سفید جھوٹ

سفید جھوٹ

  



اقتصادی و معاشی ترقی میں ہمارا ملک بھلے جتنا بھی پیچھے رہ گیا ہو، پاکستانی ٹی وی چینلز پر تیربہدف ادویات کے ذریعے پیچیدہ ترین بیماریوں کے چند دنوں حتی کہ چند گھنٹوں کے اندر علاج کے بلند و بانگ دعوﺅں پر مشتمل اشتہارات اور دستاویزی فلمیں دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ میڈیکل سائنس میں ترقی کرکے ہمارا ملک جس مقام پر پہنچ گیا ہے مغرب کو وہاں تک پہنچنے میں کئی عشرے درکار ہونگے۔ مثلاً ترقی یافتہ ترین ممالک بھی ذیابیطس یا شوگر ختم کرنے کا حتمی علاج دریافت نہیں کرسکے لیکن ہمارے ہاں ذیابیطس کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے براہِ راست لبلبے کے علاج کی نویدمسرت سنائی جارہی ہے۔ مغرب کی تحقیق ابھی یہیں تک پہنچی ہے کہ چھوٹے قد میں اضافہ ایک خاص عمر تک جبکہ ہیپاٹائٹس سی اور کینسر کا علاج ایک خاص سٹیج تک ہوسکتا ہے، ا±س کے بعد میڈیکل سائنس کے حوالے سے فی الحال یہ تقریباً ناممکنات ہیں لیکن ہمارے ٹی وی چینلز پر ادویات کے اشتہارات کے مطابق اب ہیپاٹائٹس سی یا کینسر خواہ کسی بھی سٹیج پر ہوں ا±ن کا چند یوم میں علاج ممکن ہے۔ کیبل ٹی وی پر اکثر ایک اشتہار دیکھنے میں آتاہے جس میں ایک خوبصورت دوشیزہ اٹھلاتی ہوئی آتی ہے اور کہتی ہے کہ اب چھوٹے قد والوں کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اِن کی"جدیدتحقیق"کے مطابق اب عمر کے کسی بھی حصّے میں قد9 انچ تک بڑھایا جاسکتا ہے ۔ اس مقصد کے لیے کمپنی کی تیار کردہ چند مخصوص مصنوعات اور ادویات استعمال کرناہونگی جن کی قیمت صرف "چند ہزار روپے" ہے۔

یاد رہے کہ یہ پیشکش ا±ن بابوں کے لیے بھی ہے جن کی عمر میں پہنچ کر انسان کا قد بڑھنا تو ایک طرف گھٹنا شروع ہوجاتا ہے۔ ایک اور اشتہار کثرت سے دیکھنے میں آرہا ہے جس کا عنوان ہے کہ "اب مہینوں نہیں، دنوں نہیں بلکہ صرف ایک گھنٹے میں اپنی کمر ایک انچ تک کم کیجئیے" ۔ اِس دلچسپ اشتہار میں دکھایا جاتا ہے کہ کمپنی کی نمائندہ لڑکی کسی راہ جاتی فربہ اندام خاتون کو روک کر ایک گھنٹے کے اندر ا±ن کی کمر پتلی کرنے کی پیشکش کرتی ہے۔ فربہ اندام خاتون لڑکی کو نہ صرف اپنے بارے میں تفصیلات سے آگاہ کرتی ہے بلکہ کمال مہربانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے گھر کے کچن تک میں لے جاتی ہے۔ وہاں پہنچ کر فربہ اندام خاتون کو اچانک یاد آجاتا ہے کہ ا±ن کے گھر تو ڈھیروں مہمان آنے والے ہیں جن کے لیے بہت سا کھانا بھی پکانا ہے جس کی وجہ سے وہ کمپنی کی نمائندہ لڑکی کو زیادہ وقت نہیں دے پائے گی لیکن لڑکی ا±سے تسلی دیتی ہے کہ ہماری کمپنی کی حیرت انگیز ایجاد کی بدولت آپ کے کام میں کوئی رکاوٹ نہیں آئے گی چنانچہ لڑکی ناپ لینے کے بعد خاتون کی کمرکے گرد ایک بیلٹ نما چیز باندھ کر ا±س سے منسلک تار کو بجلی کے بورڈ سے منسلک کردیتی ہے جس کے بعد خاتون ڈھیروں مہمانوں کا کھانا پکانے کے لیے ایک اتنی چھوٹی سی ہنڈیا چولہے پر چڑھا دیتی ہے جس میں دو آدمیوں کا کھانا بھی بمشکل پک سکتا ہے۔

