نور مقدم قتل کیس کا ٹرائل حتمی مراحل میں داخل ، مدعی مقدمہ کو بیان ریکارڈ کرانے کیلئے طلب کر لیا گیا

نور مقدم قتل کیس کا ٹرائل حتمی مراحل میں داخل ، مدعی مقدمہ کو بیان ریکارڈ ...
نور مقدم قتل کیس کا ٹرائل حتمی مراحل میں داخل ، مدعی مقدمہ کو بیان ریکارڈ کرانے کیلئے طلب کر لیا گیا

  

اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) نور مقدم قتل کیس کا ٹرائل حتمی مراحل میں داخل ہو گیا ، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اسلام آباد نے  15 دسمبر کو مدعی مقدمہ کو بیان ریکارڈ کرانے کیلئے طلب کرلیا۔

نور مقدم قتل کیس کی سماعت ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں ہوئی ، آج مرکزی ملزم کی میڈیکل بورڈ بنانے کی درخواست پر سماعت نہ ہو سکی ، عدالت نے 15 دسمبر کو مرکزی ملزم کی میڈیکل بورڈ کی درخواست پر بھی دلائل طلب کرلئے۔  ملزمان کے وکلاء کی جانب سے گواہ اے ایس آئی زبیر ظہیر ، پوسٹمارٹم کرنے والی ڈاکٹر سارہ اور کمپیوٹر آپریٹر مدثر  پر جرح مکمل کی گئی ۔

پوسٹ مارٹم کرنے والی ڈاکٹر سارہ بطور گواہ عدالت پیش ہوئیں ، ڈاکٹر سارہ نے بتایا کہ انہوں نے 21 جولائی کی صبح  ساڑھے نو بجے نور مقدم کا پوسٹمارٹم کیا ۔ دوران سماعت کمرہ عدالت  میں نور مقدم کے والد شوکت  اور بہن سارہ مقدم بھی موجود تھے  جرح کے دوران گواہوں کے بیانات کے دوران سارہ مقدم آبدیدہ ہو گئیں ۔       

دوران سماعت مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے وکیل نے عدالت سے درخواست کی کہ وہ عدالت میں سی سی ٹی وی ویڈیو چلانا چاہتے ہیں لیکن وہ نہیں چاہتے کہ مزید ویڈیو لیک ہو لہذا میڈیا کو باہر بھیجا جائے ۔ ملزمہ عصمت آدم جی کے وکیل نے درخواست کی کہ ان کی موکلہ کو ملزم ذاکر جعفر سے بات کرنے کی اجازت دی جائے جو عدالت نے منظور کرتے ہوئے  عصمت آدم جی کی ذاکر جعفر سے بات کرانے کی اجازت دیدی۔

عدالت نےکیس کی مزید  سماعت 15 دسمبر تک ملتوی کر دی ۔

مزید :

قومی -جرم و انصاف -