الیکشن تک تحریک انصاف کو اور دبایا جائے گا ،عمران خان کی نااہلی کا امکان ہے،( ن) لیگ کو دوتہائی اکثریت مل سکتی ہے: سہیل وڑائچ نے اہم انکشافات کر دیئے

الیکشن تک تحریک انصاف کو اور دبایا جائے گا ،عمران خان کی نااہلی کا امکان ہے،( ...
 الیکشن تک تحریک انصاف کو اور دبایا جائے گا ،عمران خان کی نااہلی کا امکان ہے،( ن) لیگ کو دوتہائی اکثریت مل سکتی ہے: سہیل وڑائچ نے اہم انکشافات کر دیئے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

لاہور ( خصوصی رپورٹ )انتخابی نقشہ فی الحال بن نہیں پا رہا ،انتخابات میں  تاخیر چاہنے والے کھل کر سامنے نہیں آرہے ،اب تک  کی صورتحال میں دیہی حلقوں میں (ن )لیگ کو واضح واک اوورمل رہا ہے۔تحریک انصاف کا ورکر ڈرا اور سہما ہوا ہے لگ رہا ہے  الیکشن تک تحریک انصاف کو اور دبایا جائے گا  مضبوط امیدواروں کو کھڑا ہی ہونے نہیں دیا جائے گا ۔عمران خان کی نااہلی کا امکان ہے۔( ن) لیگ کو سادہ اکثریت سے بھی زیادہ دوتہائی کے قریب بھی اکثریت مل سکتی ہے۔ سینئر صحافی و تجزیہ کار  سہیل وڑائچ نے اہم انکشافات کر دیئے۔

"جنگ " میں شائع ہونیوالے اپنے بلاگ بعنوان "دوائی زیادہ ڈل گئی تو..." میں  سہیل وڑائچ نےلکھا ہے کہ انتخابی نقشہ فی الحال بن نہیں پا رہا ،پنجاب کے تقریباً ہر حلقے میں (ن )لیگ کا امیدوار تو موجود ہے مگر پاکستان تحریک انصاف کا امیدوار کون بن پائے گا ابھی تک کنفرم نہیں ہو رہا ،یہی وجہ ہے کہ ابھی تک انتخابی ماحول نہیں بن رہا جب تک دومدمقابل آمنے سامنے نہ ہوں اس وقت تک گرم جوشی پیدا نہیں ہوتی۔انتخابات میں تاخیر کی افواہوں کے ساتھ ساتھ یہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان اس حوالے سے واضح مؤقف رکھتے ہیں اور وہ کسی بھی تاخیر کے راستے میں مزاحم ہونگے چنانچہ تاخیر چاہنے والے کھل کر سامنے نہیں آرہے ۔اب تک انتخابات کی جو صورتحال نظر آ رہی ہے، اس میں دیہی حلقوں میں (ن )لیگ کو واضح واک اوورمل رہا ہے کیونکہ یا تو (ن) لیگی امیدوار کا روایتی اور تگڑا حریف اپنی پارٹی چھوڑ چکا ہے اور اگر وہ تحریک انصاف میں ہے تو غائب ہے۔تحریک انصاف کا ورکر ڈرا اور سہما ہوا ہے اور لگ رہا ہے کہ الیکشن تک تحریک انصاف کو اور دبایا جائے گا ۔عمران خان کی نااہلی کا امکان ہے، مضبوط امیدواروں کو کھڑا ہی ہونے نہیں دیا جائے گا ،یوں (ن) لیگ کیلئے راہ ہموار ہو جائے گی۔ خوف اور ڈر کی یہی صورتحال برقرار رہی تو (ن) لیگ بآسانی سادہ اکثریت لے لے گی اور اگر دوائی زیادہ ڈل گئی تو( ن) لیگ کو سادہ اکثریت سے بھی زیادہ دوتہائی کے قریب بھی اکثریت مل سکتی ہے یہ ایک تھیوری ہے جس کا چانس 90فیصدہے لیکن ایک دوسری تھیوری بھی بڑی مضبوط ہے جس کا چانس اگرچہ صرف 10 فیصد ہے لیکن اسے رد کرنا مشکل ہے اور وہ تھیوری یہ ہے کہ اگر تھوڑا سا بھی ہاتھ ہلکا ہوا تو تحریک انصاف کا ناراض ووٹر الیکشن والے دن باہر نکل کر بالخصوص بڑے شہروں اور بالعموم چھوٹے قصبوں میں سارے انتخابی نتائج کو الٹ دے گا۔ کہا جاتا ہے کہ پی ٹی آئی کا ووٹر الیکشن کا انتظار کر رہا ہے اس دن وہ باہر نکل کر سب کو حیران کر دے گا ۔ فی الحال اوپر دی گئی دونوں تھیوریاں غیر ثابت شدہ ہیں آنے والے دنوں کے حالات یہ بتائیں گے کہ کونسی تھیوری صحیح ثابت ہوگی۔

