اورنج لائن میٹرو ٹرین پراجیکٹ کے اراضی مالکان کو معاوضوں کے لئے20ارب مختص

اورنج لائن میٹرو ٹرین پراجیکٹ کے اراضی مالکان کو معاوضوں کے لئے20ارب مختص
 اورنج لائن میٹرو ٹرین پراجیکٹ کے اراضی مالکان کو معاوضوں کے لئے20ارب مختص

  

عوام کو آمدو روفت کی بہترین سہولتیں فراہم کرناہے ہرفلاحی حکومت کی ذمہ داری ہے۔میٹرو بس سروس کے آغاز سے لاہور ٹرانسپورٹ کلچر کے نئے دور میں داخل ہو چکا ہے۔جہاں شہری آرام دہ اور بہترین سفری سہولت سے فیض یاب ہورہے ہیں ۔میٹرو لاہور کے کامیابی کے بعد راولپنڈی اسلام میٹرو سروس شروع ہو چکی ہے اور ملتان میں میٹروبس پراجیکٹ تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔ناقدین کے اعتراضات کے باوجود لاہور اور راولپنڈی اسلام آباد میں میٹروبس سروس پر روزانہ لگ بھگ پانچ لاکھ شہری سفر کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ لاہور کے قدیمی روٹ ٹھوکر نیاز بیگ،ملتان روڈ،ریلوے سٹیشن،جی ٹی روڈ تک آسان سفری سہولت فراہم کرنے کے لئے اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبے کا پراجیکٹ شروع کیا گیا ہے۔ہمارے پیارے دوست مُلک چین نے اورنج میٹرو ٹرین پراجیکٹ کے لئے فنی و مالی معاونت فراہم کرنے کا بیڑہ اٹھایا۔چائنا ریلوے اور چائنا نارتھ انڈسٹری کارپوریشن اور اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبے پر عمل درآمد اور ایگزم بینک آف چائنا حکومت پنجاب کو آسان قرض فراہم کررہا ہے۔1770 مربع کلومیٹر پر محیط ضلع لاہور کے لاکھوں شہریوں کے لئے آمدورفت کا جدید نظام ایک نعمت سے کم نہیں۔پاکستان کی پہلی اورنج لائن میٹرو ٹرین پراجیکٹ پر لاگت کا تخمینہ ایک کھرب پینسٹھ ارب روپے کے لگ بھگ ہے۔ 27کلومیٹر طویل اورنج لائن ٹرین کا روٹ علی ٹاؤن رائے ونڈ روڈ سے براستہ ٹھوکر نیاز بیگ،ملتان روڈ، ریلوے سٹیشن سے ڈیرہ گجراں نزد قائداعظم انٹر چینج رنگ روڈ ہے۔اورنج لائن میٹرو ٹرین کا 25.4 کلو میٹر حصہ زمین سے تقریبا18 فٹ بلندی پر ہو گا، جبکہ 1.7 کلو میٹر ٹریک زیر زمین ہو گا۔

عالمی معیار کی باوقار سفری سہولت کے لئے حاصل کی جانے والی جائیدادوں کے معاوضے کی ادائیگی کے لئے 20 ارب روپے مختص کئے جا چکے ہیں۔اورنج لائن میٹرو ٹرین کے لئے حاصل کردہ اراضی کے معاوضے کی ادائیگی سٹیٹ بینک آف پاکستان کے منظور شدہ ماہرین کے تخمینے کی بنیاد پر مارکیٹ ریٹ سے بھی بہتر دی جائے گی۔اراضی مالکان کو نہ صرف اراضی کا، بلکہ تعمیر شدہ عمارت کامعاوضہ ،کاروبار کے نقصان کا ازالہ اور رہائش کی منتقلی کے اخراجات کے لئے اضافی رقم ادا کی جارہی ہے۔اراضی مالکان کی سہولت کے لئے لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی ہیڈ آف جوہر ٹاؤن ،انجینئرنگ یونیورسٹی گیٹ نمبر6 ،گورنمنٹ کالج کرکٹ گراؤنڈ بالمقابل آئی جی پنجاب آفس اور ٹھوکر نیاز بیگ چوک ون ونڈو مراکز قائم کئے جا چکے ہیں۔جہاں تمام متعلقہ محکموں اور بینکوں کا عملہ موقع پر تعینات ہے۔اراضی مالکان کو لینڈ ایکوزیشن کلکٹر ایل ڈی اے کے نام درخواست دہندہ کے شناختی کارڈ کی کاپی ، دو گواہوں کے شناختی کارڈ کی کاپی ،سو روپے کے اسٹامپ پیپرپر بانڈ،پچاس روپے کے اسٹامپ پیپر پر بیان حلفی،فرد برائے حصول معاوضہ، انتقال اراضی کی مصدقہ نقل،رجسٹری کی مصدقہ نقل، یوٹیلٹی بل اور پراپرٹی ٹیکس کی رسید ساتھ لے کر ون ونڈو ادائیگی مراکز پر آنا ہو گا۔

