سانحہ سیالکوٹ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے

سانحہ سیالکوٹ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے
سانحہ سیالکوٹ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے

  

سیالکوٹ میں سری لنکن مینجر کی ہلاکت کے بعد ملک میں امن و امان کی صورتحال کو آپ تسلی بخش قرار نہیں دے سکتے ،وزیر اعظم عمران خان نے  امن و امان کے ایک اجلاس میں آئندہ اس قسم کے واقعات کی روک تھام کے لیے جامع حکمت عملی بنانے پر بھی زور دیا ہے اور کہا ہے کہ سانحہ سیالکوٹ کی وجہ سے پوری قوم کے سر شرم سے جھک گئے ہیں ایسا معلوم ہورہا ہے کہ ہمیں کسی دشمن کی ضرورت نہیں ہم خود ہی اپنی دشمنی کیلئے کافی ہیں سر ی لنکا ہمیشہ  جو ہمیشہ پاکستان کا دوست ملک رہا ہے،سری لنکن مینجر کی ہلاکت سے سری لنکا میں کیا پیغام گیا؟ کیا بیوہ، دو بچے، بھائی اور والدین اس سانحہ کو بھلا سکیں گے؟ معلوم ہوا ہے کہ چند دن بعد ایک بڑے برانڈ کے مانیٹرز نے فیکٹری کا وزٹ کرنا تھا، سری لنکن مینیجر نے اپنی ڈیوٹی سمجھتے ہوئے دیوراوں سے کاغذ اور مشینوں سے جھنڈے اتروا دئیے تھے اور اس کا یہ جرم ہی ناقابل معافی جرم ثابت ہوا اور اس جرم کی پاداش میں ہی  وہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا، فیکٹری ملازمین کے مطابق سری لنکن مینیجر صبح سے صفائی کے کام میں مصروف تھا وہ اپنی ڈیوٹی کے معاملے میں سخت تھا اور یہ ایک حقیقت ہے کہ لوگ سخت مینیجرز کو پسند نہیں کرتے یہ وہ حقائق ہیں جن کو جان کر ہم فیصلہ کر سکتے ہیں کہ یہ واقعہ کیوں پیش آیا ہے،مشتعل افراد کا دعویٰ ہے کہ مقتول نے مذہبی جذبات مجروح کیے تھے۔ مشتعل ملازمین نے فیکٹری میں توڑ پھوڑ بھی کی، وزیرآباد روڈ کو بلاک کرکے منیجر کی لاش کو سڑک پر گھسیٹا اور آگ لگا دی۔ ہماری پولیس معمول کے مطابق اس وقت پہنچی جب مشتعل ہجوم اپنا کام مکمل کرچکا تھا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پولیس موقع پر پہنچ کر ہجوم میں موجود افراد کا گھیراؤ کرتی، لیکن پولیس خاموش تماشائی بنی رہی اور ہجوم کی طرف دیکھتی رہی، جب کہ پورے پاکستان میں ہم دیکھتے ہیں کہ اکثر واقعات میں پولیس کارروائی کا فیصلہ کرنے یا کارروائی کرنے میں اتنی دیر لگاتی ہے کہ حادثہ اور سانحہ ہوچکا ہوتا ہے اور پھر لکیر پیٹتی ہے کہ اس واقعے کے بعد دہشت گردی میں ملوث 100 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا گیا  مقدمہ بھی درج کرلیا گیا ہے جس میں انسدادِ دہشت گردی کی دفعات شامل ہیں۔ حقیقت میں یہ واقعہ سیالکوٹ پولیس کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے جنہوں نے وہاں پہنچنے میں تاخیر کی اور جب پہنچی تومشتعل ہجوم کو گرفتار نہ کرسکی،گرفتاریوں کا حکم کمانڈر نے جاری کرنا تھا اور کمانڈر نے ایسا کیوں نہیں کیا اس کی تحقیقات ہونی چاہیں،یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد آرپی او گوجرنوالہ نے وہاں پہنچ کر حالات پر قابو پایا،ایسے واقعات وقوع پزیر ہونے کے بعد جب تک ذمہ داران افسران کو سخت سزا نہیں دی جائے گی اس وقت تک پولیس کے مورال میں بہتری اور ایسے واقعات کو روکا نہیں جاسکتا سوشل میڈیا پر وائرل ہونیوالی ویڈیو اور نیوز چینل پر چلنے والی فوٹیج سے دیکھا جاسکتا ہے کہ سری لنکن مینجرکی لاش جب جلائی جارہی تھی تو وہاں ہجوم کے ساتھ پولیس اہلکاربھی نظر آرہے ہیں اور لاش کو آگ لگانے والے نیوز چینل کو کارروائی کی تفصیلات بتارہے تھے توجہ طلب بات یہ ہے کہ سیالکوٹ پولیس کا بروقت کارروائی نہ کرنا وہاں کی انتظامیہ کی کارکردگی اور فیصلہ سازی پر سوالیہ نشان ہے،پولیس زرائع کے مطابق آرپی او گوجرانوالہ عمران احمر وقوعہ کی اطلاع ملتے ہی فوراً سیالکوٹ کی جانب بھاگ نکلے اور وہ راستے میں مسلسل فون کرکے ڈی پی او کو یہ حکم دیتے رہے کہ سری لنکن کی موت کے ذمہ داربھاگ نہ پائیں انھیں فوری گرفتار کرلیا جائے مگر ڈی پی او نے ان کی بات سنی ان سنی کردی۔ اس واقعے میں ایک اور قابلِ نوٹ بات یہ ہے کہ نشانہ بننے والے شخص کا تعلق سری لنکا سے تھا اور اس سے قبل 2009ء  میں بھی سری لنکن ٹیم پر لاہور میں حملہ ہوا تھا جو ’را‘ نے کرایا تھا۔ یہ پہلو بھی اہم ہے کہ بھارت اور ’را‘ کی ضرورت اور خواہش ہے کہ پاکستان کو خطرناک ریاست کے طور پر پیش کیا جائے اور دنیا بھر میں اسے بدنام کیا جائے۔ لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ سماجی بے حسی اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ ہجوم میں سے کسی نے مشتعل افراد کو روکنے کی کوشش نہیں کی۔ کچھ لوگ تشدد کی وڈیو بناتے اور سیلفیاں لیتے رہے، کچھ افراد لاش پر بھی ڈنڈے برساتے رہے، باقی ہجوم خاموش تماشائی بنارہا۔ کوئی بھی ان لوگوں کو تشدد اور لاش کو جلانے سے روکنے والا نہیں تھا۔ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے، ماضی میں سیالکوٹ میں ہی ہجوم کے ہاتھوں 2 بھائیوں کا قتل سمیت یوحنا آباد میں گرجا گھروں پر خودکش حملوں کے بعد دہشت گردوں کے ساتھی ہونے کے شبہ میں 2 معصوم شہریوں کو تشدد کرکے جلادیا گیا تھا۔۔ ہجومی تشدد کے بڑھتے واقعات انصاف کے تباہ حال نظام اور ایسے بدترین معاشرے کی نشان دہی کرتے ہیں جہاں جنگل کا قانون ہو اور ریاست کا کوئی وجود نہ ہو۔ 

مزید :

رائے -کالم -