اور اب الیکشن کمیشن کی پگڑی بھی....

اور اب الیکشن کمیشن کی پگڑی بھی....
 اور اب الیکشن کمیشن کی پگڑی بھی....

  

سیاسی معاملات کے سفر میں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران اتنے نئے اور اَن دیکھے موڑ آئے کہ اب یاد ہی نہیں رہا ....کہاں آکے ملتے تھے راستے،کہاں موڑ تھا.... بھلے بُرے الیکشن کی آمد آمد تھی۔ پہلی بار جمہوری مدت کے بعد انتخابات پر خود ستائی کا شعور بھی تھا۔گلے شکووں اور بدگمانیوں کا انبار بھی۔ ضمنی انتخابات کے ٹریلر نے انتخابی فلم کے بارے میں شکوک کی کئی نئی کہہ مکرنیاں بھی سنا ڈالیں۔ اب یہ عالم ہے کہ فلم کی ریلیز پر تو شکوک کا پردہ گرچکا ہے ،لیکن کہہ مکرنیاں بوجھنے کا کھیل شروع ہوگیا ہے۔

سیاسی چال بازیوں میں بقول شخصے پی ایچ ڈی آصف علی زرداری الیکشن شیڈول کو اپنی بساط پر اپنی چال کے مطابق پھیلانا چاہتے تھے۔چودھری نثار علی خان اِس زعم میں شہر بھر میں اَتراتے پھر رہے تھے کہ نگران وزیراعظم پر مشاورت کا طوطا اِن کے پنجرے میں بند ہے۔دیو مالائی کہانیوں کی طرح جہاں عموماً کہانی کو نیا موڑ دینے کے لئے ایک عدد شہزادہ یا شہزادی کوہ قاف کی شہریت کی حامل وارد ہوتی ہے ،لیکن ہمارے منظر نامے میں طاقت کے مرکز”مغربی کوہستان“ سے نیا کردار وارد ہوا۔ سکرپٹ بھی ایک چھوڑدو،پاکستانی بھی اور کینیڈین بھی۔شیخ الاسلام بھی، قادر الکلام بھی ، امر بالمعروف کی تعمیل پر مُصر بھی۔ مینارِ پاکستان سے اُنہوں نے کہانی میں نیا رنگ بھرنا شروع کیا ،جس کا سلسلہ اب تھمنے میں نہیں آرہا۔

 ڈاکٹر طاہر القادری گزشتہ روزاپنی پٹیشن سپریم کورٹ میں بھی داخل کرا آئے ہیں کہ الیکشن کمیشن کی تشکیل نو کے بغیر 63,62 کا تجویز کردہ صدق وامانت کا نسخہ زیر استعمال نہیں آسکتا۔اِس سے قبل جاوید ہاشمی اور شاہ محمود قریشی اُن کے درِ دولت پر حاضر ہوتے۔بقول شاہ محمود قریشی، اُن کے نقطہ نظر کو سمجھنے آئے اور مایوس نہیں لوٹے۔ الیکشن کمیشن پر تحریک انصاف کو حالیہ بے چینی کس آئینی کلاز کے تحت رونما ہورہی ہے۔ڈاکٹر طاہر القادری نے شاہ محمود قریشی کو آئینی دفعات کے حوالے دے کر اُن کی بے چینی کی قابل اعتماد تشخیص کردی۔ ہاشمی اور قریشی صاحبان یہ کہتے ہوئے ہنستے مسکراتے ہوئے لوٹے کہ اُن کے خیالات بھی علامہ طاہر القادری سے ملتے جلتے ہیں۔ قبل ازیں عمران خان صدر آصف علی زرداری کی موجودگی میں منصفانہ انتخابات محال سمجھتے تھے۔اب اِس یقین میں الیکشن کمیشن بھی شامل ہوگیا ہے۔

پارلیمنٹ سے باہر سیاسی جماعتوں کا گمان یا بدگمانی تو قابل فہم ہے، لیکن چودھری نثار علی خاں نے بھی ایک عدد دھرنااور بقول چودھری شجاعت دھرنی دی اور الیکشن کمیشن کومطالبات کی اپنی فہرست بھی پیش کردی ہے۔اِن مطالبات کی عدم شنوائی کی صورت میں الیکشن کمیشن اُن کی طرف سے بھی مطعون ٹھہرے گا.... وعلیٰ ہذا القیاس۔اِن مشترکہ کوششوں سے اب الیکشن کمیشن بھی مشکوک بنایا جارہا ہے ۔آج کل عدلیہ کا سکہ خوب رائج ہے۔ ڈاکٹر طاہرقادری نے سکہ رائج الوقت کو بھی درخواست ڈال دی ہے۔اب دیکھئے براہ راست سپریم کورٹ سے کیا ظہور میں آتا ہے؟