 چند لمحوں میں ہی ایک گھنٹہ گزر جاتا ہے جس کے بعد لڑکی دوبارہ ناپ لیتی ہے تو خاتون کی پسینوپسین کمردعوے کے مطابق ایک انچ کم ہوچکی ہوتی ہے جس پر خاتون "حیرت انگیز"خوشی کا اظہار کرتے ہوئے لوگوں کو بھی اِس "جادو" سے مستفید ہونے کا مشورہ دیتی ہے۔ اشتہار دیکھنے کے بعد میں خاصی دیر تک غور کرتا رہا کہ لڑکی پہلی مرتبہ کمر کا ناپ لیتے ہوئے فیتہ ڈھیلا کیوں رکھتی ہے اور دوبارہ ناپ فیتہ ٹائٹ کرکے کیوں لیتی ہے؟ ایک حکیم صاحب کا اشتہار نظر سے گزرا جس میں انہوں نے نوید مسرت سنائی تھی کہ "کمزور" حضرات اُن کی دوائی کھاکر چاہے سات شادیاں کروالیں ۔ وہ باریش حکیم صاحب اپنی دوا کی "طاقت"کھوکریہ بھی بھول گئے کہ اسلام میں بیک وقت صرف چار شادیوں کی اجازت ہے اور وہ بھی اگر کوئی انصاف کرپائے تو۔ اس اشتہار کے علاوہ بھی "طاقت" میں اضافے کے لیے حکیم صاحب کے خاندانی قیمتی کشتوں، حسبِ خواہش اولاد کے حصول کے لیے نادر نسخوں کے بھی بے شمار اشتہار روزانہ نظر سے گزرتے رہتے ہیں جن میں کیے جانے والے دعوﺅں پر یقین کرنے کی خواہش کے باوجود یقین نہیں آتا۔ ایسے میں جب ترقی یافتہ ممالک چاند پر انسان ا±تار چکے ہیں، اپنی بنائی ہوئی مشینوں کے ذریعے مریخ اور زحل جیسے دور درازسیارے تسخیرکرچکے ہیں، سمندر کی گہرائیاں اور پہاڑوں کی بلندیاں بھی ا±ن کی نظروں سے اوجھل نہیں۔

شعبہ طبّ میں اُن کی ترقی اور ٹیکنالوجی کا یہ عالم ہے کہ ایک مغربی ملک کے ڈاکٹروں نے ماں کے پیٹ میں موجود بچّے کے دل کا آپریشن کرکے ا±سے دنیا میں آنے سے قبل ہی موت کا شکار ہونے سے بچالیا تو کیا یہ ممکن ہے کہ ہم شوگر، کینسر اور ہیپاٹائٹس سی کا علاج اور عمر کے کسی بھی حصّے میں قد بڑھانے کا طریقہ اُن سے پہلے دریافت کرلیں؟ نہیں یہ بالکل ممکن نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اِن تمام بیماریوں کے علاج سے متعلق دکھائے جانے والے اشتہارات کا99.9%حصّہ جھوٹ پر مبنی ہوتا ہے۔ یہ اشتہارات سراسر ڈرگ ایکٹ کی خلاف ورزی کررہے ہیں لیکن ذخیرہ اندوزوں،ناجائزمنافع خوروں ، ملاوٹ اور جعلسازی کرنے والوں کی طرح انہیں بھی عوام کے جان و مال سے کھیلنے کی کھلی چھوٹ حاصل ہے۔ جن وجوہات کی بناءپر لوگ کسی ڈاکٹر کے نسخے کے بغیر یا مضر نقصانات کو نظر انداز کرکے یہ ادویات خرید کراپنی قیمتی صحت اور رقم کا ضیاع کرتے ہیں ا±ن میں سرِفہرست عام لوگوں کو سرکاری سطح پر صحت کی سہولیات میسر نہ ہونا ہیں۔

