پی ٹی آئی، ڈرائنگ روم سے ڈرائنگ روم تک

پی ٹی آئی، ڈرائنگ روم سے ڈرائنگ روم تک
 پی ٹی آئی، ڈرائنگ روم سے ڈرائنگ روم تک

  

سانحہ چارسدہ کے بعد عام پختون اشتعال کے عالم میں نظر آرہا ہے۔وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک منجھے ، نبض شناس سیاست دان ہیں۔ عوامی ردعمل کو بھانپتے ہوئے انہوں نے ایک پرائیویٹ یونیورسٹی میں جن خیالات کا اظہار کیا وہ قابلِ تعریف ہیں۔انہوں نے پوری دلیری اور سچائی سے کام لیتے ہوئے کہا ’’ہمارے لوگ کب تک مار کھاتے رہیں گے، وقت آگیا ہے افغانستان سے فیصلہ کن بات کی جائے اور شناخت کے بغیر بسنے والے افغانوں کو واپس وطن بھیج دیا جائے‘‘۔ دہشت گردی کے خلاف لڑی جانے والی جنگ میں اصل متاثرہ فریق صوبہ خیبر پختونخوا ہے۔ کسی بھی قسم کی حتمی پالیسی سے قبل خیبر پختونخوا کی رائے کو فوقیت دینی چاہئے۔ پالیسی کیسی ہو؟جناب خٹک کی یونیورسٹی والی تقریر میں سب کچھ موجود ہے، لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے، جس طرح کی خطرناک جنگ لڑی جا رہی ہے کیا اس کے بنیادی خدوخال اور نتائج کے لئے روڈ میپ کو ٹھوس بنیادوں پر استوار کیا گیا ہے؟ضربِ عضب بیس نکات پر مشتمل تھا۔ لگ بھگ ایک چوتھائی پر عمل ہوا اور بقیہ ہنوز سوالیہ نشان؟ وجوہات لاتعداد بیان کی جاتی ہیں،جبکہ ذمہ داری لینے کو کوئی تیار نہیں۔ کہیں کو آرڈینیشن میں کمی کا بہانہ تراشہ جاتا ہے، کہیں فنڈز کی عدم دستیابی کا رونا رویا جاتا ہے، کہیں فقط دھواں دھار بیانات سے دشمن کو للکارا جاتا ہے اور کہیں سب اچھا کہہ کر خود کو مطمئن کیا جاتا ہے۔ ایسا کب تک چلے گا؟ سانحے کے بعد سانحہ اور پھر ایک اور سانحہ، قومی مزاج تیزی سے چڑچڑاہٹ اور ڈیپریشن زدہ ہو رہا ہے۔

بات ہورہی تھی جناب پرویز خٹک کی۔ عزم اور حوصلے والے آدمی ہیں۔ تبدیلی کے نعرے پر لبیک کہا اور اقتدار کے اعلی ایوان میں براجمان بھی ہوئے۔ انقلابی ایجنڈے پر کام شروع کیا، کامیابی کس حد تک ملی، آنے والے دنوں میں واضح ہو جائے گا۔ ایک ذمہ داری وہ جو اقتدار کی صورت کندھوں پر پڑی ہے اور دوسری وہ جو آج نہیں تو کل پارٹی معاملات میں بگاڑ کی صورت سامنے آئے گی۔ پارٹی کارکن ہونا علیحدہ بات ہے اور پارٹی کی طرف سے کسی عہدے پر تفویض کیا جانا دوسرا معاملہ۔ عمران خان کے ساتھ ساتھ خٹک صاحب کی بھی ذمہ داری بنتی ہے پارٹی کے اندرونی معاملات کو سدھارنے کی خاطر اپنا کردار ادا کریں۔ ٹوٹی بانہیں بالآخر گلوں کو ہی آتی ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف پنجاب میں جس برق رفتاری سے تنزلی کے سفر پر گامزن ہے، خدشہ ہے اگلے انتخابات میں موجودہ سیاسی پوائنٹ سکورنگ سے بھی ہاتھ دھونا پڑ سکتا ہے۔ انتہائی قیمتی وقت ایک مرتبہ پھر انٹراپارٹی الیکشن کی نذر کیا جا رہا ہے۔ کوئی آواز اٹھانے والا بھی نہیں۔ ہاں البتہ جہانگیر ترین اور پرویز خٹک اتنی حیثیت ضرور رکھتے ہیں اگر چاہیں تو پارٹی معاملات بہتر ہو سکتے ہیں۔ یہ افراد ان گنے چنے مصاحبوں میں سے ہیں، جن کی عمران خان ٹال نہیں سکتے۔پاکستان تحریک انصاف کے ڈھلوانی سفر بارے بہت کچھ لکھا گیا۔ کبھی تحریر کی صورت اور کبھی تقریرکے ذریعے ان غلط فیصلوں کی نشاندہی بھی کی گئی، جنہوں نے پارٹی سٹرکچر کو نقصان پہنچایا۔ آج یہاں قارئین کے لئے ایک کیس سٹڈی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے ۔ اس کیس کو نہ صرف ذاتی حیثیت سے سٹڈی کیا گیا،بلکہ ٹرننگ پوائنٹس کا حصہ بھی رہا ۔

