کالج سے واپس آیا تو بہن کی شکل میں کچھ تبدیلی محسوس ہوئی،ماں نے اسکے 2 دانت توڑ دیئے تھے، اس نے دانت پڑیا میں سنبھال رکھے تھے

 کالج سے واپس آیا تو بہن کی شکل میں کچھ تبدیلی محسوس ہوئی،ماں نے اسکے 2 دانت ...
 کالج سے واپس آیا تو بہن کی شکل میں کچھ تبدیلی محسوس ہوئی،ماں نے اسکے 2 دانت توڑ دیئے تھے، اس نے دانت پڑیا میں سنبھال رکھے تھے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 مصنف:محمد سعید جاوید
قسط:119
 ایک شام جب میں کالج سے واپس آیا تو نسرین کی شکل میں کچھ تبدیلی محسوس ہوئی، سمجھ نہیں آیا تو اس نے خود ہی بتا دیا کہ اس کے سامنے کے دو دانت ماں نے توڑ دئیے تھے۔اس نے شہادت پا جانے والے ان دانتوں کی لاشوں کا درشن بھی کروایا جو ہمدردیاں سمیٹنے کی خاطر اس نے ایک پڑیا میں سنبھال کر رکھے ہوئے تھے۔ ماں رو رو کر بتا رہی تھیں کہ یہ مجھے بہت تنگ کر رہی تھی میں نے اس کو دور ہٹانے کے لیے دھکا دیا، اس کا پاؤں پھسلا اور یہ نیچے پتھریلی سیڑھیوں پر گری اور سامنے کے 2 دانتوں سے محروم ہو گئی۔ میں نے ماں کو حوصلہ دیا، وہ واقعی بہت پریشان تھیں اور دوسری سب ماؤں کی طرح اسکے مستقبل کے لیے پریشان تھیں کہ باقی بچ جانے والے 30 دانتوں کے ساتھ اسے بھلا کون بیاہ کر لے جائے گا۔مجھے یاد ہے جب وہ تھوڑی بڑی ہوئی تو اس کو تاروں والے دانت لگوا کر دئیے گئے، جنہیں وہ زبان سے اکھیڑ کر منہ کے اندر ہی اِدھر اُدھر دوڑائے پھرتی رہتی تھی اور جب دل چاہتا تو نکال کر انگیٹھی پر رکھ دیتی تھی۔ایسی ہی تھی وہ۔
ابا جان بڑی مشکل سے اپنی محدود سی آمدنی میں سے ہر مہینے 60 روپے کا منی آرڈر بھجواتے تھے جس میں ہمیں سارے مہینے کے خرچے چلانے ہوتے تھے۔ چونکہ ماں بھی ایک مقصد کے لیے یہاں آئی تھیں اور مجھے بھی گھر کے حالات کا بخوبی علم تھا، اس لیے ہم کسی نہ کسی طرح ان پیسوں میں گزارا کر ہی لیتے تھے۔یاد نہیں پڑتا کہ ابا جان سے کبھی فاضل رقم کا مطالبہ کیا ہو۔ قناعت پسندی ان دنوں ہماری عمر کے لوگوں میں بھی تھوڑی بہت موجود تھی۔ ابا جان تو ویسے بھی ان دنوں 3 گھر چلا رہے تھے، اس لیے ان کی مشکلات کا ادراک تھا۔ 
وقت کا پہیہ گردش میں رہا، امتحان کی تیاریوں کے ساتھ ساتھ شام کو میں نے جرمن زبان کا کورس بھی جاری رکھا۔ گھر آ کر اتنی پریکٹس کرتا تھا کہ نسرین کو بھی دیکھا دیکھی اور سنا سنی سارے جرمن حروف تہجی اور گنتی آ گئی تھی۔ اور ہم دونوں بلند آواز سے اسے پکا کرتے رہتے تھے، اور ایک دوسرے کی غلطیوں کی تصحیح بھی کر لیتے۔
