پنجاب کے سبھی دریا پہاڑوں کے برفیلے میدانوں سے بہتے آتے ہیں،اپریل کے مہینے میں تمام دریاؤں میں پھر سے توانائی لوٹنے لگتی ہے

پنجاب کے سبھی دریا پہاڑوں کے برفیلے میدانوں سے بہتے آتے ہیں،اپریل کے مہینے ...
 پنجاب کے سبھی دریا پہاڑوں کے برفیلے میدانوں سے بہتے آتے ہیں،اپریل کے مہینے میں تمام دریاؤں میں پھر سے توانائی لوٹنے لگتی ہے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 مصنف:شہزاد احمد حمید
 قسط:211
 ”مجھ سمیت پنجاب کے سبھی دریا پہاڑوں کے برفیلے میدانوں سے بہتے آتے ہیں۔ ان میں پانی کی روانی سال کے مختلف ایام میں مختلف ہوتی ہے لیکن ان کا بہاؤ سرد موسم(دسمبر /   جنوری) میں سب سے کم ہوتا ہے جب پہاڑ برف سے ڈھک کر پانی کو منجمد کر دیتے ہیں۔موسم گرما (جولائی / ستمبر) میں ان دریاؤں کا بہاؤ انتہا پر ہوتا ہے جبکہ ستمبر میں اکثر دریا سیلابی کیفیت میں بہتے ہیں۔ گرمی کے موسم میں میدانی علاقوں میں یہ دریا کناروں تک پھیل کر بہت خوبصورت منظر پیش کرتے ہیں۔ان دریاؤں کا پانی گہرائی تک زمین کے اندر جا کر زیر زمین پانی کی سطح بلند کر دیتا ہے۔ بخارات زیادہ بنتے ہیں اور خوب بارش برساتے ہیں۔ دسمبر سے مارچ تک مجھ میں پانی کی سطح انتہائی کم ہوتی ہے۔ اپریل کے مہینے میں مجھ سمیت تمام دریاؤں میں پھر سے توانائی لوٹنے لگتی ہے۔ مطلب یہ کہ زیادہ پانی۔ جون میں تیزی سے پانی بھر کر اگست / ستمبر میں کناروں سے بھی بہت باہر نکل کر بہتا ہوں۔ اکتوبر تک مجھ میں پانی کی کمی آنے لگتی ہے اور دسمبر میں نمایاں کمی آ تی ہے۔ یوں پانی کا ایک چکر (cycle) پورا ہوتا ہے۔ تمھیں یہ بھی بتا دوں تمام سیلابی پانی کا نصف میں (سندھو) لاتا ہوں جبکہ باقی نصف کا نصف جہلم اور چناب اور باقی نصف راوی، ستلج اور بیاس مل کر پورا کرتے ہیں۔“              
”اس بات کے واضح ثبوت ہیں کہ چار ہزار پانچ سو (4500)سال سے زیادہ عرصہ قبل آباد ہونے والی سندھ تہذیب کے آغاز سے آج تک میں نے کئی بار پنجاب اور سندھ کے میدانوں میں اپنا راستہ تبدیل کیا ہے اور انتہائی زرخیز میدان ان دونوں خطوں کو تحفے میں دئیے ہیں۔ ایک اور اندازے کے مطابق میں نے اپنا رخ سندھ کی دھرتی پراپنی گزر گاہ کے سولہ(16) سے بیس(20) کلو میٹر کے قطر میں کئی بار تبدیل کر چکا ہوں۔ باقی دریاؤں نے بھی اپنی گزر گاہیں کئی مرتبہ بدلی ہیں۔ہزاروں سالوں سے ایسا ہی ہوتا آرہا ہے۔میری گزرگاہ پر اوسطاً 5 سے20 انچ سالانہ بارش برستی ہے۔ پہاڑی سلسلہ کے علاوہ میں برصغیر کے انتہائی خشک خطے میں بہتا ہوں۔ شمال مغربی ہوائیں انڈس ویلی میں 4 تا 8 انچ سالانہ بارش برساتی ہیں جو میدانوں میں گندم اور جو کی پیداوار کے لئے اہم ہیں۔ میرے بالائی خطے ہمالیہ، قراقرم،ہندو کش میں شدید برف باری ہوتی ہے۔ مجھ میں بہنے والے پانی کی بڑی مقدار اسی برف کے پگھلنے سے آتی ہے۔ مون سون بارشیں مجھ کو کناروں تک لبالب بھر کر پانی کناروں سے باہر اچھال دیتی ہیں۔ انڈس ویلی کا موسم سندھ اور پنجاب کی شدید گرمی سے کوہستان، ہزارہ، گلگت، سکردو اور لداخ کے شدید سرد موسم تک کا نظارہ دیتا ہے۔ ایک طرف تو اُن اونچے پہاڑوں پر درجہ حرارت نقطہ انجماد سے کئی درجے نیچے گر کر ہر شے کو منجمد کر دیتا ہے تو دوسری طرف میرا مغربی کنارہ صوبہ سندھ کا ہی نہیں بلکہ دنیا کے گرم ترین مقامات میں سے ایک ہے جہاں کا درجہ حرارت موسم گرما میں پچاس(50) ڈگری فارن ہائیٹ تک پہنچ جاتا ہے۔ یہ جیکب آباد (سندھ)ہے۔“ 
”موسم اور نباتات کا بھی ”میری(سندھو) کی گزر گاہ“ میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔ صوبہ سندھ میں میرے اطراف دس(10) تا تیس(30) کلو میٹر تک زمین ریتلی ہے جہاں گھاس نہ ہونے کے برابر ہے۔ سیلابی پانی اور نہری نظام زراعت اور آب پاشی کا بڑا ذریعہ ہیں۔ سندھ اور پنجاب کے میدانوں میں چرتے مویشی اورایندھن کے لئے استعمال کی جانے والی لکڑی گھاس کے میدانوں اور نباتات میں کمی کی بڑی وجہ ہے۔ ہمالیہ، ہندو کش اور قراقرم کے خطوں میں جنگلات کی کٹائی، پانی کے قدرتی راستوں کا خشک ہونا، میری سطح میں پانی کی کمی اور نباتات کے نقصان کا باعث ہیں۔خیال کیا جاتا ہے کہ قدیم دور میں آج کی نسبت ان خطوں سے لکڑی کی زیادہ پیداوار حاصل کی جاتی تھی۔ تم سکندر اعظم اور مغلیہ دور میں لکھی جانے والی تاریخ پڑھو، ایک بات نمایاں ہے کہ میری گزر گاہ کے ساتھ ساتھ انتہائی گھنے جنگل تھے۔ آج بھی میرے میدانوں میں پوست، خود رو پودے، خاردار جھاڑیاں، سرخ رنگ کی چوزہ بوٹی بہتات میں ملتی ہیں۔میرے کناروں کے ساتھ موٹی اونچی گھاس دور دور تک نظر آتی ہے۔ پانی دھاروں کی صورت ”تمرس“ کے درختوں اور جھاڑیوں کے جھنڈ کے بیچ سے بہتا ہے۔ البتہ گھنے جنگل اب کہیں بھی دکھائی نہیں دیں گے اور نہ ہی حضرت انسان نے مصنوعی جنگل لگانے کی کوشش کی ہے۔“(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں)

مزید :

ادب وثقافت -