چوری کا الزا م، فیصل آباد میں دکانداروں کو بھرے بازار میں خواتین کو بے لباس کر کے بہیمانہ تشدد، ویڈیو وائرل

چوری کا الزا م، فیصل آباد میں دکانداروں کو بھرے بازار میں خواتین کو بے لباس ...

  

      فیصل آباد(کرائم رپورٹر) فیصل آباد میں تھانہ ملت ٹاؤن کے علاقہ باوا چک میں بھی ایک ہجوم کی موجودگی میں تین خواتین کو درجن بھردوکانداروں نے ساتھیوں کے ہمراہ سرعام انتہائی تشدد کا نشانہ بنایا اور ان کے لباس پھاڑ کر نیم برہنہ حالت میں تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک تشدد کا نشانہ بناتے رہے،ہجوم میں سے کسی نے بھی انہیں بچانے کی کوشش نہیں کی تاہم بتایا گیا ہے کہ اسی دوران کسی نے پولیس کو اطلاع کردی جس پر ملت ٹاؤن پولیس موقع پر پہنچ گئی اور ایک ملزم کو حراست میں لے لیا اور خواتین کو ان سے بچایا جس کے بعدملزم کی نشاندہی پر باقی تین مزید ملزموں کو گرفتار کرلیاگیا،یہ واقعہ اگرچہ قبل ازدوپہر کا بتایا جاتا ہے مگر پولیس نے اپنی کارروائی مکمل کرکے آسیہ نامی خاتون کی رپورٹ پر مقدمہ بھی درج کرلیا۔لیکن اس پر پردہ ڈالے رکھا،رات کے وقت جب اس تشدد کی ویڈیو وائرل ہوئی تو اس وقت تک پولیس نے چار ملزمان صدام،فیصل،ظہیر انوراور فقیر حسین کو گرفتار کرلیاتھا،فوری طور پر سی پی او فیصل آباد ڈاکٹر عابد خاں،متعلقہ ایس پی اور ڈی ایس پی بھی موقع پر پہنچ گئے تھے اور متاثرہ خاتون آسیہ کی رپورٹ پر چار نامزد ملزمان اور 10نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا،آسیہ اور اس کی ساتھی خواتین صائمہ اور ناصرہ نواحی علاقہ رشید آباد کی رہنے والی ہیں،سڑکوں و گلیوں میں کچرا وغیرہ اکٹھا کرنے کا کام کرتی ہیں،ایف آئی آر کے مطابق ناصرہ خاتون اور ناصرہ کا والد ناصرکو اطلاع ملی تو وہ موقع پر پہنچ گئے اس دوران کافی راہگیر بھی موقع پر جمع ہوگئے جنہوں نے آکر عورتوں کی جان بچائی۔ملزمان کی طرف سے ان خواتین پرنیم برہنہ حالت میں تشدد کی وجہ یہ بتائی گئی کہ وہ دوکان سے چوری کرنے آئی تھیں جس پر انہیں پکڑ لیا گیا تھا۔سی پی او فیصل آباد نے پریس کانفرنس کے دوران ملزمان کی گرفتاری کے متعلق بتاتے ہوئے کہا کہ پولیس نے کیس میں قانون کے مطابق کارروائی کی ہے،خواتین کا کردار اپنی جگہ ہے لیکن مردوں کو ان پر تشدد نہیں کرنا چاہیے تھا،انہوں نے کہا کہ خواتین نے چوری بھی کی تھی تو دوکاندار پولیس کو اطلاع دیتے ہم خواتین کے خلاف کارروائی کرتے لیکن دوکانداروں کو قانون اپنے ہاتھ میں نہیں لینا چاہیے تھا۔

خواتین پر سرعام تشدد

مزید :

صفحہ اول -