قصرِ صدارت میں قیام کے دوران میں نے بڑے عجیب و غریب واقعات دیکھے جسے دیکھ کر صرف یہی کہا جاتا سکتا ہے کہ بڑے لوگوں کی بڑی باتیں۔میں اتنا اہم تو نہیں تھا کہ بغیر روک ٹوک صدارتی محل میں جا گھستا اور نہ ہی کوئی مجھے کوئی ایسا کرنے دیتا، تاہم پولیس افسروں سے دوستی ہونے کی وجہ سے میں اکثر مرکزی دروازے تک چلا جاتا تھا۔ جو میرے گھر کے بالکل عقب میں چند قدم دور ہی واقع تھا، بیچ میں ایک اونچی سی دیوار تھی اور بس۔ ایک شام کو جب مرکزی دروازے سے شور و غل کی آوازیں آئیں تو میں بھی وہاں جا پہنچا،دیکھا وہاں صدر کے ایک قریبی عزیز ایک خاتون کے ساتھ صدارتی محل میں جانے پر اصرار کر رہے تھے، جب کہ پولیس آفیسر بڑے اخلاق سے انھیں بتا رہا تھا کہ سر آپ اس خاتون کے لیے داخلے کا پاس بنوا لیں، میں ادنیٰ سا ملازم ہوں اور کسی غیر متعلقہ شخص کو اندر جانے کی اجازت دینا میرے اختیار میں نہیں ہے، وہ یہ سن کر غصے سے آگ بگولا ہوگئے اور کہا کہ ”تمہیں پتہ ہے یہ گھر کس کا ہے؟“ پولیس آفیسر نے کہا ”جی یہ آپ ہی کا ہے اور نہ ہی میں آپ کو روک رہا ہوں آپ اندر تشریف لے جائیں لیکن خاتون کو میں بغیر اجازت اندر نہیں جانے دوں گا، کل صدر صاحب کراچی تشریف لا رہے ہیں اور قصرِ صدارت کی سیکیورٹی کے لیے ہدایات بہت سخت ہیں۔“ اس نے اور زیادہ طیش میں آ کر کہا ”میں دیکھتا ہوں تم مجھے کیسے روکتے ہو؟“ وہ گاڑی سٹارٹ کر کے مرکزی دروازے کی طرف بڑھٖا تو اس فرض شناس پولیس آفیسر نے گیٹ بند کروا کر اندر سے تالا لگوا دیا۔ وہ اپنی یہ بے عزتی برداشت نہ کر سکا اور غلیظ گالیاں اور دھمکیاں دیتا ہوا گاڑی موڑ کر واپس چلا گیا۔ اگلی صبح سب سے پہلے جو روح فرسا خبر ملی وہ یہ تھی کہ راتوں رات اس پولیس آفیسر کا تبادلہ بلوچستان کے کسی دور افتادہ مقام پر کر دیا گیا تھا اور وہ چلا بھی گیا تھا۔ سب کو علم تھا کہ یہ تو ہونا ہی تھا لیکن میں سارا دن اس زیادتی پر بہت افسردہ رہا۔ آخر اس کا قصور ہی کیا تھا، صرف اتنا کہ وہ اپنا فرض نبھا رہا تھا۔ پہلی دفعہ مجھے ایک معمولی سے سرکاری ملازم کی بے بسی اور حاکموں کے ظالمانہ رویوں کو اتنی قریب سے دیکھنے کا اتفاق ہوا تھا۔
سالانہ امتحان اچانک ہی آ پہنچے تھے اور ایک مہینے تک مجھے بے تحاشا مشغول رکھنے کے بعد اسی طرح چپ چاپ ختم بھی ہو گئے، گھر میں جیسے یک لخت سکون ہو گیا۔ماں نے اپنا مختصر سا سامان سمیٹا، چھوٹی اور نسبتاً کم دانتوں والی نسرین کو ساتھ لے کر واپس گاؤں چلی گئیں۔ گویا انھوں نے اپنا فرض ادا کر دیا تھا۔ اب ا ن کو پیچھے گاؤں میں رہ جانے والے دونوں بچوں کا فکر کھائے جا رہا تھا۔ میں ان کو اسٹیشن چھوڑ آیاتھا اور بڑی دیر تک ان کو احسان مندی اور محبت سے دیکھتا رہا۔اور پھر گاڑی چلی گئی اور میں ایک بار پھر اپنی تنہائیوں میں لوٹ آیا۔  
میں اپنی منزل کی طرف کشاں کشاں بڑھنے لگا، اور یہ منزل ایسی تھی کہ جس کا کچھ پتہ ہی نہ تھا، بس اپنے بہترین اندازے سے ایک سمت بڑھتے ہی جانا تھا۔  (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -