رانا شمیم کو بیان حلفی جمع کرانے کیلئے پیر تک مہلت، جو بیان حلفی میں کہااس پر ثاقب نثار کا سامنا کرنے کو تیار ہوں: سابق چی جج

      رانا شمیم کو بیان حلفی جمع کرانے کیلئے پیر تک مہلت، جو بیان حلفی میں ...

  

 اسلام آ باد(سٹاف رپورٹر) اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے گلگت بلتستان کے سابق چیف جسٹس رانا شمیم کے سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے خلاف مبینہ حلف نامے سے متعلق کیس پر سماعت کی۔ سماعت کے دوران رانا شمیم، اخبار کے ایڈیٹر عامر غوری،  صحافی انصار عباسی، اٹارنی جنرل آف پاکستان خالد جاوید خان، ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نیاز اللہ نیازی اور دیگر عدالت پیش ہوئے، جبکہ اخبار کے چیف ایڈیٹر میر شکیل الرحمن کی طرف سے استثنی کی درخواست دائر کرتے ہوئے کہاگیاکہ طبیعت ناسازی کی وجہ سے عدالت پیش نہیں ہوسکتا۔ عدالت جب بھی ذاتی حیثیت میں طلب کریگی پیش ہونے کو تیار ہوں، عدالت نے میر شکیل الرحمن کی درخواست منظور کرتے ہوئے رانا شمیم سے استفسار کیاکہ آپ نے اپنا جواب جمع کرایا ہے،رانا شمیم نے کہاکہ میرے وکیل رستے میں ہیں وہ ابھی پہنچنے والے ہیں، عدالت نے استفسار کیاکہ آپ کے وکیل کہاں پر ہیں؟،معاون وکیل نے بتایاکہ جی ٹین اشارے پر ہیں وہ ابھی پہنچنے والے ہی ہوں گے، چیف جسٹس نے کہاکہ لطیف آفریدی صاحب کی بہت قربانیاں ہیں وہ اس عدالت کی جانب سے بھی معاون ہوں گے، رانا شمیم نے کہاکہ میں نے چار دن پہلے جواب دے دیا تھا،وکیل نے کہاکہ وہ ابھی عدالت میں لطیف آفریدی صاحب نے جمع کرانا ہے، عدالت نے فیصل صدیقی ایڈووکیٹ سے کہاکہ نیوز پیپر میں رپورٹنگ کا کیا معیار ہے کیونکہ انہوں نے گزشتہ سماعت پر کہا میں نے بیان حلفی ان کو نہیں دیا،کیا صرف اسی طرح سے ہی وہ نیوز پبلش کر سکتے ہیں، جس پر فیصل صدیقی ایڈووکیٹ نے رپورٹنگ کے معیار سے متعلق دلائل دئے ااور کہاکہ توہین عدالت کے حوالے سے سیکشن موجود ہے،عدالتی معاون فیصل صدیقی ایڈوکیٹ نے گزشتہ سماعت کا تحریری فیصلہ پڑھ کر سنایا اور کہاکہ یہاں دو اہم شخصیات ہیں جن کا ورژن نہیں لیا گیا،اس خبر میں نہ رجسٹرار ہائیکورٹ اور نہ ہی عدالت کا ورژن لیا گیا،حقائق کو چیک کئیے بغیر کیا ایمرجنسی تھی بیان حلفی یا خبر شائع کرنے کی،رانا شمیم نے کہا کہ بیان حلفی پرائیویٹ دستاویز تھی، میں نے شائع کرنے کا نہیں کہا، مگر سوال یہ ہے کہ اگر یہ بیان حلفیذاتی تھی تو صحافی سے سوال کیوں نہیں پوچھا گیا،عدالت نے کہاکہ ریما عمر صاحبہ آئی ہیں؟