’’سی ڈی اے سو رہا تھا کیا اس شہر میں کوئی قانون نہیں ‘‘اسلام آباد ہائیکورٹ میں کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس کے ریمارکس

’’سی ڈی اے سو رہا تھا کیا اس شہر میں کوئی قانون نہیں ‘‘اسلام آباد ہائیکورٹ ...
’’سی ڈی اے سو رہا تھا کیا اس شہر میں کوئی قانون نہیں ‘‘اسلام آباد ہائیکورٹ میں کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس کے ریمارکس

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اسلام آباد ہائیکورٹ میں مارگلہ نیشنل پارک پر تجاوزات کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی جس دوران عدالت نے نیشنل پارک کے تحفظ کے اقدامات نہ اٹھانے پر سی ڈی اے اور دیگر اداروں پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور چیئرمین وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا گیاہے ۔

تفصیلات کے مطابق عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مارگلہ نیشنل پارک میں تجاوز کی گئی زمین ابھی تک واپس کیوں نہیں لی گئی ؟ نیشنل پارک تجاوزات سے مفاد عامہ کے اہم سوالات اٹھے ہیں۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ مارگلہ ہلز کی بہت سی کیٹیگریز ہیں، چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ کوئی کیٹیگری نہیں ، ایک ہی نیشنل پارک ہے ، اس ایریا کی اونر شپ وفاقی حکومت کے پاس ہے ،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ مارگلہ نیشنل پارک کا 31 ہزار ایکڑ اراضی کا ایریا ہے ،عدالت نے کہا کہ ایکوائر لینڈ الاٹ کرنے سے متعلق سی ڈی اے حتمی اتھارٹی ہے ۔، الاٹ کی گئی زمین پر کس کس نے تجاوز کیا ،؟ معاون خصوصی نے کس بنیاد پر سروے کیا، ، سی ڈی اے سو رہا تھا ، کیا اس شہر میں کوئی قانون نہیں ہے ۔

مزید :

قومی -