ایسا نہ ہو کہ تم بھی مداوانہ کرسکو....!

ایسا نہ ہو کہ تم بھی مداوانہ کرسکو....!
ایسا نہ ہو کہ تم بھی مداوانہ کرسکو....!
کیپشن:   ch سورس:   

  

پاکستان کو آج داخلی امن ، معاشی بے حالی اور باہمی بداعتمادی جیسے سنگین چیلنج درپیش ہیں اگرچہ ان سارے مسائل کی جڑ ایسے قوانین ہیں جو قاتل اور مقتول دونوں کو سہولت مہیا کرتے ہےں ، قومی دولت کی لوٹ مار کرنے والے سہولت کے ساتھ انتقامی کارروائی کے الفاظ استعمال کرکے بچ نکلتے ہیں یہ اسی سسٹم کی عطا ہے شاید یہی وجہ ہے کہ سیاسی و معاشی ایلیٹ اسی سسٹم کو بچانے اورچلانے کی بات کرتی رہتی ہے میں اس سے پیشتر بھی اپنی ذاتی رائے کا اظہار کرچکا ہوں کہ سسٹم قوموں کو بچایا کرتا ہے، مگر یہاں پوری قوم کو سسٹم بچانے پر لگا دیا گیا ہے ، ایک ایسا سسٹم جو آدھا ملک نگل گیا اور بقیہ کے بخےے ادھڑ رہے ہیں بہرحال تمام تر تحفظات کے باوجود محب وطن دردمند پاکستانی شہریوں کی خواہش ہے کہ حکومت امن قائم کرنے ، معیشت کا رکا ہوا پہیہ چلانے ، عوام کو جان ومال کا تحفظ دینے میں کامیاب ہو،2002ءکے بعد ہماری پارلیمانی جمہوری تاریخ میں ایک مثبت پیشرفت دیکھنے کو آئی کہ اسمبلیوں کو آئینی مدت پوری کرنے کا موقع ملا اور اس حوالے سے ہر جماعت نے خواہ وہ اپوزیشن میں تھی یا اقتدار میں آئینی مدت کی تکمیل کے لئے اپنا مقدور بھر کردار ادا کیا۔

 2002ءکے بعد مسلم لےگ(ن) نے بھی جمہوری عمل کے تسلسل کے لئے بالغ نظری کا ثبوت دیا، جنرل مشرف کے کروائے ضلعی حکومتوں کے انتخابات سے لے کر عام انتخابات تک مثبت سیاسی کردار ادا کیا، ہر الیکشن میں بھر پور حصہ لیا، جنرل پرویز مشرف کے قانونی احکامات پر عمل کیا ۔خواتین کی مخصوص نشستوں پر اہل خانہ کو اسمبلی کی نشستوں پر بٹھایا صرف مسلم لےگ(ن) ہی نہیں باقی جماعتوں نے بھی انہی خیرسگالی جذبات کا مظاہرہ کیا، محترم قاضی حسین احمد اور محترم جاوید ہاشمی کی صاحبزادیاں اسی پارلیمنٹ کا حصہ بنیں دونوں معزز ہستیوں کی تنقید بھی کاٹ دار رہی، مگر ساتھ ساتھ انہوں نے سسٹم کو بھی سپورٹ کیا۔اسمبلیوں کے اندر بھی رہ کر تنقید ضرور کی، مگر یہ کبھی کوشش نہیں کی کہ حکومت ختم ہوجائے اور مڈٹرم الیکشن ہو ایک ووٹ کی اکثریت سے قائم ہونے والی جمالی حکومت کو آخری دن تک گرانے کی کوشش نہیں کی گئی اور 5سال مکمل ہونے کا انتظار کیا گیا۔ اسی طرح 2008ءکے بعد بھی مسلم لےگ(ن) اور پیپلزپارٹی سمیت دیگر جماعتوں نے جمہوریت کے وسیع تر مفاد میں حکومت بنانے کے لئے ایک دوسرے سے تعاون کیا، جنرل مشرف سے وزارتوں کے حلف بھی لئے، مسلم لےگ(ن)، پیپلزپارٹی کو چھوڑ کر اپوزیشن پنجوں پر بھی بیٹھی، مگر اکثریت سے محروم ہونے کے باوجود گیلانی حکومت کا بال تک بیکانہ ہونے دےا ،تنقےد ضرورکی، مگر سازش سے دوررہی ےہ اچھی جمہوری رواےات اور مثالےں ہےں۔