،انہوں نے بریف جمع کرایا تھا،ان پروسیڈنگ کی ٹرانسپیرنسی کے لیے انہیں عدالتی معاون بنایا تھا،چیف جسٹس نے کہاکہ رانا شمیم نے تین سال بعد ایک بیان حلفی کیوں دیا؟ کسی مقصد کے لیے ہو گا؟،یو کے کے کسی فورم پر جمع ہوا ہو گا، اسے کوئی لاکر میں تو نہیں رکھتا،عام عوام کو تاثر دیا گیا کہ اس عدالت کے ججز پر چیف جسٹس پاکستان نے دبا وڈالا،اس سٹوری شائع ہونے کی ٹائمنگ بھی بہت اہم ہے کیونکہ اپیل زیر سماعت ہے،چیف جسٹس نے کہاکہ لطیف آفریدی عدالت کی جانب بھی معاون ہیں،عدالت نے لطیف آفریدی سے کہاکہ میں نے آپ کے کلائنٹ سے پوچھا انہوں نے یوکے میں کیوں بیان حلفی دیا؟،اگر ان کا ضمیر جاگ گیا تھا تو کسی فورم پر جمع کرتے؟ مقصد کیا تھا؟ لاکر میں تو کوئی نہیں کرتا،میں آپ کو اس کیس کے حوالے بتانا چاہتا ہوں،اپیلیں یہاں پر زیر سماعت ہیں میرا کنسرن کسی اور کورٹ کے ساتھ نہیں بلکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ساتھ ہے،میں نے پروسیڈنگ اسی لیے شروع کیں کہ کسی کی ہمت نہیں کہ وہ اس ہائی کورٹ کے کسی جج کو اپروچ کر سکے،ہمارے فیصلے بولتے ہیں اس کی تفصیل میں نہیں جاں گا،آپ کے کلائنٹ نے ثابت کرنا ہے اس کا عمل بدنیتی پر مبنی نہیں تھا، برطانیہ میں بیان حلفی کیوں ریکارڈ کیاگیا، رانا شمیم نے بیان حلفی کہاں جمع کرانا تھا،لطیف آفریدی نے کہاکہ یہ پہلی بار نہیں ہوا کہ ججز پر ایسے الزامات لگائے گئے،چیف جسٹس نے کہاکہ آپ اس کیس کو رانا شمیم کے وکیل کی حیثیت سے نہیں عدالتی معاون کی حیثیت سے دیکھیں، لوگوں کا اعتماد اس عدالت پر ہے اٹھانے کی کوشش نہ کریں، مرحوم جسٹس وقار سیٹھ نے کبھی نہیں کہاکہ ان کو کسی نے پریشرائز کیا، ان کے فیصلے آج بھی زندہ نہیں، اس کیس کو توہین عدالت کا کیس نہ سمجھیں آپ کے موکل نے تین سال بعد اس عدالت پر انگلی اٹھائی، عدلیہ کی آذادی کیلئے ہمیشہ کوشش کی اور کرتا رہوں گا، چیف جسٹس نے کہاکہ ججز کے خلاف بیان بازی اور الزامات کا ایک نرٹیو بلڈ ہوگیا،ہم ججز کوئی پریس کانفرنس نہیں کرسکتے کہ اپنا موقف پیش کریں،ان ججز کو اسی طرح پریشرائز کیا جارہا ہے،سپریم کورٹ کے سیٹنگ،چیف۔جسٹس نے کہاکہ اٹارنی جنرل صاحب یہ جواب نہیں دے رہے تو کیا  کریں؟، رانا شمیم نے کہاکہ جواب ہم نے تیار کرلیا ہے اور میریکیل خود جمع کرائیں گے لطیف آفریدی نے کہاکہ جب سیاسی جماعتیں معاملات طے نہیں کر پاتیں تو عدالتوں کا رخ کرتی ہیں،رانا شمیم نے بیان حلفی سے انکار نہیں کیا،رانا شمیم نے بیان حلفی شائع ہونے کے لیے نہیں دیا،چیف جسٹس نے کہاکہ آپ بتا دیں کہ کیا اس ہائیکورٹ میں کوئی پرابلم ہے،لطیف آفریدی ایڈووکیٹ نے کہاکہ نہیں، ایسی کوئی بات نہیں، چیف جسٹس نے کہاکہ یہ بیانیہ ہائی کورٹ کو نقصان پہنچا رہا ہے،ڈاکومنٹ اس وقت کدھر ہے؟