آسٹریا میں پاکستانی سفارتخانے کی جانب سے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے موضوع پر ویبینار کا اہتمام

آسٹریا میں پاکستانی سفارتخانے کی جانب سے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے موضوع پر ...
آسٹریا میں پاکستانی سفارتخانے کی جانب سے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے موضوع پر ویبینار کا اہتمام

  

ویانا(اکرم باجوہ)آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں قائم پاکستانی سفارت خانےانے 8 دسمبر کو حبیب بینک لمیٹڈ (HBL) اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اشتراک سے حکومت پاکستان کی جانب سے شروع کیے گئے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے اقدام کو فروغ دینے کے لیے ایک ویبینار کا اہتمام کیا۔ جس میں پاکستانی کمیونٹی کے ارکان اور کمیونٹی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ سفیر پاکستان آفتاب احمد کھوکھر نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ سمندر پار پاکستانی پاکستان کا ایک انمول اثاثہ ہیں اور روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ (RDA) انہیں پاکستان کی معیشت میں حصہ لینے اور پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط کرنے کا ایک بہتر موقع فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ آر ڈی اے کے فروغ کے لیے سفارت خانہ ویانا کا تیسرا ویبنار تھا اور وہ اس کی مزید تشہیر کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔انہوں نے آسٹریا میں مقیم پاکستانیوں کو اکاؤنٹس کھولنے میں درپیش کچھ چیلنجز بھی بتائے اور اس کے جلد حل کی خواہش کا اظہار کیا۔

حبیب بینک لمیٹڈ کے ہیڈ برانچ بینکنگ جناب محمد ناصر سلیم نے اپنے تبصروں میں پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے RDA کے فوائد پر روشنی ڈالی اور انہوں نے یہ بھی بتایا کہ HBL نے ربا سے پاک بینکنگ اور سرمایہ کاری کے مواقع پیش کیے جو کہ شریعت کے مطابق تھے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سید عرفان علی نے نشاندہی کی کہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کو پاکستانی تارکین وطن کی جانب سے بہت حوصلہ افزا جواب ملا ہے کیونکہ اس کے آغاز کے بعد سے 3 بلین ڈالر بھیجے جا چکے ہیں۔

حبیب بینک لمیٹڈ کے ماہرین کی ایک ٹیم نے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ انیشیٹو کی خصوصیات کی وضاحت کے لیے پریزنٹیشنز پیش کیں اور حاضرین کے سوالات کے جوابات دیے۔ان کا کہنا تھا کہ مقامی پاکستانیوں کی نسبت تارکین وطن کمیونٹی کے پاس RDA کے ذریعے سرمایہ کاری پر منافع کی شرح زیادہ ہے۔ انہوں نے روشن اپنی کار اور روشن اپنا گھر قرضہ سکیموں کے بارے میں بھی بتایا۔ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا ایک اقدام ہے جو غیر مقیم پاکستانیوں کو بینکنگ کے جدید حل اور مختلف سہولیات فراہم کرتا ہے جس سے وہ پاکستان میں دور دراز سے غیر ملکی کرنسی اور پاک روپیہ بینک اکاؤنٹس کھول سکتے ہیں اور سرمایہ کاری کے مختلف مواقع سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

مزید :

تارکین پاکستان -