اسرائیل کے کہنے پر بڑے اسلامی ملک کا فلسطین کے خلاف ایسا اقدام کہ جان کر آپ کو بھی بے حد افسوس ہوگا

اسرائیل کے کہنے پر بڑے اسلامی ملک کا فلسطین کے خلاف ایسا اقدام کہ جان کر آپ کو ...
اسرائیل کے کہنے پر بڑے اسلامی ملک کا فلسطین کے خلاف ایسا اقدام کہ جان کر آپ کو بھی بے حد افسوس ہوگا

  

قاہرہ(مانیٹرنگ ڈیسک) غزہ کی پٹی اس وقت 2 اطراف سے اسرائیل اور تیسری طرف سے سمندر میں گھری ہوئی ہے۔ اس کی ایک طرف قطر کی سرحد لگتی ہے اورجب اسرائیل کے غزہ کی پٹی کے محصور مسلمانوں تک اشیائے خورونوش و دیگر سامان کی رسد مکمل طور پر بند کر دیتا ہے تو ان کا واحد سہارا یہی قطر کا بارڈر ہوتا ہے۔ یہاں محصور فلسطینیوں نے سرنگیں بنائی ہوئی ہیں جن کے راستے وہ روزمرہ اشیاء کا 30فیصد غزہ لاتے ہیں۔ لیکن اب ”اسلامی“ ملک قطر نے اسرائیل کے کہنے پر ایک بار پھر ان سرنگوں کو پانی سے بھرنا شروع کر دیا ہے۔اسرائیلی اخبار ”یروشلم پوسٹ“ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیرتوانائی یوول سٹینز نے اس امر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ”قطری صدر عبدالفتح السیسی نے ہماری درخواست پر فوری طور پر ان سرنگوں کو پانی سے بھر کر تباہ کرنے کا حکم دے دیا ہے۔“

گزشتہ سال بھی مصری حکومت نے اسرائیل کے ایماء پر اپنے بارڈر پر موجود سرنگیں پانی سے بھر کر تباہ کر دی تھیں جس سے محصور فلسطینی اشیائے خورونوش کے شدید بحران کا شکار ہو گئے تھے۔ لیکن کچھ سرنگیں تاحال باقی تھیں، ان کا سراغ ملنے پر اسرائیل نے ایک بار پر قطر کو سرنگوں کی نشاندہی کی اور انہیں پانی سے بھرنے کو کہا جس پر عبدالفتح السیسی نے فوری حکم جاری کر دیا ہے۔اخبار کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیرتوانائی نے صحافیوں سے گفتگو کے دوران شام کی صورتحال پر بھی تبصرہ کیا اور شام میں ایرانیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ”شام میں ایرانیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اسرائیل کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔“

انہوں نے خبردار کیا کہ شام کی صورتحال میں آنے والی موجودہ تبدیلیاں شام کو ایران کی کالونی بنا دیں گی، کیونکہ شام میں ایرانی فوج اور خفیہ ایجنسیوں کی موجودگی ضرورت سے کہیں زیادہ ہو چکی ہے اور ان کی اکثریت اسرائیل کے شمالی بارڈر کے قریب موجود ہے۔“ یووول سٹینز کا کہنا تھا کہ ”شام میں ایران کے بڑھتے اثرورسوخ کے معاملے کو اسرائیل اپنے اتحادیوں، بالخصوص امریکہ کے ساتھ اٹھائے گا اور شام میں ایرانیوں کی حد سے زیادہ موجودگی کو روکنے کے لیے لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔“

مزید : بین الاقوامی