، لطیف آفریدی نے کہاکہ بیان حلفی برطانیہ میں ان کے گرینڈ سن کے پاس ہے،چیف جسٹس نے کہاکہ سابق جج نے کہا کہ انہوں نے بیان حلفی میڈیا کو دی ہی نہیں، کیسسز کے حوالے سے بیان حلفی کو ہمیشہ عدالتی ریکارڈ پر رکھا جاتا ہے،بیان حلفی کہیں نہ کہیں تو جمع ہونا تھا، وہ لاکر میں رکھنے کے لیے تو نہیں تھی،پاناما کیسسز ابھی بھی زیر سماعت ہیں،مجھے کسی اور عدالت کی فکر نہیں، مجھے اسلام آباد ہائی کورٹ کی فکر ہے،وکلا قیادت اور کورٹ رپورٹرز سے جج کا کوئی اقدام نہیں چھپ سکتا،مجھے میرے تمام ججز پر فخر ہے اور بھروسہ بھی، اس عدالت پر تین سال بعد انگلی اٹھائی گئی، لطیف آفریدی ایڈووکیٹ نے کہاکہ عدالت مہلت دے تاکہ وہ برطانیہ جا کر بیان حلفی لا سکیں، رانا شمیم کے گرینڈ سن کے پاس بیان حلفی ہے جسے ہراساں کیا گیا،اٹارنی جنرل نے کہاکہ انہوں نے جو یہ بات کی وہ بہت سیریس بات ہے،چیف جسٹس نے کہاکہ اوریجنل بیان حلفی پیر تک عدالت میں جمع کرائیں،اگر رانا شمیم نے یہ بیان حلفی کسی اور مقصد کے لیے بنایا ہے اور اشاعت کے لیے نہیں دیا تو اس کے نتائج ہوں گے  لطیف آفریدی نے کہاکہ بدقسمتی سے رانا شمیم کے خاندان میں تین اموات جلد ہوئیں،لندن جانے کی اجازت دیں تاکہ اصل بیان حلفی لیکر آئے،اس موقع پر عدالت نے رانا شمیم کو بیرون ملک جانے سے روک دیااور کہاکہ رانا شمیم کو بیرون ملک جانے کی وضررت نہیں، وہ بیرون میں نہیں جاسکتے،،عدالت نے رانا شمیم کو اصل بیان حلفی جمع کرانے کیلئے مہلت دیتے ہوئے کہاکہ پیر تک اصل بیان حلفی جمع نہ کرایا تو چارج فریم ہوگا اور سماعت پیر13 دسمبر تک کیلئے ملتوی کردی گئی۔دریں اثناسابق چیف جج رانا شمیم نے شوکاز نوٹس کا جواب جمع کرا دیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ جو کچھ بیان حلفی میں کہا اس پر ثاقب نثار کا سامنا کرنے کو تیار ہوں، بیان حلفی پبلک نہیں کیا، توہین عدالت کی کارروائی نہیں ہو سکتی۔ رانا شمیم نے اپنے جواب میں مزید کہا کہ اپنی زندگی میں بیان حلفی پبلک نہیں کرنا چاہتا تھا، برطانیہ میں بیان ریکارڈ کرانے کا مقصد بیان حلفی کو بیرون ملک محفوظ رکھنا تھا، مرحومہ بیوی سے وعدہ کیا تھا حقائق ریکارڈ پر لاں گا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ

مزید :

صفحہ اول -