انڈونیشیا سے چاول کی برآمد کا4سالہ معاہدہ کیا جاسکتاہے

انڈونیشیا سے چاول کی برآمد کا4سالہ معاہدہ کیا جاسکتاہے

اسلام آباد ۔ 07 فروری (اے پی پی)اسلام آباد چیمبر آف سمال ٹریڈرز کے سرپرست شاہد رشید بٹ نے کہا ہے کہ حکومت انڈونیشیا سے چاول کی برآمد کا چار سالہ معاہدہ کر کے اس شعبہ کو بہتر بنا سکتی ہے جبکہ اسکے اثرات سے مقامی منڈی میں چاول کی قیمت مستحکم ہونا شروع ہو گئی ہے، دیگر ممالک سے بھی چاول کی برامد کے طویل اور قلیل المعیاد معاہدے جلد از جلدکئے جائیں تاکہ اس شعبہ کے مسائل ختم ہو سکیں۔اتوار کو یہاں جاری بیان میں شاہد رشیدبٹ نے کہا کہ انڈونیشیا سے معاہدے کی وجہ سے امسال چاول کی برامدات 4.6 ملین ٹن تک بڑھ جائینگی جو ایک ریکارڈ ہو گا۔انہوں نے کہاکہ چاول کے بحران کی ایک وجہ بین القوامی مارکیٹ میں کم قیمت اور بھارت کی جانب سے کم قیمت چاول کی فراہمی کے باوجود مقامی برامدکنندگان کا قیمت کم نہ کرنا ہے جو زمینی حقائق کے خلاف ہے۔پاکستانی برامدکنندگان 950 سے1100 ڈالر فی ٹن چاول بیچنا چاہتے ہیں جبکہ بھارتی برامدکنندگان 720 سے 850ڈالر فی ٹن چاول فروخت کر رہے ہیں جسکی ایک وجہ بھارت میں پیداواری اخراجات کی کمی اور حکومت کی جانب سے خفیہ سبسڈی کی فراہمی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایران پر سے بین الاقوامی پابندیوں کے خاتمہ کے بعد وہاں بھی اضافی چاول پیچا جا سکتا ہے تاہم اس سلسلہ میں بھارت سے مقابلہ ہو گا ۔انہوں نے کہاکہ پاکستان ایران کو کئی لاکھ ٹن چاول برامد کر سکتا ہے مگر ابھی وہاں بینکاری کا نظام فعال نہیں ہوا جو تجارت میں اضافہ میں رکاوٹ ہے

مزید : کامرس