 عام گمان تو یہی ہے کہ انسان اور قومیں عمر بڑھنے کے ساتھ باشعور ہوتی چلی جاتی ہیں، لیکن جہاں بہت سے عالمی تجربات اور اُصول ہم پر اِس لئے لاگو نہیں ہوتے کہ ہمارا سانچہ ذرا مختلف ہے،یہ عام اُصول بھی من حیث القوم ہم پر لاگو نہیں ہوتا۔ پڑوسی ملک بھارت میںبھی انتخابات ہورہے ہیں۔الزامات اور دشنام طرازی کا بازار گرم ہے۔ یادوں کے کونوں کھدروں میں پڑے بداعمالی کے پوتڑے سرعام دھل رہے ہیں، لیکن الیکشن کمیشن کا دامن اور دستار محفوظ ہے۔ مہذب ملکوں میں یہ روایت بہت مستحکم ہے کہ ملک کے اداروں کی عزت، اُن کی غلطیوں کے باوجود قائم رہتی ہے۔غلطیوں پر گرفت ضرور کی جاتی ہے ،لیکن شکایت کو بے عزتی کی حد تک گھسیٹنے سے گریز کیا جاتا ہے۔

امریکہ میں غیر ممالک میں سی آئی اے کی طرف سے تشدد کا اسکینڈل منظر عام پر آیا ہے۔تنقید ضرور ہوئی ہے ،لیکن صرف بطور ادارہ ذلیل وخواہ نہیں کیا۔برطانیہ میںLIBOR کو مختلف بینکوں کی جانب سے سالہا سال اپنے مفاد کے لئے جس شرم ناک انداز میں استعمال کیا گیا ،اِس سکینڈل نے بینکاری کے نظام پر اعتماد کو کاری ضرب لگائی،لیکن سیاسی جماعتوں اور میڈیا نے مرکزی بینک اور ریگولیٹری ادارے کو یوں مطعون نہیں کیا کہ وہ گالی بن کر رہ جائے۔یہ اعجاز اور مزاج صرف ہمارا ہی خاصہ ہے کہ ایک کتاب میں ایک باب کی بنیاد پر کارگل کے نام پر اپنی فوج کے کپڑے اُتار کر ٹاک شوز میں لذت اُٹھائیں.... اور اب الیکشن کمیشن ....مشہور مقولہ ہے کہ دُنیا میں ہر چیز کی ایک حد مقرر ہے سوائے انسان کی حماقت کے!!

سچ کے اِس منڈل میں حکومتی اور اپوزیشن سیاست دان واویلا مچا رہے ہیں کہ انتخابات ملتوی ہوئے تو یوں ہوجائے گا،لیکن باہمی مناقشت اور خود غرضی کا دامن چھوڑنے پر تیار نہیں۔ یہ الیکشن آخری الیکشن نہیں ہیں۔یہ پارٹیاں اور اِن کے بیشتر رہنما بھی کئی مزید الیکشن لڑسکیں گے۔پھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے کہ اِس الیکشن کو آخری الیکشن سمجھ کر دین وایمان غارت کرنے پر سب آمادہ ہیں۔ بغداد کی تباہی کے وقت دانشوروں کے کچھ حلقوں میں مسواک کی لمبائی جیسے مسائل پر بحث ہورہی تھی۔ بغداد تباہ ہوا،کھوپڑیوں کے مینار بنے ۔یوں تاریخ بے وقت کی راگنی والوں کو کچل کر آگے نکل گئی۔کراچی میں خاک وخون کا کھیل جاری ہے۔رحمان ملک نے یہ کہہ کر اپنا فرض نبھا دیا ہے کہ فروری میں حالات مزید خراب ہوں گے۔الزامات کا ایک طومار ہے، لیکن لاشیں ہیں کہ گرتی جارہی ہیں۔اب لاشوں کے ساتھ اُن کی مذہبی شناخت کا نیا فتنہ اُٹھ رہا ہے۔

بلوچستان میں آگ اور بارود کا پھیلا قابو میں نہیں آرہا۔خیبر پختونخوا میں خوف اور دہشت سورج کے ساتھ ہی روزانہ اُبھرتے ہیں اور اپنے ساتھ کئی بے گناہوں کا خون لے کر طلوع ہوتے ہیں، اگلے دن پھر طلوع ہونے کے لئے۔ اِس منظر میں نظام کی رہی سہی ساکھ کو63,62 کی سان پر چڑھانے کا پر اصرار ہے....ایک بااعتماد سربراہ کی موجودگی کے باوجود الیکشن کمیشن کی تحلیل پر اصرار ہے۔ ہر ایک کے ہاتھ میں آری ہے اور شاخ آشیانہ کاٹنے کی دھمکی بھی۔ طرفہ تماشاکہ بیٹھے بھی اِسی شاخ پر ہیں....!کون مر نہ جائے اِس سادگی پر....عمر بڑھنے کے ساتھ افراد اور قیادت میں شعور آنے کا اُصول پاکستان میںجانے کب آئے گا؟  ٭

مزید :

کالم -