بھارتی شہریت حاصل کرنے کیلئے پاکستان چھوڑکر جانے والے 100 لوگ واپس آگئے، ان کے ساتھ وہاں کیا سلوک ہوا؟

بھارتی شہریت حاصل کرنے کیلئے پاکستان چھوڑکر جانے والے 100 لوگ واپس آگئے، ان کے ...
بھارتی شہریت حاصل کرنے کیلئے پاکستان چھوڑکر جانے والے 100 لوگ واپس آگئے، ان کے ساتھ وہاں کیا سلوک ہوا؟

  

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت میں کئی سال تک دربدر بھٹکتے رہنے کے بعد کئی پاکستانی ہندو خاندان بالآخر پاکستان واپس لوٹ آئے۔ ایکسپریس ٹربیون کے مطابق یہ ہندوخاندان بھارت شہریت حاصل کرنے کی امید کے ساتھ کئی سال قبل بھارت گئے تھے۔ یہ لوگ وہاں دربدر رہے مگر انہیں بھارتی حکومت کی طرف سے شہریت نہ دی گئی جس پر گزشتہ روز یہ لوگ واہگہ بارڈر کے راستے واپس پاکستان آ گئے۔

واپس پاکستان میں داخل سے قبل یہ لوگ تین ماہ تک اٹاری بارڈر کے اردگرد علاقوں میں بھی دربدر بھٹکتے رہے۔ اس دوران یہ لوگ کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور رہے کیونکہ کورونا وائرس کے سبب بارڈر بند ہونے کی وجہ سے یہ واپس پاکستان نہیں آ سکتے تھے۔ بھارت میں اپنے قیام کے دوران انہیں بھارتی حکام کی طرف سے امتیازی اور غیرانسانی سلوک کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستان واپس آنے والے ان ہندوخاندانوں کے افراد کی تعداد 100سے زائد ہے، جن میں سے ایک فیملی کو پاکستانی امیگریشن حکام نے واپس بھارت بھیج دیا کیونکہ ان کے بھارت میں پیدا ہونے والے ایک بچے کی دستاویزات ان کے پاس نہیں تھیں۔

اس آدمی کا نام پالا رام ہے جس کی اہلیہ نے دو ہفتے قبل ہی ایک بچے کو جنم دیا تھا۔ پالا رام اپنی فیملی کے ہمراہ واپس نئی دہلی جا کر پاکستانی ہائی کمیشن سے بچے کی سفری دستاویزات بنوا کر لائے گا جس کے بعد انہیں پاکستان آنے کی اجازت ملے گی۔ ان تمام خاندانوں میں 47بچے تھے جن میں سے چھ بھارت میں پیدا ہوئے اور ان کی عمریں ایک سال سے کم تھیں۔ پالا رام کے بچے کے علاوہ ان تمام بچوں کے والدین کے پاس ان کی سفری دستاویزات موجود تھیں۔ ان ہندوخاندانوں کا کہنا تھا کہ ”ہم پاکستان واپس آنے پر بہت خوش ہیں۔“

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -