۔ کیا ان آدھے ووٹوں ہی سے پیپلزپارٹی نے اپنے ووٹ بنک کو بڑھایا ہے۔ اگر ایسا ہے تو پھر یہ بھی مسلم لیگ (ن) کے لئے باعثِ تشویش امر ہونا چاہیے۔ حقیقت اس کے برعکس یہ ہے۔مسلم لیگ (ن)  نے اس حلقے میں ڈھنگ سے الیکشن مہم ہی نہیں چلائی۔ یہ سمجھ لیا گیا کہ سیٹ اپنی ہے آسانی سے جیت جائیں گے۔ جیت جانا مقصد نہیں ہونا چاہیے تھا، اصل بات یہ تھی کہ ووٹرز اس کے نام پر باہر نکلے یا نہیں۔ اگر آپ 90ہزار سے 46ہزار پر آ جاتے ہیں اور پیپلزپارٹی 5ہزار سے 32ہزار پر چلی جاتی ہے تو اصل جیت کس کی ہوئی؟ مسلم لیگ (ن)  کی قیادت کو یہ سوچنا پڑے گا اس کے آدھے ووٹرز گھروں سے کیوں نہیں نکلے، کیا انہیں نوازشریف کے بیانیہ سے اختلاف ہے؟ کیا وہ سمجھتے ہیں مسلم لیگ (ن) اب قومی معاملات میں کردار ادا کرنے کے قابل نہیں رہی؟ کیا ان کی امیدیں دم توڑ گئی ہیں؟ یا پھر کرپشن کے الزامات نے ان کی سوچوں کا رخ تبدیل کر دیا ہے؟

لاہور کے ضمنی انتخاب کا نتیجہ ملکی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔ اس وقت عوام کے ذہنوں میں بھی یہ سوال کلبلا رہا ہے کہ موجودہ حکومت کی ناکامیوں کے بعد اگلا دور کس جماعت کا ہونا چاہیے۔ اس حوالے سے عوام گومگو کی کیفیت کا شکار ہیں۔ اگلے ڈیڑھ برس میں موجودہ حکومت کوئی بڑا معجزہ دکھانے میں کامیاب رہی اور اس نے معاشی حالات کو بہتر کر دیا تو شاید اس کے بارے مین عوام کی رائے بدل جائے، تاہم موجودہ حالات میں لوگوں کے لئے اس حکومت کو مزید وقت دینا ممکن نظر نہیں آتا۔ اس کی وجہ آئے روز بڑھنے والی مشکلات ہیں، جنہوں نے ایک عام آدمی کو اذیت میں مبتلا کر رکھا ہے۔ اس حکومت نے عوام کی امیدیں دم تر رہی ہیں۔ اس وقت اگر کسی کو کہیں کے اگلے پانچ برس بھی عمران خان حکومت کریں گے تو وہ مرنے مارنے پر تل جاتا ہے۔ دوسری طرف مسلم لیگ (ن) کے بارے میں عوام کی رائے یہ ہے وہ ایک بے سمتی اور انتشار کا شکار نظر آتی ہے۔ اسے اپنے دو بیانیے لے ڈوبے ہیں۔ اگرچہ بعض خوش فہم مسلم لیگیوں کا خیال ہے اسٹیبلشمنٹ سے نوازشریف کے بیک ڈور رابطے جاری ہیں، مگر حالات کو نوازشریف اور مریم نواز نے جس سطح تک پہنچا دیا ہے، وہاں سے یہ بات بالکل ہی ناممکن نظر آتی ہے۔ ایک شہبازشریف ایسا کردار ہیں جو اسٹیبلشمنٹ اور مسلم لیگ (ن)  کے درمیان پیدا ہونے والی خلیج کو پُر کر سکتا ہے، مگر اس کے لئے انہیں بہت کچھ قربان کرنا پڑے گا، حتیٰ کہ اپنے بھائی کی محبت بھی،جو ظاہر ہے اتنی آسان بات نہیں۔

ایسے ہی تیسرے آپشن کے طور پر پیپلزپارٹی ہی بچتی ہے، اگر پیپلزپارٹی خصوصاً پنجاب میں اپنی کھوئی ہوئی مقبولیت حاصل کر لیتی ہے، اسے وسطی اور جنوبی پنجاب میں اپنا کھویا ہوا ووٹ بنک واپس مل جاتا ہے تو اسٹیبلشمنت کو بھی مجبوراً اس کے بارے میں سوچنا پڑے گا۔ ویسے بھی ایک عرصے سے پیپلزپارٹی خود کو اسٹیبلشمنٹ کے لئے قابلِ قبول بنانے پر توجہ دے رہی ہے۔ پی ڈی ایم سے علیحدگی، نوازشریف کے بیانیے سے دوری اور عمران خان کو سلیکٹڈ کی بجائے نااہل کہنے کی تبدیلی، اس بات کوظاہر کرتی ہے بلاول بھٹو زرداری کو اسٹیبلشمنٹ کے قریب کرنے کی بھرپور کوششیں جاری ہیں۔ اس لئے لاہور میں پیپلزپارٹی کی یہ کارکردگی ایک بڑی سیاسی تبدیلی کی شروعات بن سکتی ہے۔ آصف علی زرداری کی اس حوالے سے خوشی بھی ظاہر کرتی ہے وہ مستقبل کے امکانات کو پیپلزپارٹی کے حق میں بدلتا دیکھ رہے ہیں، کیونکہ سیاسی طور پر ان سے زیادہ جہاندیدہ فی الوقت کوئی نہیں۔

مزید :

رائے -کالم -