شیخ رشید کے بارے میں جنرل( ر) باجوہ کے دلچسپ خیالات

شیخ رشید کے بارے میں جنرل( ر) باجوہ کے دلچسپ خیالات
شیخ رشید کے بارے میں جنرل( ر) باجوہ کے دلچسپ خیالات

  

راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن )سینئر صحافی منصور علی خان نے کہا ہے کہ ذرائع نے مجھے جنرل(ر) قمر جاوید باجوہ کا شیخ رشید سے متعلق مؤقف بتایا کہ وہ میرے دور میں کبھی اسٹیبلشمنٹ کے قریب نہیں رہے ، اور شیخ رشید کیلئے خاص طور پر ایک لفظ استعمال کیا گیا کہ ” بالکل بیکار انسان “ (Absolutely UseLess Guy)۔

سینئر صحافی منصور علی خان نے اپنے وی لاگ میں دعویٰ کیاہے کہ جب میں نے شیخ رشید سے متعلق سوال کیا کہ وہ اپنے آپ کو اسٹیبلشمنٹ کے ترجمان کے طور پر ظاہر کرتے ہیں تو مجھے ذرائع نے جنرل (ر)باجوہ کا مؤقف بتایا کہ جنوری 2022 میں شیخ رشید جنرل(ر) قمر جاوید باجوہ کے پاس آئے اور آ کر کہا کہ ”اس سے حکومت نہیں چلنی جنرل صاحب کچھ کرو “(ایدے کولوں نہیں چلنی، جنرل صاحب کچھ کرو)، یہ بات انہوں نے عمران خان کے بارے میں کی جبکہ جلسوں اور باہر میڈیا میں وہ کہتے ہیں میری سیاست ہی عمران خان کی وجہ سے ہے اور میں اس کا ساتھ نہیں چھوڑوں گا ۔ 

منصور علی خان کا کہناتھا کہ اس کے بعد مجھے پتا چلا کہ شیخ رشید کو فوج میں کوئی گھاس نہیں ڈالتا ،ان کا یہ امیج غلط ہے کہ میرے بہت تعلقات ہیں، جنرل باجوہ نے کہا میرے 4سال کے دوران ، جتنی دیر ان کی حکومت رہی جس میں وہ آرمی چیف تھے ، میں نے شیخ رشید کو اسٹیبلشمنٹ کے اتنے قریب نہیں دیکھا ، اس سے پہلے کی بات کچھ اور ہے ، میرے دور میں ایسا کچھ نہیں ہوا۔

سینئر صحافی کے مطابق شیخ رشید کیلئے جو ایک لفظ استعمال کیا گیا وہ یہ تھا کہ ” بالکل بیکار انسان “ (Absolutely UseLess Guy) اس کو کچھ نہیں پتا۔چینی وفد سے ملاقات ہوئی جس میں جنرل باجوہ ، عمران خان اور شیخ رشید بیٹھے تھے تو اس وقت بھی ایک واقعہ ہوا، ایک اور لفظ بھی استعمال کیا گیا لیکن میں اسے شیئر نہیں کروں گا۔ ایک اینکر پرسن ہیں ان کے بارے میں مجھے پتا لگا کہ جب جنرل(ر) قمر جاوید  باجوہ آرمی چیف تھے تو اس وقت وہ اینکر پہلی بیل پر ہی فون اٹھا لیتا تھا ، وہ پاکستان کا بہت بڑا اینکر پرسن ہے ، جب سے جنرل باجوہ نے کمانڈ چھوڑی ہے اس کے بعد انہیں ایک مرتبہ فون کیا گیا تو فون نہیں اٹھایا اور جب میسج کیا گیا تو میسج کا جواب بھی نہیں دیا ،ان کے نام کے آخر میں ’خان‘ آتا ہے، وہ اینکر پرسن عمران ریاض خان نہیں ہیں ۔

مزید :

قومی -