2002ءکے انتخابات کے نتےجے مےں قائم ہونے والی اسمبلےوں مےں ذمہ دارانہ کردار کے باعث 2008ءکے انتخابات کے نتےجے مےں قائم ہونے والی اسمبلیوں مےں صبر وتحمل والے کردار کے باعث مسلم لےگ(ن) کو 2013ءکے عام انتخابات مےں اقتدارملا ،آج مسلم لےگ(ن) کو مڈٹرم انتخابات کی کسی تحرےک ےا سےاسی ردعمل کا سامنا نہےں ہے ،ہم بھی سمجھتے ہےں کہ اسمبلیوں کو اپنی آئےنی مدت مکمل کرنی چاہیے5 سال کے لئے جو مےنڈےٹ ملتا ہے۔ اس کا حساب کتاب بھی 5 سال کے بعد ہونا چاہےے ،پاکستان مسلم لےگ ق کی قےادت اسی جمہوری اصول اور رواےت پر کاربندہے ، وہ سمجھتی ہے کہ مثبت اپوزےشن کے ذرےعے حکومت کی غلطےوں کی نشاندھی ضرور کرےں گے، مگر قبل ازوقت انتخاب کی کسی سازش مےں شرےک نہےں ہوں گے،جب تک حکومت اپنے چلن سے خودہاتھ نہ اٹھا دے تو؟

موجود حکمرانوں کو وراثت مےں اتنے برے حالات نہےں ملے جتنے آج ہو چکے ہےں ،اگر ہم ڈالر ،اشےائے خوردونوش ،بجلی گےس ،پٹرولےم مصنوعات کی قےمتوں مےں اضافہ کارجحان دےکھےں تو وہ تکلےف دہ ہےں عوام کی زندگی مشکل ہوگئی ہے ،40 فےصدسے زائد آبادی خط غربت سے نےچے آچکی ہے،پاکستان انتہائی بھوک کا شکار 26 ممالک کی فہرست مےں شامل ہوچکا ہے، لاءاےنڈآرڈ،لوڈشےڈنگ ،اندرونی ،بےرونی قرضوں کے حجم مےں دن بدن اضافہ ہورہا ہے اور اسی شرح سے عوام کی بے چےنی بھی بڑھ رہی ہے۔ جےسا کہ مےں نے ابتداءمےں لکھا کہ داخلی امن ،معاشی بے حالی اور باہمی بداعتمادی کو عوام نے مےنڈےٹ دے دےا، اسمبلےاں وجود مےں آگئےں، اختےارات اور وسائل حکومت کی دسترس مےں ہےں ،ملک کے موجودہ مسائل راتوں رات سامنے نہےں آئے ےقےناً مسلم لےگ(ن) نے بھر پور تےاری کی ہوگی اب عملی مےدان مےں پہلے سے طے کی گئی حکمت عملی کے مطابق انہےں اپنا کھےل پےش کرنا چاہےے،جو نظر نہےں آرہا، عوام کی بے چےنی مےں دن بدن ہونے والے اضافہ کی وجہ ےہی روےہ ہے،اگر وقت ضائع ہوتا رہا تو پھر صورت حال اس شعر سے مختلف نہ ہوگی کہ

اےسا نہ ہو کہ درد بنے دردِ لادوا

اےسا نہ ہوکہ تم بھی مداوانہ کر سکو

مزید :

کالم -