آئین کی اسلامی شقوں سے چھیڑخانی قابل قبول نہیں،علماء

آئین کی اسلامی شقوں سے چھیڑخانی قابل قبول نہیں،علماء

  

لاہور(نمائندہ خصوصی) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات مولانا عزیز الرحمن ثانی، پیررضوان نفیس، مولانا علیم الدین شاکر، قاری جمیل الرحمن اختر، مولانا عبدالنعیم، حافظ محمداشرف گجر، مولانا خالد محمود، قاری ظہورالحق نے مختلف مقامات پر تحفظ ختم نبوت اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ عالمی طاقتوں کے دباؤ پرآئین کی اسلامی شقوں سے چھیڑخانی قابل قبول نہیں عقیدہ ء ختم نبوت پر کسی قسم کی کوئی لچک نہیں دکھائی جائے گی۔علماء نے کہا کہ ہم قادیانیوں اور انکے آلہ کاروں کی ہرہرسازش سے باخبرہیں اورمجلس تحفظ ختم نبوت ا پنے اسلاف کے نقش قدم پرچلتے ہوئے تحفظ ختم نبوت کے محاذ پر ڈٹی ہوئی ہے۔انہوں نے کہاکہ مجلس تحفظ ختم نبوت نے روز قیام سے عدم تشدداور آئین پر عمل کی پالیسی پر کاربند ہے۔انہوں نے کہاکہ محاسبہ قادیانیت ہماری وراثت ہے اوریہی وراثت ہماری پہچان ہے امت مسلمہ کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ مسلمانوں نے عقیدہ ء ختم نبوت پر کبھی بھی سمجھوتہ نہیں کیا۔انہوں نے کہاکہ پاکستان بنتے وقت ضلع گور داسپور کو پاکستان کی بجائے انڈیا میں رکھنے کا فیصلہ قادیانی سازش کا حصہ ہے اور قادیانی 1930ء سے کشمیر کیخلاف سازشیں کررہے ہیں۔ 

پاکستان کی بنیاد کلمہ طیبہ ہے اور قیام پاکستان سے اب تک قادیانیت پاکستان کی بنیادوں کو کمزور کرنے کے لیے کوشاں ہے۔انہوں نے کہاکہ ختم نبوت کے قوانین کے خاتمہ کے لیے قادیانیوں کے ذریعے خطرناک سازشیں ہورہی ہیں۔انہوں نے کہاکہ دینی قوتوں کے اتحاد کے نتیجے میں سیکولر قوتوں کو شکست دی جاسکتی ہے جب امت متحد ہوتی ہے تو فتنے ختم ہوجاتے ہیں بڑی قربانیوں کے بعد 1974ء  میں ختم نبوت کا پارلیمنٹ میں دفاع کیاگیا اوریہ قانون ان شاء  اللہ تعالیٰ ہمیشہ قائم رہے گا۔

مزید :

میٹروپولیٹن 4 -