اپنے بلاگ میں سہیل وڑائچ نے لکھا کہ آئندہ انتخابات کے حوالے سے ایک منصوبہ بندی یہ بھی کی جا رہی ہے کہ تحریک انصاف کے لوگ یا تو آزاد الیکشن لڑیں یا پھر تحریک انصاف کے ٹکٹ پر الیکشن لڑیں مگر الیکشن کے بعد وہ یا تو آزاد گروپ بنالیں یا استحکام پارٹی کے ساتھ الحاق کر لیں ،کچھ کا خیال ہے کہ یہ آزاد گروپ (ن) لیگی حکومت کا پٹریاٹ کی طرح ممدومعاون بن جائے ۔اس منصوبہ بندی کے مطابق اس طرح تحریک انصاف کے ووٹ لیکر آنے والے 40کے قریب اراکین کا ایک الگ گروپ بن جائے گا ،یہ لوگ آنے والی حکومت کو سپورٹ کریں گے۔ تحریک انصاف کے اندر موجود انتخابی گھوڑے اس صورتحال کو اپنے لئے بہت بہتر قرار دے رہے ہیں وہ نہیں چاہتے کہ وہ تحریک انصاف کے مخالف ہو کر الیکشن لڑیں ،اس طرح سے انہیں تحریک انصاف کی طرف سے مخالفت کا سامنا ہو گا ،وہ چاہتے ہیں کہ ووٹ تو تحریک انصاف کے ہی لیں لیکن بعد میں فیصلہ آزادانہ طور پر کریں تاہم اس حوالے سے (ن) لیگ کی قیادت اور ملک کے دوسرے بااختیار شخص نے اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے، انکی رائے میں یہ انتخابی گھوڑے انتہائی نا قابل اعتبار ہونگے اور ان کی مدد سے جو بھی سیاسی عمارت کھڑی ہوگی وہ ناپائیدار ہوگی۔

اپنے بلاگ میں سہیل وڑائچ نے مزید لکھا کہ ملک کےبالائی حلقوں میں آئندہ حکومت کے بارے میں مضبوط تاثر یہی ہے کہ یہ مخلوط حکومت ہو گی جس میں نون لیگ اور پیپلز پارٹی میجر پارٹنر ہونگے۔ نواز شریف وزیر اعظم ہونگے اور آصف زرداری صدر کے امیدوار ہونگے ۔حالیہ دنوں میں آصف زرداری نے مقتدرہ کےساتھ ملاقات کرکے سندھ میں دوبارہ سے اپنی پوزیشن مستحکم کر لی ہے، زرداری صاحب نے بلاول بھٹو کو بھی منالیا ہے۔بالائی حلقوں میں یہ خدشہ موجود ہے کہ اگر دوائی زیادہ ڈل گئی تو (ن )کی مضبوط حکومت بن جائے گی جس سے ماضی کی طرح پھر مقتدرہ سے لڑائی ہو سکتی ہے۔آئندہ انتخابات میں اصل لڑائی تو پنجاب میں ہونی ہے انتخابات کا نتیجہ اس پر منحصر ہو گا کہ تحریک انصاف کے مستقبل کا کیا فیصلہ ہو گا ؟ بالائی حلقوں میں ملک کے سب سے بڑے صوبے کی وزارتِ اعلیٰ کے بارے میں ابھی سے چہ میگوئیاں شروع ہو چکی ہیں، کہا یہ جا رہا ہے کہ اگر وزارت عظمیٰ شریف خاندان کو ملنی ہے تو پھر وزارت اعلیٰ اس خاندان کے کسی اور فرد کو نہیں ملنی چاہئے۔صوبہ پختونخوا کے بارے میں عمومی حلقوں میں یہ رائے پائی جاتی ہے کہ یہ صوبہ تحریک انصاف کو جیتنے دیا جائے اور اسی پارٹی کی حکومت بننے دی جائے، اگر اس حکومت نے جارحانہ طرز عمل اختیار کیا تو اسکی چھٹی کرا دی جائے۔ 

اپنے بلاگ  کے آخر میں سہیل وڑائچ نے لکھا کہ میری ذاتی رائے میں تو آئندہ انتخابات میں لیول پلینگ فیلڈ ہونا چاہئے ،سب جماعتوں کو برابر کا مو قع ملنا چاہئے انتخابات کو جمہوری استحکام کا ذریعہ بننا چاہئے نہ کہ جمہوری عدم استحکام کا،ملک کو اگر معاشی استحکام کی طر ف لےجانا ہے تو اس کیلئے دیر پا سیاسی استحکام ضروری ہے اور دیر پا سیاسی استحکام منصفانہ اور غیر جانبدارانہ انتخابات کے ذریعے ہی ممکن ہے ۔گزشتہ ساٹھ پینسٹھ سال سے ہم بہت سے سیاسی تجربات سے گزر چکے ہیں، سیاسی جماعتیں توڑ چکے اور نئی بنا چکے، نتیجہ لاحاصل رہا ۔ضرورت اس امر کی ہے ملک میں موجود سیاسی جماعتوں کو مضبوط بنانے میں ریاست مدد کرے کیونکہ سیاسی جماعتیں اور اس کے نمائندے مضبوط ہونگے تو مضبوط حکومت بنےگی ۔ہر پارٹی تفصیلی منشور بنائے شیڈو کابینہ بنا کر اقتدار میں آنےسے پہلے مکمل تیاری کرے جب تک سیاسی جماعتیں ٹوٹتی رہیں گی ملک سیاسی حوالے سے مستحکم نہیں ہوگا ۔فوج ہو یا سیاسی جماعتیں یہ سب ریاست کی مضبوطی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، ان کو ایک دوسرے کے مخالف ہونے کی بجائے ایک دوسرے کی مضبوطی کیلئے قدم بڑھانا ہو گا۔ سیاست دان ہو ںیافوجی ہر ایک کو آئین کے مطابق اپنی اپنی حدود میں رہنا ہو گا، اگر یہ ہو گا تو ریاست چلے گی وگرنہ ہم زوال کا شکار ہی رہیں گے....