 سرکاری ہسپتالوں کی یہ حالت ہے کہ کسی مجرم کو جیل کی بجائے چار دن سرکاری ہسپتال میں سرکاری عملے کے سپرد کردیا جائے تو وہ جیل جانے کی التجائیں کرنے لگے گا۔ یہ سب زبانی باتیں نہیں بلکہ میں خود عملی مشاہدہ کرچکا ہوں ۔ کچھ عرصہ قبل مجھے ایک سرکاری ہسپتال جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں ایمرجنسی کے باہر جو گارڈ کھڑا ہوا تھا وہ گارڈ کم اور انڈرورلڈ کے کسی ڈان کا کارندہ زیادہ معلوم ہورہاتھا۔میں نے انتہائی قریب سے دیکھا کہ کوئی بھی عام آدمی ا±س گارڈ کی لعن طعن س±نے بغیر ایمرجنسی وارڈ میں داخل نہیں ہوسکا۔ اِس گارڈ کی بے حسی، ڈھٹائی اور جہالت کا اندازہ اِس سے لگایا جاسکتا ہے کہ جن بدنصیب مریضوں کو وارڈ میں شفٹ کیا جارہا تھا ا±ن کے عزیز و اقارب کو باقاعدہ مبارکباد دیتے ہوئے یہ گارڈ بخشش کا تقاضا کررہا تھا جیسے یہ بڑی خوشی کی بات ہو۔ بہت لوگ اپنی عزت بچانے کی خاطر دس بیس روپے گارڈ کے ہاتھ تھما رہے تھے اور جنہوں نے اِس کا مطالبہ پورا نہیں کیا ا±ن کی شان میں جو قصیدہ گوئی کی جارہی تھی وہ بیان کے قابل نہیںہے۔ ایک وارڈ کی حالت دیکھ کر امید پیدا ہوئی کہ شاید یہاں صورتحال کچھ بہتر ہوگی لیکن میری یہ امید دیوانے کا خواب ثابت ہوئی کیونکہ اس وارڈ میں "فرائض"سرانجام دینے والا چھوٹے سے قد کا ایک باریش معمولی سا وارڈ بوائے جس نے اپنے آپ کو اسلام کا علمبردار ثابت کرنے کے لیے سر پر ٹوپی بھی پہن رکھی تھی، انتہائی بدتمیزی کے ساتھ ایک نحیف بزرگ مریض کو لتاڑتا ہوا پایا گیا جو باتھ روم جانے کے لیے ا±س سے سہارے کی درخواست کربیٹھے تھے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ جن مریضوں کے لواحقین اِس وارڈ بوائے کے "مطالبات"پورے نہ کرپائیں ا±ن مریضوں کے ساتھ یہی سلوک ہوتا ہے۔

