شام کے سائے بالشتوں سے ناپے ہیں ۔۔۔

شام کے سائے بالشتوں سے ناپے ہیں ۔۔۔
شام کے سائے بالشتوں سے ناپے ہیں ۔۔۔

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

خوشبو جیسے لوگ ملے افسانے میں 

ایک پرانا خط کھولا انجانے میں 
شام کے سائے بالشتوں سے ناپے ہیں 

چاند نے کتنی دیر لگا دی آنے میں 
رات گزرتے شاید تھوڑا وقت لگے 

دھوپ انڈیلو تھوڑی سی پیمانے میں 
جانے کس کا ذکر ہے اس افسانے میں 

درد مزے لیتا ہے جو دہرانے میں 
دل پر دستک دینے کون آ نکلا ہے 

کس کی آہٹ سنتا ہوں ویرانے میں 
ہم اس موڑ سے اٹھ کر اگلے موڑ چلے 

ان کو شاید عمر لگے گی آنے میں 

کلام : گلزار
 

مزید :

شاعری -