دہشت گردی کے خلاف جنگ اور کاؤنٹرٹیررازم فورس

دہشت گردی کے خلاف جنگ اور کاؤنٹرٹیررازم فورس
دہشت گردی کے خلاف جنگ اور کاؤنٹرٹیررازم فورس

  

ملک کو دہشت گردی اورانتہاء پسندی کے چیلنج کا سامنا ہے بد قسمتی سے دہشت گردی کے باعث ملک کا بے پناہ نقصان ہوا ہے اور معیشت کو دھچکا لگا ہے ۔پنجاب میں انسداد دہشت گردی فورس کی پاسنگ آؤٹ کی تقریب کا آج کا دن صرف پنجاب ہی میں نہیں بلکہ پاکستان کی تاریخ میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے تشکیل دی جانے والی انسداد دہشت گردی فورس کی پاسنگ آؤٹ تقریب میں بہادر اورجرأت مند جوانوں اور قوم کی بیٹیوں نے شاندار پرفارمنس کا مظاہر ہ کیا ہے اور پاکستان کے طول و عرض میں یہ پیغام جا چکاہے کہ پاک دھرتی کے یہ بہادر سپوت قوم کے ساتھ مل کردہشت گردوں کا ہر جگہ مقابلہ کریں گے اوردہشت گردوں کے ناپاک وجود کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ختم کیا جائے گا۔کارپورلرز نے محنت ، امانت اوردیانت کے ساتھ پیشہ وارانہ تربیت حاصل کی ہے اوراپنے جرأتمندانہ کردار کی بنیاد پر یہ قوم کے محافظ بنیں گے اورملک و قوم کو صحیح معنوں میں امن کا گہوارہ بنائیں گے۔ پنجاب حکومت نے کئی دہائیوں کے بعد وال چاکنگ پر پابندی،لاؤڈ سپیکر کے غلط استعمال کو روکنے،قابل اعتراض کتابوں کی اشاعت و تقسیم اورمذہبی منافرت پر مبنی لٹریچر کی روک تھام کے حوالے سے قوانین کو مزید سخت کیا ہے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جارہی ہے،یہ ابھی شروعات ہیں جس کا ثمر آگے جا کر ملے گا۔انہوں نے کہا کہ میں قوم کو یقین دلاتا ہوں کہ سیاسی و عسکری قیادت ملکردہشت گردی کا خاتمہ کرے گی۔پاک افواج کے افسروں،جوانوں، پولیس کے افسروں،اہلکاروں،شہریوں،بچوں اورزندگی کے دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں اوراب تک 50ہزار سے زائد پاکستانی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی قیمتی جانیں نچھاور کرچکے ہیں جس کی نظیرتاریخ میں نہیں ملتی۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں لازوال قربانیاں پاکستان کے بھر پور عزم اور پختہ ارادے کا بھر پور اظہار ہے اور دنیا کیلئے پاکستان کے عزم کا اس سے بڑا کوئی ثبوت نہیں ہوسکتا۔

وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے ایلیٹ پولیس ٹریننگ سکول میں انسداد دہشت گردی فورس کے پہلے بیچ کی پاسنگ آؤٹ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ ہماری آئندہ نسلوں کی بقاء کی جنگ ہے۔ یہ پاکستان کی جنگ ہے۔ آج پاکستان کو ایک فیصلہ کن گھڑی کا سامنا ہے۔ہم سب نے ملکر پاکستان کا کھویا ہوا امن اسے ہرقیمت پر لوٹانے کا عزم کر لیا ہے اور فیصلہ کر لیا ہے کہ دہشت گردی اور انتہاپسندی کیلئے پاک سرزمین پر کوئی جگہ نہیں۔ ہمارا پختہ عزم ہے کہ اپنے بچوں‘ اپنے عوام اور اپنی افواج کی طرف اٹھنے والے ہر ہاتھ کو توڑ ڈالیں گے۔ اس راہ میں مشکلات اور مصائب بھی آئیں گے لیکن اس امر میں کسی کو کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ ہمارا عزم‘ ہمارے راستے کی مشکلات اور چیلنجزسے کہیں زیادہ عظیم اور بلند ہے۔وزیراعلیٰ نے اپنی سیاسی و انتظامی ٹیم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم محمد نوازشریف کے وژن کو حقیقت کا روپ دینے میں سب نے ایک ٹیم ورک کے طورپر کام کیا ۔ انہوں نے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاک فوج کے سپہ سالار نے انسداد دہشت گردی فورس کی تربیت میں نہ صرف بھر پور دلچسپی لی بلکہ بھر پور تعاون بھی کیا ۔کور کمانڈر لاہور لیفٹیننٹ جنرل نوید زمان نے بھی بھر پور معاونت کی اورفورس کی تربیت کیلئے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا۔

16دسمبر 2014ء کو پشاور کے سکول میں دنیا کی تاریخ کا دہشت گردی کا بدترین واقعہ پیش آیا اور دہشت گردوں نے قوم کے معصوم پھولوں کومسلا ہے، یہ ایسا واقعہ تھا جس پر پشاورسے لیکر کراچی تک پوری قوم دہشت گردی کے خلاف متحد ہوچکی ہے اوراتحاد و اتفاق کا ایسا مثالی مظاہرہ دیکھنے میں آیا ہے جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔قوم دہشت گردی کے خلاف یک جان دوقالب ہوچکی ہے ۔قوم کے پختہ عزم سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے دہشت گردی کا قلع قمع کریں گے اور پاکستان کو صحیح معنوں میں اسلامی فلاحی ریاست بنائیں گے۔ ایک ایسی مملکت جس کا خواب قائداعظم محمد علی جناحؒ اورعلامہ اقبالؒ نے دیکھا تھا ۔جہاں پر انصاف کا بول بالا ہو،یکساں ترقی کے مواقع ہوں،تعلیم اور صحت کی سہولتیں سب کیلئے ہوں،خوشحالی ہو اورامن ہو۔سانحہ پشاور نے پوری قوم کو جھنجوڑ دیا ہے اورمعصوم بچوں کی روحوں کو اس وقت تک چین نہیں آئے گا جب تک ہم اس ظلم کا بدلہ ظالموں سے نہیں لیں گے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کودہشت گردی کی جس صورتحال کاسامنا ہے اس میں ملوث دہشت گرد جدیدترین اسلحے اور تربیت سے لیس ہیں۔

دہشت گردی کے اس عفریت سے نمٹنے کیلئے ایک باصلاحیت ، مستعد اور وقت کے جدیدترین تقاضوں پر اترنے والی فورس کا قیام وقت کی اہم ترین ضرورت تھی۔ قومی اہمیت کے اس اہم کورس کیلئے نوجوانوں کا انتخاب کرتے ہوئے میرٹ کی اسی طرح سختی سے پابندی کی ہے‘ جس کا اہتمام صوبے میں تعلیم‘ پولیس اور دوسرے شعبوں میں بھرتیوں کے وقت کیا جاتا ہے۔پنجاب حکومت نے گذشتہ6برس کے دوران سپاہی سے لیکر اے آئی ایس تک تمام بھرتیاں میرٹ اورصرف میرٹ پر کی ہیں جبکہ 80 ہزار اساتذہ کو بھی میرٹ پر بھرتی کیاگیا ہے ۔انسداد دہشت گردی فورس میں انجینئرز،ڈاکٹرز،ماسٹرڈگری ہولڈرزاورایم فل کرنے والے جوان بھی شامل ہیں،جنہیں بہترین تربیت اورجدید آلات فراہم کیے گئے ہیں۔وطن کی حفاظت کا جذبہ ان نوجوانوں میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے اور یہ جری جوان وطن عزیز کیلئے اپنی جان نچھاور کرنے سے گریز نہیں کریں گے۔ پاکستان کی بہادر افواج ’’ضرب عضب‘‘ میں شاندار کامیابیاں حاصل کررہی ہیں اوردہشت گردی کے خلاف جنگ میں نئی تاریخ رقم کی جارہی ہے ۔انشاء اللہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان فتح یاب ہوگا اورملک میں دیر پا امن قائم ہوگا۔آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جنگ جاری رہے گی اوراس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک دہشت گردوں کو شکست فاش نہ دے دیں۔انہوں نے کہا کہ اقوام عالم میں بے شمار مثالیں موجود ہیں جب قوم اورسیاسی و عسکری قیادت ایک ہوکردہشت گردی کے چیلنج کے خلاف اکٹھی ہوئی تو کامیابی نے قدم چومے اورآج پاکستان کی قوم،سیاسی و عسکری قیادت دہشت گردی کے خلاف ایک ہوچکی ہے۔ راستہ اگرچہ طویل ہے لیکن پہلا قدم ہی منزل تک پہنچنے کیلئے ضروری ہوتا ہے اوراللہ کے فضل سے پوری قوم نے فیصلہ کرلیا ہے کہ کھویا ہوا امن ملک کولوٹائیں گے اورملک وقوم کی طرف بڑھنے والا ہر ہاتھ توڑ ڈالیں گے۔ پاکستان کے عوام امن کے دشمنوں کے خلاف کامیابی ضرور حاصل کریں گے اور یہ صرف بندوق کی گولی سے نہیں بلکہ اس کیلئے تعلیم،صحت، انصاف کی ’’گولیوں‘‘ کے ساتھ غربت،بے روزگاری اور کرپشن کے خاتمے کی ’’گولیاں‘‘ بھی ایک ساتھ دینا ہوگی اورتبھی یہ ملک حقیقی معنوں میں قائدؒ اور اقبالؒ کا پاکستان بنے گا۔ پوری قوم یہ فیصلہ کرچکی ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے ہم کوئی بھی قیمت ادا کرنے کیلئے تیار ہیں۔

دہشت گردی کے خلاف نیشنل ایکشن پلان پر مؤثر عملدرآمد کیلئے تمام ممکنہ اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ پنجاب میں انسداد دہشت گردی فورس تشکیل دی گئی ہے۔ یونین کونسل کی سطح پر ویجلنس کمیٹیاں قائم کی جا رہی ہیں،عوام کے جان و مال کے تحفظ کیلئے ہرضروری قدم اٹھایا جا رہاہے، ضروری قانون سازی کے ذریعے سزاؤں کے قوانین کومزید سخت کیاگیا ہے۔ موجودہ غیرمعمولی حالات کے تقاضوں کے مطابق غیرمعمولی اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امن کے بغیر ترقی و خوشحالی کا خواب کبھی پورا نہیں ہوسکتا اس لئے پوری قوم نے پاکستان کا کھویا ہوا امن اسے ہرقیمت پر لوٹانے کا پکا عزم کر لیا ہے۔ مشترکہ کاوشوں اور اجتماعی دانش سے دہشت گردی، انتہاپسندی اور فرقہ واریت کا خاتمہ کریں گے اور پاک دھرتی کو آخری دہشت گرد کے ناپاک وجود سے پاک کرنے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ آگ اور خون کی ہولی کھیلنے والے وحشی درندوں سے آہنی ہاتھوں سینمٹنے کی پوری قوم حامی ہے۔ دہشت گردوں نے مساجد، عبادت گاہوں، تعلیمی اداروں، مذہبی مقامات اور بازاروں میں پاکستانیوں کا خون بہایا ہے۔ معصوم زندگیوں سیکھیلنے والے سفاک درندوں کا یوم حساب آن پہنچا ہے۔ قوم پشاور کے آرمی پبلک سکول میں بربریت کے بدترین واقعہ کو نہیں بھولی۔ معصوم پھولوں کو بے دردی سے مسلنے والے ظالم عبرتناک سزا ضرور پائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے ناسور کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا وقت آگیا ہے۔ قوم کے اتحاد سے ملک و قوم کے دشمنوں کو شکست فاش دیں گے۔ پاکستان کے 18کروڑ بہادر عوام دہشت گردوں کے مذموم عزائم خاک میں ملا دیں گے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فتح انشاء اللہ پاکستان کے عوام کی ہوگی اور امن کے دشمن عبرتناک انجام کو ضروری پہنچیں گے۔

دہشت گردوں کے ناپاک وجود سے پاکستان کی سرزمین کو پاک کرکے دم لیں گے۔ دہشت گردوں نے قومی معیشت اور پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ سیاسی و عسکری قیادت اور تمام ادارے دہشت گردی کے خاتمے کا پختہ عزم کر چکے ہیں۔ پاکستان کے استحکام، ترقی و خوشحالی اور آئندہ نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کیلئے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ناگزیر ہوگیاہے۔ ملک کو دہشت گردی کی لعنت سے پاک کرنے کیلئے باہمی مشاورت سے مضبوط اور مربوط لائحہ عمل مرتب کیاگیا ہے۔ قومی قیادت کے اتفاق رائے سے طے پانے والا نیشنل ایکشن پلان دہشت گردی کے خاتمے کا ذریعہ بنے گا۔

مزید :

کالم -