کھاد بحران، ڈیلر کا شتکاروں کو بلیک میل کرنے میں سب سے آگے 

کھاد بحران، ڈیلر کا شتکاروں کو بلیک میل کرنے میں سب سے آگے 

  

 راجن پور،کرم پور،احمد پورشرقیہ،حاصل پور(ڈسٹرکٹ رپورٹر، نا مہ نگار،نمائندہ پاکستان،سٹی رپورٹر)یوریا کھاد کی فراہمی و نرخ کو چیک کرنے کیلئے محمدآصف ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت (توسیع) راجن پورنے کوٹلہ نصیر اور کوٹ مٹھن میں کھاد مارکیٹ کا دورہ کیا اور کھاد ڈیلران کا ریکارڈ چیک کیا اور ہدایت کی کہ تمام ڈیلران کھاد کا سٹاک رجسٹر مکمل کریں۔ ریٹ لسٹ نمایاں جگہ پر آویزاں کریں۔ کاشتکاروں کو کیش میمو(بقیہ نمبر29صفحہ7پر)

 جاری کریں۔ مزید براں انہوں نے کہا کہ مہنگے داموں کھاد فروخت کرنے والے ڈیلران کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس موقع پر کھاد ڈیلر کو مہنگے داموں کھاد فروخت کرنے پر مبلغ بیس ہزار روپے جرمانہ کیا گیا۔کسان اتحاد کے 20دسمبر لاہور کے احتجاجی دھرنے میں پورے پنجاب سمیت پاکستان بھر سے کسانوں کے قافلے شرکت کریں گے۔ پاکستان زرعی ملک ہے۔پاکستان میں کسانوں کو کھادیں نہ ملنا افسوس ناک ہے۔ ڈیلر حضرات کو محکمہ زراعت کی خوشنودی حاصل ہے۔محکمہ زراعت کا عملہ چمک کے کمال پر فرضی دورے اور ریکارڈ چیک کرتاہے۔کسانوں کی تذلیل کی جارہی ہے،اور الٹا کسانوں کو بلیک میل کیا جارہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار مرکزی۔جنرل سیکرٹری کسان اتحاد محمد افتخار احمد چوہدری ایڈووکیٹ نے جنوبی پنجاب کے دورہ کے دوران کرم پور پریس کلب میں کیا  انہوں نے کہاکہ 20دسمبر کے احتجاجی دھرنا میں پاکستان بھر سے کسانوں کے قافلے شامل ہوں گے  اور پنجاب بھر کے کسان کو مہنگی اور بلیک میں کھادیں مل رہی ہیں۔ فاٹا،آزاد کشمیر اور گلگت بلستان سے بھی کسانوں کے قافلے احتجاجی دھرنے میں شامل ہوں گے۔ اس موقع پر کرم پور کے کسانوں مہر عبدالعزیز،غلام رسول،محمد اشرف،چوہدری خالدحسین عاصم،چوہدری فہد راقبال،اور دیگر نے مرکزی جنرل سیکرٹری کسان اتحاد،چوہدری افتخار کو کہاکہ کرم پور میں کھاد نہیں مل رہی ہے۔ الٹا ہمیں ڈیلر بلیک میل کررہے ہیں، گندم کی کاشت متاثر ہو رہی ہے۔ہمیں کھاد لیکر دیں۔ جس پرچوہدری افتخار احمد نے کہاکہ ڈپٹی کمشنر وہاڑی سے بات چل رہی ہے ۔ کرم پور کے کسانوں کو بہت جلد کھاد مل جائے گی۔ اس موقع پر کھانوں کی بڑی تعد اد موجود تھی۔علاوہ ازیں نہروں میں پانی کی آمد کے ساتھ ہی یور یا کھاد کا بحران مزید شد ت اختیا رکر گیا ہے۔ چونکہ اس وقت گند  م کی فصل  کو یوریا کھاد کی اشد ضرورت ہے مگر کمپنیوں سے مطلوبہ مقدار کے مطابق کھاد نہ ملنے سے دوکانداروں کے لئے کاشتکاروں کی ضروریا ت پور ی کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ اور کسان یوریا کھاد کے حصول کے لئے در بد ر پھر رہے ہیں۔ گزشتہ روز   بھی محکمہ زراعت کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر اشفاق احمد اور زراعت آفیسر کامران  جبار نے چار سو بوری یور یا کھا غلہ منڈی میں اپنی نگرانی میں کنٹرول نرخوں  پر فروخت کروادی۔ مقامی انتظامیہ اورمحکمہ زراعت کی مبینہ ملی بھگت سے حاصلپورشہراورگردونواح میں یوریاکھاد نایاب ھو چکی ہے دوکاندار حضرات نے محکمہ زراعت کی جانب سے اپنی دوکانوں پر یوریا کھاد کی دستیابی سرکاری نرخوں پر کی فلیسز تو دوکانوں کے باہر آویزاں کر رکھی ہیں لیکن جب کوئی کسان کھاد لینے جاتا ہے تو اسے کھاد نہیں دی جاتی مبینہ ذرائع کے مطابق جب کسی دوکاندار کو سرکاری طور پر یوریا کھاد اگر 600 بوری دی جائے تو وہ کسانوں کو لائن میں کھڑا کر کے 200 بوری سرکاری ریٹ پر فروخت کر دیتا ہے اور باقی 400 بوری اپنے خفیہ ٹھکانوں پر ذخیرہ کر لیتا ہے اور پھر 2100 روپے سے2200روپیمیں کھاد ڈیلرزکی دھڑلے سیلوٹ مارکرتے ہوئے بلیک میں فروخت کر رہے ہیں جبکہ زمینداریوریاکھادکے حصول کیلیدربدرکی ٹھوکریں کھانے پرمجبورہوگے ہیں محکمہ زراعت کے عملہ نے کھاد ڈیلرز کی دوکانوں پر یوریا کھاد سرکاری نرخوں پر کی فلیسز لگانے کے بعد خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں اور خصوصی چمک کی بدولت اپنی آنکھیں بند کر رکھی ہیں جبکہ یوریاکھادنہ ملنیکی وجہ سیگندم کی فصل کوشدیدنقصان کاخدشہ ہے دوسری طرف مقامی انتظامیہ اورمحکمہ زراعت کی طرف سیدودن سخت کاروایوں کیبعدگزشتہ ایک ہفتہ سے مکمل خاموشی مک مکایاپھرکچھ اور جبکہ رات کی تاریکی میں یوریاکھادبلیک میں فروخت کرنیکیبعد دوکاندارحضرات گاڑیوں میں بھربھرکے سرعام دوسریشہروں کوبھیج دیتیہیں کوی پوچھنیوالانہیں جبکہ ذمہ دران اپنی جیبیں بھرکرزمینداروں کوذلیل ہوتادیکھ کرلطف اندوز ہورہیہیں۔حاصل پور کے کسان زمیندار طبقہ نے وزیر آعلی پنجاب ڈی سی بھاول پور سے مطالبہ کیا ہے کہ ذمہ دار افراد کے خلاف کاروائی کی جائے۔ضلعی راہنما کسان بورڈ جلب خان گبول نے کہا کہ کھاد کی مصنوعی قلت اور ششماہی نہروں کے باوجود ابیانہ کی نیے نرخوں پر وصولی کے خلاف ضلع بھر کے کسان آج 8 دسمبر بروز بدھ دن بارہ بجے انڈس ہائی و ے پر فاضل پور شہر میں دھرنا دیں گے کسان مطالبات کی منظوری تک اپنا احتجاج جاری رکھیں گے یہ بات انہوں نے ایک ملاقات کے دوران کہی۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -