ناخوشی کی کیفیت کو کیوں منتخب کیا جائے، تمنا یہی ہونی چاہیے کہ خوش رہا جائے،اس امرکو یقینی بنایئے کہ کسی بھی قسم کے منفی خیالات آپ پر طاری نہ ہوں 

ناخوشی کی کیفیت کو کیوں منتخب کیا جائے، تمنا یہی ہونی چاہیے کہ خوش رہا ...
ناخوشی کی کیفیت کو کیوں منتخب کیا جائے، تمنا یہی ہونی چاہیے کہ خوش رہا جائے،اس امرکو یقینی بنایئے کہ کسی بھی قسم کے منفی خیالات آپ پر طاری نہ ہوں 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 مصنف: ڈاکٹر جوزف مرفی
مترجم: ریاض محمود انجم
قسط:124
آپ کی تمنا یہی ہونی چاہیے کہ خوش رہا جائے:
خوش رہنے یا خوش رہنے کی عادت اپنانے کے ضمن میں ایک نکتہ بہت ہی اہم ہے۔ ووہ یہ ہے کہ آپ کی تو تمنا اور خواہش ہی یہی ہونا چاہیے کہ خوش رہا جائے۔ دنیا میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو نہایت ہی رنجیدہ، افسردہ، پریشان اور ناخوش ہوتے ہیں لیکن اچانک ہی کسی اچھی اور شاندار خبر اور اطلاع ملنے پر خوش اور شادمان ہو جاتے ہیں۔ یہ لوگ دراصل اس عورت کی طرح ہوتے ہیں جس نے ایک دفعہ مجھ سے کہا: ”اس قدر خوشی ہونا بہت ہی غلط بات ہے۔“ یہ لوگ اس قسم کے ذہنی رویئے کے اس قدر عادی ہو چکے ہوتے ہیں کہ وہ کبھی بھی خوش دکھائی نہیں دیتے اور جب بھی انہیں موقع ملتا ہے، وہ اپنی سابقہ رنجیدگی اور پریشانی کی حالت میں واپس لوٹ جاتے ہیں۔
میں برطانیہ کی ایک ایسی خاتون کو جانتا ہوں جو سالہاسال سے گٹھیا کے مرض میں مبتلا تھی۔ وہ اپنے گھٹنے کو سہلاتی اور کہتی: ”میرے گٹھیا کے مرض میں پہلے سے زیادہ تکلیف ہے، میں باہر چل پھر نہیں سکتی، میرا یہ مرض میری خواہش کے آگے رکاوٹ ہے۔“
اس پیاری بوڑھی خاتون کو اپنے بیٹے، بیٹی اور ہمسایوں کی بے پناہ توجہ حاصل تھی۔ دراصل وہ چاہتی تھی کہ اس کا یہ مرض کبھی ٹھیک نہ ہو، وہ اپنی اس افسوسناک حالت ہی میں بہت خوش تھی، دراصل اس خاتون میں خوش رہنے کی تمنا اور خواہش ہی موجود نہ تھی۔
میں نے اس خاتون کو علاج کیلئے ایک طریقہ بتایا۔ میں نے ایک کاغذ پر انجیل مقدس کی کچھ آیات اسے لکھ کر دیں اور اسے کہا کہ اگر اس نے اس سچے کلام کی طرف اپنی توجہ مرکوز کی، تو بلاشبہ اس کا ذہنی رویہ یکسر تبدیل ہو جائے گا اور اس میں یہ یقین اور اعتماد پیدا کر دے گا کہ اسے واقعی اس مرض سے نجات حاصل کرنی ہے، لیکن یہ خاتون اپنے مرض ہی میں لگن اور خوش تھی لہٰذا اس نے میرے مشورے کے ضمن میں کوئی دلچسپی ظاہرنہ کی۔ اکثر لوگوں میں نہایت عجیب و غریب قسم کا منفی اور غیرصحت مندانہ رحجان پایا جاتا ہے کہ وہ اپنی رنجیدہ اور خراب حالات ہی ہیں اپنے لیے خوشی محسوس کرتے ہیں۔
ناخوشی اور بے خوشی کی کیفیت کو کیوں منتخب کیا جائے؟
اکثر لوگ منفی رویئے کے اظہار کے ذریعے رنجیدگی اور افسردگی کی کیفیت اپنے لیے منتخب کرتے ہیں اور اس ضمن میں ان کا اظہار بیان یوں ہوتا ہے:
”آج کا دن، ایک منحوس دن ہے۔“
”آج ہر چیز غلط ہو رہی ہے۔“
”میرے لیے کامیابی ممکن نہیں ہے۔“
”ہر شخص میرے خلاف ہے۔“
”میرے کاروباری حالات خراب ہیں اور مزید بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔“
”مجھے ہمیشہ تاخیر ہو جاتی ہے۔“
”میں کبھی بھی کامیابی حاصل نہیں کر سکتا۔“
”وہ کامیابی حاصل کر سکتا ہے لیکن یہ کامیابی میرے بس کا روگ نہیں۔“
اگر آپ صبح اٹھنے کے فوراً بعد اس قسم کا ذہنی رویہ اپنائیں گے، تو آپ کے ساتھ اسی قسم کے منفی اور افسوسناک حالات پیش آئیں گے اور پھر آپ تمام دن رنجیدہ اور غمگین ہی رہیں گے۔
آپ کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ آپ جس دنیا میں رہتے ہیں، اس میں وقوع پذیر ہونے والے زیادہ تر حالات و واقعات کی بنیاد وہ تخیلات و تصورات ہیں جو آپ کے ذہن میں پرورش پاتے ہیں۔ عظیم روسی فلسفی اور دانشور مارکس اوریلس (Marcus Aurelius) نے ایک دفعہ کہا تھا:
”ایک انسان، اپنے خیالات و تصورات کا عکس ہوتا ہے۔“
یا
”انسانی زندگی، اس کے خیالات و تصورات کی ترجمان ہوتی ہے۔“
امریکہ کے ممتاز فلسفی ایمرسن (Emerson) کا کہنا تھا:
”ایک انسان، اپنے تمام دن کی ذہنی مصروفیات، خیالات اور تصورات کا پر تو ہوتا ہے۔“
جو خیالات، آپ اپنی عادی سوچ کے ذریعے اپنے ذہن پر نقش کرتے ہیں، وہی آپ کی زندگی میں ٹھوس شکل کے ذریعے ظاہر ہو جاتے ہیں۔
اس امرکو یقینی بنایئے کہ کسی بھی قسم کے منفی، ناشائستہ اور غیرمہذب قسم کے خیالات آپ کے اوپر طاری نہ ہوں اور اپنے ذہن میں یہ حقیقت نقش کر لیں کہ آپ کسی بھی قسم کے منفی اور غیرتعمیری خیالات و تصورات کی پذیرائی نہیں کر سکتے۔) جاری ہے) 
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں)

مزید :

ادب وثقافت -