شوکت صدیقی کیخلاف ریفر نسز کی تفصیل پیش: ملازمین کو نکالنے کا عمل درست قرار دے چکے: سپریم کورٹ 

شوکت صدیقی کیخلاف ریفر نسز کی تفصیل پیش: ملازمین کو نکالنے کا عمل درست قرار ...

  

 اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ آف پاکستان نے ملازمین برطرفی نظرثانی کیس میں کہا ہے کہ سپریم کورٹ ایک فیصلے میں قرار دے چکی ہے ملازمین کو نکالنے کا عمل درست تھا۔ منگل کو ملازمین برطرفی نظرثانی کیس کی سماعت جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجربنچ نے کی۔وکیل ایس این جی پی ایل وسیم سجاد نے کہاکہ جسٹس منصور علی شاہ کی طرف سے پوچھے گئے سوال کا جواب دینا چاہتا ہوں۔ انہوں نے کہاکہ سینئر سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی حد عمر ساٹھ سال ہے، سینئر سرکاری ملازم دس سال تک سروس کرے تو وہ پنشن کا حقدار ہوتا ہے، جونیئر سرکاری ملازم کی ریٹائرمنٹ کی عمر 58 سال ہے، جونیئر سرکاری افسر پندرہ سال تک سروس کرے تو وہ پنشن کا حقدار ہوتا ہے۔ وکیل آئی بی اعتزاز احسن نے کہاکہ نومبر انیس سو چھانویں میں صدر فاروق لغاری نے قومی اسمبلی تحلیل کرکے بے نظیر بھٹو کی حکومت ختم کر دی تھی، اس کے بعد نگران حکومت نے اپنی مدت کی تکمیل سے ایک دن پہلے آئی بی ملازمین کو بغیر شوکاز نوٹس دئیے نوکریوں سے نکال دیا، پھر نواز شریف دو تہائی اکثریت سے اقتدار میں آئے۔ جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہاکہ نگران حکومت نے نوکریوں سے درست نکالا یا غلط؟ یہ فیصلہ ہو چکا ہے، ہم نظرثانی کیس میں اس معاملے کو نہیں دیکھ سکتے۔ جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہاکہ ملازمین کے حق میں پہلے آرڈیننس بعد میں ایکٹ آیا،آپ اس پر دلائل دیں۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ سپریم کورٹ ایک فیصلے میں قرار دے چکی ہے ملازمین کو نکالنے کا عمل درست تھا۔ اعتزاز احسن نے کہاکہ سپریم کورٹ دو فیصلوں میں اصول طے کر چکی ہے،نگران حکومت ملازمتیں دینے یا نوکریوں سے نکالنے کا اختیار نہیں رکھتی، میرے کیس میں آرڈیننس یا ایکٹ کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ جسٹس قاضی محمد امین نے کہاکہ پھر تو آپ کا نظرثانی کیس ہی نہیں بنتا۔اعتزاز احسن نے کہاکہ آئی بی ملازمین نے آرڈیننس کے اجراء کے بعد بھی دس سال تک ملازمت کی۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ فرض کریں ایک شخص کی بھرتی غیر آئینی قرار دے دی جائے، کیا دس سال ملازمت کرنے پر وہ مراعات کا حقدار ہوگا؟۔ اعتزاز احسن نے کہاکہ سپریم کورٹ کا اس حوالے سے فیصلہ موجود ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ غیر آئینی بھرتی ہونے والا شخص دس سال تک ملازمت کرنے پر دیگر مراعات کا حقدار ہوگا؟۔ اعتزاز احسن نے کہاکہ آئی بی کے ملازمین کو بغیر سنے نوکریوں سے نکالا گیا، آئی بی ملازمین کی بھرتیوں کو کسی نے کبھی چیلنج ہی نہیں کیا،ملازمین کی بحالی کیلئے بنایا گیا ایکٹ فائدہ پہنچانے کیلئے قانونی سازی ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ پھر ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے، صرف  1993 اور 1996 کے ملازمین کیلئے ہی کیوں قانون سازی کی گئی، کیا اس وقت جنگی ماحول تھا یا ملک کسی وباء کی لپیٹ میں تھا، پہلے بھی ہزاروں ملازمین کو غلط یا درست طریقے سے نوکریوں سے نکالا گیا، 1947 سے ملازمین کو نوکریوں کو نکالے جانے کا عمل جاری ہے۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ ایسی کیا خاص بات تھی جو 1993 سے 1996  کے دوران ملازمین کو بحال کرنے کیلئے قانون بنایا گیا۔ اعتزاز احسن نے کہاکہ نگران حکومت نے بدنیتی کے زریعے ملازمین کو نوکریوں سے نکالا، سپریم کورٹ کے ایک سترہ رکنی فل کورٹ بنچ نے پارلیمنٹ کی بالادستی کو تسلیم کیا۔ اعتزاز احسن نے کہاکہ یہ اس دور کی بات ہے جب بڑے بڑے عدالتی بنچز بنتے تھے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیا سپریم کورٹ ایکٹ آف پارلیمنٹ کو کالعدم قرار دے سکتی ہے۔ اعتزاز احسن نے کہاکہ سپریم کورٹ کو اختیار حاصل ہے لیکن ایکٹ کو محفوظ بنانے کی کوشش کرنی چاہیے، اگر ایکٹ آف پارلیمنٹ بنیادی حقوق سے متصادم ہو تو اسے کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے۔ اعتزاز احسن نے کہاکہ کسی قانون کو کالعدم قرار دینے کا اطلاق مستقبل پر ہوتا ہے،اگر ایکٹ آف پارلیمنٹ کو کالعدم قرار دے دیا جائے تو اسکا اطلاق ماضی سے نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہاکہ قانون کو کالعدم قرار دینے سے ماضی کی بھرتیاں اثرانداز نہیں ہو سکتیں۔ اعتزاز احسن نے کہاکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی تشکیل سپریم کورٹ میں چیلنج ہوئی تھی، سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کی تشکیل غیر آئینی قرار دے دی تھی۔ اعتزاز احسن نے کہاکہ سپریم کورٹ نے فیصلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھرتی ہونے والے ملازمین کو نہیں نکالا تھا،بلکہ تحفظ دیا گیا، سپریم کورٹ نے فیصلے میں لکھا بھرتی کیے گئے ملازمین کو سرکار سرپلس پول میں شامل کرے۔ اعتزاز احسن نے کہاکہ سپریم کورٹ نے ججز پنشن کیس میں بھی مراعات کو تحفظ دیا تھا۔ جسٹس عمر عطاء بندیا لنے کہاکہ نگران حکومت نے نوکریوں سے درست نکالا یا غلط؟ یہ فیصلہ ہو چکا ہے، ہم نظرثانی کیس میں اس معاملے کو نہیں دیکھ سکتے۔ جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہاکہ ملازمین کے حق میں پہلے آرڈیننس بعد میں ایکٹ آیا،آپ اس پر دلائل دیں۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ سپریم کورٹ ایک فیصلے میں قرار دے چکی ہے ملازمین کو نکالنے کا عمل درست تھا۔ وکیل اعتزاز احسن نے کہاکہ سپریم کورٹ دو فیصلوں میں اصول طے کر چکی ہے نگران حکومت ملازمتیں دینے یا نوکریوں سے نکالنے کا اختیار نہیں رکھتی،میرے کیس میں آرڈیننس یا ایکٹ کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ جسٹس قاضی محمد امین نے کہاکہ پھر تو آپ کا نظرثانی کیس ہی نہیں بنتا۔ اعتزاز احسن نے کہاکہ آئی بی ملازمین نے آرڈیننس کے اجراء کے بعد بھی دس سال تک ملازمت کی۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ فرض کریں ایک شخص ہی بھرتی غیر آئینی قرار دے دی جائے، کیا دس سال ملازمت کرنے پر وہ مراعات کا حقدار ہوگا؟۔ اعتزاز احسن نے کہاکہ سپریم کورٹ کا اس حوالے سے فیصلہ موجود ہے۔ جسٹس منصورعلی شاہ نے کہاکہ کیا غیر آئینی بھرتی ہونے والا شخص دس سال تک ملازمت کرنے پر دیگر مراعات کا حقدار ہوگا؟پہلے بھی ہزاروں ملازمین کو غلط یا درست طریقے سے نوکریوں سے نکالا گیا،1947 سے ملازمین کو نوکریوں کو نکالے جانے کا عمل جاری ہے۔ اعتزاز احسن نے کہاکہ اگر ایکٹ آف پارلیمنٹ بنیادی حقوق سے متصادم ہو تو اسے کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے، کسی قانون کو کالعدم قرار دینے کا اطلاق مستقبل پر ہوتا ہے، اگر ایکٹ آف پارلیمنٹ کو کالعدم قرار دے دیا جائے تو اسکا اطلاق ماضی سے نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہاکہ قانون کو کالعدم قرار دینے سے ماضی کی بھرتیاں اثرانداز نہیں ہو سکتیں، سپریم کورٹ نے ججز پنشن کیس میں بھی مراعات کو تحفظ دیا تھا، عدالت سے شکوہ ہے کہ ملازمین کو سنے بغیر فیصلہ دیا گیا،وکیل آئی بی افسران اعتزاز احسن نے دلائل مکمل کرلئے۔سوئی ناردرن گیس کمپنی اور اسٹیٹ لائف انشورنس ملازمین کے وکیل لطیف کھوسہ نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ 1993 سے 1996 کے درمیان یہ ملازمین بھرتی ہوئے، عبوری حکومت نے ایگزیکٹو آرڈر سے تمام بھرتی ملازمین کو 1997 میں برطرف کر دیا تھا، برطرف ملازمین نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تو کچھ ملازمین کو بحالی ملی۔ جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہاکہ جو آپ 2003 کے فیصلے میں حاصل نہیں کر سکے وہ آپ کو 2010 میں بحالی ایکٹ سے مل گیا، جب سپریم کورٹ نے پہلے بحال نہیں کیا تو اب کیا جواز ہے؟ایک اور لارجر بنچ میں جانا ہے اس کیس کو (آج) بدھ کو پھر سنیں گے۔ بعد ازاں  کیس کی سماعت (آج) بدھ تک ملتوی کر دی گئی۔

