روس میں ’’99‘‘ فیصد کھلاڑی ڈوپنگ میں ملوث ہونے کاانکشاف

روس میں ’’99‘‘ فیصد کھلاڑی ڈوپنگ میں ملوث ہونے کاانکشاف

اسلام آباد (آن لائن) روس میں ’’99‘‘ فیصد کھلاڑی ڈوپنگ میں ملوث ۔ ڈ سکس تھرو کی کھلاڑی ‘یوجینیا پچرینا نے انکشاف کیا کہ روس میں ’’99‘‘ فیصد کھلاڑی ڈوپنگ میں ملوث ہیں۔ جرمنی کے سرکاری نشریاتی ادارے‘ اے آر ڈی کی دستاویزی رپورٹ کے مطابق یوجینیا پچرینا نے افشا کیا کہ روس میں ہر قوت بخش ممنوعہ ادویہ باآسانی مل جاتی ہے۔ دوسری روسی کھلاڑی اور لندن میراتھن 2010ء4 کی فاتح‘ للیا شوبوخدا نے انکشاف کیا کہ جب رشین ایتھلیٹکس فیڈریشن نے میراتھن سے قبل اس کا طبی معائنہ کیا‘ تو معلوم ہو گیا کہ وہ قوت بخش ادویہ استعمال کرتی ہے۔ للیا نے پھر فیڈریشن کے متعلقہ افسروں کو ساڑھے چار لاکھ یورو کی رشوت دی تاکہ وہ اپنا منہ بند رکھیں۔دستاویزی پروگرام میں ماریا سوہنوا کو بھی دکھایا گیا۔ ماریہ نے لندن کے اولمپکس میں 800 میٹر کی دوڑ جیت کر طلائی تمغہ پایا تھا۔ ماریہ نے یہ تسلیم کیا کہ وہ ممنوعہ سٹرائیڈ دوا، اوکسنڈرولون (Oxandrolone) استعمال کرتی رہی ہے۔ پروگرام میں زیادہ تر انکشافات و تالے سٹیپانوف نے کیے جو روس میں ڈوپنگ کے خلاف سرگرم عمل سرکاری ادارے‘ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی کا سابق اعلیٰ افسر ہے۔ اس نے انکشاف کیا کہ روسی سپورٹس اداروں کے افسر کھلاڑیوں کو بھاری قیمت پر ممنوعہ قوت بخش ادویہ فروخت کرتے ہیں۔ بعض اوقات وہ افسر فتح سے حاصل ہونے والی رقم میں بھی حصہ دار بنتے ہیں۔ وتالے سٹیپانوف نے مزید بتایا کہ کوچ اور ڈاکٹر سے لے کر روسی سپورٹس اداروں کی انتظامیہ تک سبھی کھلاڑیوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ اپنی کارکردگی بڑھانے کے لیے ممنوعہ قوت بخش ادویہ کا استعمال کریں۔ مدعا یہی ہوتا ہے کہ کھیلوں کے ہر عالمی مقابلے میں روس زیادہ سے زیادہ تمغے جیت سکے۔ گویا پروگرام میں الزام لگایا گیا کہ روسی حکومت بھی اپنے کھلاڑیوں کی ڈوپنگ میں ملوث ہے۔اس جرمن پروگرام نے یورپ اور امریکا میں کھیلوں کی دنیا کو ہلا ڈالا۔ سابق و حاضر یورپی و امریکی کھلاڑیوں نے روس کا ڈوپنگ اسکینڈل سامنے آنے پر نہایت غم وغصّے کا اظہار کیا۔ ان کاکہنا تھا کہ روسی کھلاڑی کئی عالمی مقابلوں میں ممنوعہ قوت بخش ادویہ استعمال کر کے جیت گئے۔ جبکہ دیگر ممالک کے جو کھلاڑی سارا سال محنت کرتے رہے تھے‘ انہیں شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔ یہ امر انصاف ا ور اخلاقیات کے منافی ہے۔روس کی وزارت کھیل نے ابتدا میں اس پروگرام کو بے بنیاد قرار دیا۔

وزارت کا دعویٰ تھا کہ یہ اس مخالفانہ مہم کا حصہ ہے جس کے ذریعے مغرب روس کو بدنام کرنا چاہتا ہے۔ بہر حال انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کی ہدایت پر واڈا (ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی) نے ایک کمیشن ترتیب دیا جو روس میں ممنوعہ قوت بخش ادویہ کے استعمال پر تحقیق کرنے لگا۔ 9 نومبر 2015ء4 کو کمیشن اپنی روپورٹ منظر عام پر لے آیا۔ رپورٹ نے جرمن دستاویزی پروگرام کے انکشافات کی تصدیق کرتے ہوئے افشا کیا کہ کھیلوں کی روسی دنیا میں ڈوپنگ عام ہے اور یہ کہ سرکاری افسروں کی سرپرستی میں ممنوعہ قوت بخش ادویہ استعمال ہوتی ہیں۔ اس رپورٹ کی بنیاد پر 13نومبر کو آئی اے اے ایف نے روس کے ایتھلیٹک فیڈریشن کی رکنیت معطل کر دی۔ گویا اب یہ خطرہ منڈلا رہا ہے کہ شاید اس سال برازیل میں ہونے والے اولمپکس میں روسی ایتھلیٹ شرکت نہ کر سکیں۔اسی دوران روسی صدر‘ پیوٹن نے معاملے میں دخل دیتے ہوئے ا پنی وزارت کھیل کو ہدایت دی کہ جو افسر‘ کوچ‘ ڈاکٹر وغیرہ ڈوپنگ اسکینڈل میں ملوث ہیں‘ انہیں بہ مطابق قانون سزا دی جائے۔ دیکھیں اب روسی کھلاڑی اولمپکس میں شرکت کرتے ہیں یا نہیں۔روس کا ڈوپنگ اسکینڈل خاص طور پر سبھی کھلاڑیوں کو یہ اخلاقی سبق دیتا ہے کہ وہ محنت سے اپنے کھیل میں مہارت حاصل کریں اور جیت کی خاطر دھوکے بازی سے کام نہ لیں۔ یاد رہے‘ کھیلوں کے بین الاقوامی اداروں نے جن قوت بخش ادویہ پر پابندی لگا رکھی ہے‘ ان کا استعمال اصطلاح میں ’’ڈوپنگ‘‘ (Doping)کہلاتا ہے۔

مزید : کھیل اور کھلاڑی