مجھے ایک موہوم سی امید تھی کہ شاید دیگر سرکاری ہسپتالوں میں نظام نسبتاً بہتر ہوگا لیکن افسوس کہ ہرجگہ صورتحال ایک جیسی ہی ہے عام آدمی کا کہیں بھی کوئی پ±رسانِ حال نہیں ۔تشویشناک بلکہ خوفناک بات تویہ ہے کہ معمولی ملازم ہونے کے باوجود اِن لوگوں کے ذہنوں میں یہ بات بیٹھ چ±کی ہے کہ یہ حاکم اور سرکاری ہسپتالوں میں علاج و معالجہ کے لیے آنے والے غریب لوگ محکوم اور اِن کی رعایا ہیں جس کو یہ جیسے مرضی چاہیں ذلیل و رسوا کریں۔ سرکاری ہسپتالوں میں اندھیرے میں روشنی کی کرن کی مانند پیشنٹ ویلفیئر سوسائٹی ہے جو وقار احمد میاں کی سربراہی میں سرکاری ہسپتالوں میں غریب و نادار لوگوں کے مسائل کا بوجھ کم کرنے کے لیے ہمہ وقت سرگرم عمل ہے ۔ وقار احمد میاں اگرچہ تاجر ہیں لیکن خدمت خلق کے جذبہ سے سرشار ہوکر سماجی شعبے میں بھی اپنا بہترین کردار ادا کررہے ہیں۔ جو بھی غریب شخص علاج و معالجہ، مفت ادویات کے حصول یا پھر بیٹی کے جہیز کی خاطر میاں صاحب کے پاس گیا کبھی مایوس نہیں لوٹا۔ وقار احمد میاں جیسے اور بھی بہت سے لوگ یقینا خدمت خلق میں مصروف عمل ہونگے ۔

 وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کو چاہیے کہ ایسے لوگوں کو ساتھ لیکر چلیں جو نہ صرف غریب و نادار لوگوں کے مسائل کم کرنے میں بہترین کردار ادا کریں گے بلکہ حکومت کی نیک نامی کا باعث بھی ہونگے۔ عطائیوں کے چنگل میں پھنسنے اور ادویات کے پ±رکشش اشتہارات سے متاثر ہوکر اپنی صحت اور ماہ کا بیڑہ غرق کرنے میں جہالت بھی بڑی حد تک کارفرما ہے۔ صورتحال ہر گزرتے دن کے ساتھ خراب ہوتی جارہی ہے لہذا بہتریہی ہوگا کہ حکومت اِس عوام کے حال پر رحم کرے اور علاج کے نام پر عوام کو جھانسا دینے والے ا±ن عناصر پر قابو پائے جو سرکاری سرپرستی میں عوام کی صحت ، جان و مال سے کھیل رہے ہیں۔ گذشتہ دنوں یہ خبر سننے میں آئی کہ پمرا نے ٹی وی چینلز پر ادویات اور دیگر مصنوعات کے اشتہارات کا نوٹس لیتے ہوئے کاروائی کا فیصلہ کیا ہے جو اچھی بات ہے لیکن کاروائی جلد از جلد ہونی چاہیے کیونکہ بیشتر ادویات انتہائی مضر اثرات رکھتی ہیں جن کے متعلق عوام کو بالکل آگاہ نہیں کیا جاتا ۔ جن ادویات کے متعلق فوری اثرکا دعویٰ کیا جاتا ہے ا±ن میں سے بیشتر انسان کے گردے فیل کردیتی ہیںیا دیگر کئی پیچیدگیاں پیدا کرکے انسان کو جیتے جی مردہ بنا دیتی ہیں۔ چونکہ بیشتر لوگوں کو اس بارے میں کوئی علم نہیں ہوتا لہذا وہ باآسانی ان اشتہارات کے جھانسے میں آجاتے ہیں۔ اس کے علاوہ سرکاری ہسپتالوں کا نظام بھی درست ہونا اشد ضروری ہے کیونکہ عزتِ نفس مجروح ہونے کے خطرے کی وجہ سے لوگ عطائی حکیموں اور فراڈیوں کے چنگل میں پھنستے ہیں۔ سرکاری ہسپتالوں کا نظام بہتر کرنے کا ایک موثر ترین طریقہ یہ ہے کہ ان کا انتظام و انصرام خوفِ خدا رکھنے والے ا±ن تاجروں کو سونپ دیا جائے جو تجارتی شعبے کے ساتھ ساتھ سماجی شعبے میں بھی سرگرمِ عمل ہیں۔ ٭

مزید : کالم