اورنج لائن میٹروٹرین پراجیکٹ کے لئے حاصل کی جانے والی جائیدادوں کے مالکان کو دو دن میں ڈیڑھ ارب سے زائد رقم کی ادائیگی کی جا چکی ہے۔ایک اطلاع کے مطابق 753 مالکان کی طرف سے کلیم جمع کرائے جا چکے ہیں۔ٹرین منصوبے کے لئے مجموعی طور پر 2500 کنال اراضی حاصل کی جائے گی۔ایل ڈی اے 700 کنال اراضی حاصل کر چکا ہے جبکہ باقی اراضی اگلے ماہ تک حاصل کر لی جائے گی۔بتایا جاتا ہے کہ ڈیرہ گجراں پر 510 کنال اراضی پر مین ڈپوورکشاپ بنائی جائے گی۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ ایل ڈی اے بنگالی بلڈنگ ، مہاراجہ بلڈنگ اور کپور تھلہ ہاؤس کے مکینوں کو بھی بہترین معاوضہ اداکرے گی۔لکشمی چوک پر گیتا بھون بلڈنگ،پیراشوٹ کالونی،کچی آبادی کے مکینو ں کو بھی بہتر معاوضہ دیا جائے گا۔چوبرجی کے مکینوں کو نئے کوارٹرز بنا کر دئیے جائیں گے۔سمن آباد اسٹیشن بھلہ سٹاپ پر بنایا جائے گا۔علی ٹاؤن میں بھی 127 کنال پر ڈپو بنایا جائے گا۔

وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف کی ہدایت پر صوبائی وزراء ون ونڈو ادائیگی مراکز پر جاری کارروائی کی نگرانی کر رہے ہیں۔اراضی مالکان کو سپیشل شٹل سروس کے ذریعے سنٹرز پر پہنچایا جاتا ہے جہاں ایل ڈی اے ریونیو ٹاؤن ایڈمنسٹریٹر ،ضلعی انتظامیہ اور بینک آف پنجاب کے حکام ان کے مطلوبہ کاغذات کے لئے معاونت کررہے ہیں۔ صوبائی وزیر تعلیم رانا مشہوداحمد خاں نے ٹھوکر نیاز بیگ میں قائم ون ونڈو مرکز کا دورہ کرکے موجود لوگوں کے مسائل سنے اور موقع پر ازالے کی ہدایات جاری کیں۔ صوبائی وزیر خوراک بلال یاسین نے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی گراؤنڈ مرکز کا دورہ، جبکہ ڈی سی او لاہور محمد عثمان نے ٹھوکر نیاز بیگ ،جین مندر اور یو ای ٹی مرکز کا دورہ کیا۔رانا مشہود احمد خاں نے بتایا کہ متاثرین کو معاوضے کی ایک ایک پائی آسانی اور سہولت کے ساتھ ادا کی جائے گی۔

وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف ویڈیو لنک کانفرنس کے ذریعے اورنج لائن میٹرو ٹرین پراجیکٹ اراضی مالکان کو ادائیگی کے عمل کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں۔وزیراعلیٰ کی ہدایت پر یوم یکجہتی کشمیر کی تعطیل پر بھی ون ونڈ ادائیگی مراکز کھلے رہے تھے۔وزیراعلیٰ نے دوسرے روز بھی ویڈیو لنک کی جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے بیک وقت تین ادائیگی مراکز میں موجود اراضی مالکان ، وزراء، اراکین اسمبلی اور انتظامیہ سے معاوضے کی ادائیگی پر پیش رفت کے بارے دریافت کیا۔اراضی مالکان نے اپنی جائیدادوں کے معاوضے کی ادائیگی کیلئے شفاف اور تیز رفتار نظام وضع کرنے پر وزیراعلیٰ شہبازشریف کا شکریہ ادا کیا اور ادائیگی کے نظام اورمعاوضے کے بہترین ریٹس دینے کے اقدام کو سراہا۔ اراضی مالکان نے وزیراعلیٰ شہبازشریف سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ آپ کی قیادت میں ہمیں اراضی کا بہترین معاوضہ مل رہا ہے اور ادائیگی مراکز میں آپ کی سیاسی و انتظامی ٹیم ہر ممکن تعاون کر رہی ہے۔وزیراعلیٰ نے انجینئرنگ یونیورسٹی، ٹھوکر نیاز بیگ اور گورنمنٹ کالج گراؤنڈ، جین مندر کے ادائیگی مراکز سے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے بیک وقت براہ راست رابطہ کرکے ادائیگی کے عمل کا جائزہ لیا۔ وزیراعلیٰ نے اراضی مالکان کو معاوضے کی ادائیگی کا عمل مزید تیز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اگلے چند روز میں تمام اراضی مالکان کو معاوضے کی ادائیگی کردی جائے گی اور کوئی بھی اراضی مالک ادائیگی سے محروم نہیں رہے گا۔ وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف رات گئے اچانک انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور میں قائم اورنج لائن میٹروٹرین پراجیکٹ کے اراضی مالکان کو معاوضے کی ادائیگی کے لئے قائم ون ونڈو سنٹر کے معائنے کے لئے بغیرپروٹوکول پہنچ گئے۔ سینٹر میں موجود اراضی مالکان وزیراعلیٰ کو دیکھ کر حیران اور خوش ہوئے اور ادائیگی کے طریق کار کو سراہا اور وزیراعلیٰ کا شکریہ ادا کیا۔

مزید : کالم