بحالی کیس

 اسلام آباد(آن لائن)سابق سینئر جج اسلام آباد ہائی کورٹ شوکت عزیز صدیقی برطرفی کیس میں سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس عمر عطاء بندیال نے آبزرویشنز دی ہیں کہ فیصلے میں شوکت صدیقی نے حاضر سروس افسران پر بغیر نوٹس آبزرویشنز دیں،کس طرح فاضل جج نے اپنے اختیار سے تجاوز کیا۔جب آرمی اور اس کے حاضر سروس افسران کے خلاف شکایت نہیں تھی تو کیا جج نے ازخود نوٹس لیا؟کیا ہائیکورٹ کو ازخود نوٹس لینے کا اختیار تھا؟فاضل جج نے حکم میں کہا کہ جو عمل کیا گیا وہ غیر قانونی ہے،جس حاضر سروس افسر کے بارے میں کہا کہ غیر قانونی عمل کیا،پھر وہی آرمی افسر آپ کے گھر میں بیٹھا تھا، کیوں؟ بعد میں اسی ملاقات کو دوسرا رنگ دینے کی کوشش کی گئی؟درخواست گزار نے تقریر میں حدود سے تجاوز کیا، تقریر کرنے پر شوکاز آیا، تقریر نا ہوتی تو شوکاز نوٹس نا ہوتا،جج کی بار یا پبلک فورم پر تقریر حدود و قیود میں ہوتی ہیں،جج کا کام نہیں کہ اداروں یا حکومت کی تحقیر شروع کر دے،   جج ملک کی خارجہ پالیسی پر تقریر نہیں کر سکتا۔کیس کی سماعت جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ نے کی۔دوران سماعت شوکت عزیز صدیقی کے وکیل حامد خان نے دلائل دئیے ہیں کہ پہلے ریفرنس میں موکل پر سرکاری رہائش پر حد سے زیادہ اخراجات کا الزام لگایا گیا،پہلے ریفرنس پر16 جولائی 2016 کو شوکاز جاری ہوا،31 جولائی کو تقریر والے معاملہ پر شوکاز نوٹس جاری کر دیا گیا،فیض آباد دھرنے کیس کے حکمناموں پر موکل کیخلاف دو ریفرنس دائر ہوئے،یہ وہ تما کڑیاں ہیں جو ریکارڈ پر لانی ہیں،فیض آباددھرنہ کیس میں ٹی ایل پی دھرنے کو پیریڈ گراؤنڈ منتقل کرنے کا حکم دیا،اس حکم کی وجہ سے میرے موکل کو ان حالات کا سامنا کرنا پڑا،دھرنے میں اعلی عدلیہ کے ججز کیخلاف توہین آمیز زبان استعمال ہوئی،شوکت صدیقی نے ٹی ایل پی کیساتھ معاہدہ پر جنرل کے دستخط پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کیا،تحریک لبیک کی شکایت تھی کہ الیکشن ایکٹ میں کی گئی ترمیم واپس لی جائے، فیض آباد دھرنا معاہدے کے حوالے سے جسٹس شوکت صدیقی نے اپنے فیصلے میں دو نکات اٹھائے،معاہدے پر جنرل فیض کے بھی دستخط بھی تھے، کیس میں فاضل جج نے اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کیا تھا،کسی کیس میں اگر کوئی غیر قانونی بات سامنے آئے تو عدالت اس پر نوٹس لے سکتی ہے، سپریم جوڈیشل کونسل کے شوکاز نوٹسز پر کوئی کارروائی نہیں ہونے جیسا عمل بتاتا ہے کہ شوکت عزیز صدیقی کے خلاف فیصلہ دینے والی سپریم جوڈیشل کونسل آئی ایس آئی  کے کتنے زیر اثر تھی،میرے موکل نے عدلیہ کے حق میں بات کی،جسٹس ایم آر کیانی نے مارشل لاء  کے خلاف تقاریر کی تھیں،وکلاء  تحریک کے دوران چیف جسٹس نے بھی بار کونسلز میں جا کر تقاریر کیں،آئین کسی جج کو نکالنے سے پہلے انکوائری لازم قرار دیتا ہے، آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت الزامات کی انکوائری ضروری ہے،بغیر انکوائری جج کو نکالنے کی مثال بن گئی تو کسی بھی جج کو کسی بھی بنیاد پر کبھی بھی برطرف کر دیا جائے گا۔جسٹس عمر عطاء  بندیال نے ایک موقع پر وکیل حامد خان کی بات کاٹتے ہوئے  برہمی  کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خان صاحب آپ ایک سینئر وکیل ہیں ایسے نا کریں،ہم آپ کی عزت کرتے ہیں لیکن اب آپ نے باؤنڈری کو ہٹ کرنا شروع کر دیا ہے،برائے مہربانی اس طرح الزامات مت دھریں،ہم کہتے ہیں ہمارے فیصلوں کو جتنا چاہیں تنقید کا نشانہ بنائیں،فیصلوں کے پیچھے جا کر ججز پر الزامات نا لگائیں،ججز بول نہیں سکتے،ان کا کوئی پی آر او بھی نہیں ہوتا،میں بھی سپریم جوڈیشل کونسل کا ممبر ہوں،آپ  کے موکل نے تقریر عدلیہ کے خلاف کی، فوج کے خلاف کرتے تو پتا چل جاتا ان کا کتنا زور ہے۔جسٹس اعجازالاحسن نے  نے کہا کہ  بطور جج ایسی تقاریر کرنا ہمارا کام نہیں،سپریم جوڈیشل کونسل نے کہا کہ بطور ہائیکورٹ جج جو تقریر کی وہ مس کنڈکٹ ہے۔بعد ازاں کیس کی مزید سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی گئی۔حامد خان آئندہ سماعت پر بھی اپنے دلائل جاری رکھیں گے۔

شوکت صدیقی کیس

مزید :

صفحہ آخر -