لگ بھگ سات سال پہلے کی بات ہے گوجرانوالہ کے علاقہ جناح روڈ، گلہ حمید والا کے چودھری محمد علی نامی نوجوان سے ملاقات ہوئی۔ چند ہی نشستوں میں اس کی شرافت نے خوشگوار اثرات چھوڑے ۔ دھیرے دھیرے ملاقاتوں کا سلسلہ بڑھنے لگا۔ وہ عمران خان کو دیوانگی کی حد تک پسند کرتا تھا۔ بات امریکہ کی ہوتی یا افریقہ کی ، وہ گھما پھرا کر عمران خان اور پی ٹی آئی پر لے آتا۔ اگرچہ عمران خان کی یکدم پٹڑی سے اترنے والی پالیسی سے اختلاف رہتا۔ محمدعلی کئی کئی گھنٹوں تک اپنی پارٹی کو ڈیفنڈ کرتے ہوئے قائل کرنے کی کوشش کرتا رہتا۔ کئی دفعہ اس کے ساتھ پی پی 93 کی کارنر میٹنگز میں شرکت بھی کی۔ موقع ملتا تو اسے یہ ضرور باور کرواتا کہ پی ٹی آئی کی اصل پرواز اس دن شروع ہوگی جب عمران خان عام کارکن کے دُکھ درد اور خوشی میں شریک ہونا سیکھیں گے۔ غمی اور خوشی میں شرکت پاکستانی سیاست کے ایسے لازمی امر ہیں، جن کے بغیر کوئی بھی جماعت گلی ، محلے کی سیاست میں کامیاب ہوہی نہیں سکتی۔ کہنے کو تو محمد علی اپنے حلقے میں کام کر رہا تھا، لیکن دیگر علاقوں کے کارکنان بھی اپنے مسائل کے حل کے لئے ضلعی اور سٹی صدر کو چھوڑ کر اس کے پاس آتے۔ وجہ کیا

تھی؟فراخدلی۔ آنے والے کو چائے، پانی، کھانا اور مالی مدد کی صورت وقتی ریلیف حاصل ہوتا۔ یہ فراخدلی گوجرانوالہ تک ہی محدود نہ تھی، بلکہ پی ٹی آئی لاہور کے مرکزی دفتر کے ماہانہ اخراجات پورے کرنے میں بھی اس کا بنیادی کردار تھا۔ یہ وہ دور تھا جب پی ٹی آئی میں انقلاب انقلاب کھیلنے والے تو بہت تھے، لیکن پیسے خرچنے والا شاذ و نادر ہی نظر آتا تھا۔ وہ اپنے حلقے میں پرائمری یونٹس کا جال بنتا چلا گیا۔ ایک ایک گلی میں حمایتی پیدا کئے۔ عام لوگوں کے مسائل میں دلچسپی لی۔ کسی کے آپریشن کا معاملہ ہو یا بیٹی کی شادی کے لئے کھانے کی پریشانی، کسی کو خلیج جانے کے لئے ویزے کی رقم چاہئے ہو یا چھوٹا موٹا ٹھیلا لگانے کے لئے وسائل، اس نے کبھی ہاتھ نہ روکا۔ اس عام کارکن کی شہرت مرکزی قائدین تک بھی پہنچی ہوئی تھی ۔ عام انتخابات میں ٹکٹوں کی تقسیم کا مرحلہ آیا تو اسے پی پی 93 میں ٹکٹ سے نواز دیا گیا۔ مقابلے میں پیپلز پارٹی کے سابقہ ایم پی اے طارق گجر اور مسلم لیگ کے اشرف انصاری تھے۔ طارق گجر کے والد چودھری خدا بخش اور محمدعلی کے والد چودھری حمید ایڈووکیٹ پرانے سیاسی حریف بھی تھے۔ خیر دونوں طرف سے خوب تیاریاں ہوئیں۔ ایک دوسرے کو للکارا گیا۔ انتخابات کا دن آیا۔ نتیجے کا اعلان ہوا۔ مسلم لیگی امیدوار اشرف انصاری جیت گئے۔دو روز بعد اس کی حویلی میں ملاقات ہوئی تو کہا ’’آپ کو اگلے انتخابات میں پی ٹی آئی کی طرف سے ٹکٹ نہیں ملے گا۔ یا تو سیاست چھوڑ دیں اور پوری توجہ بزنس پر دیں یا آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنے کی تیاریاں ابھی سے شروع کر دیں‘‘۔ اس وقت اسے میری بات پر یقین نہ آیا۔ وقت گذرتا چلا گیا۔ سیاسی ’’تقاضوں اور مجبوریوں‘‘ کے تحت پی ٹی آئی اپنے انقلابی ایجنڈے میں ’’انقلاب دشمنوں‘‘ کو بھی شامل کرنے پر مجبور ہوگئی۔ چودھری محمد علی کے حلقے میں بھی کچھ ایسا ہی ہوا، اور اس کے خاندانی انتخابی حریف، طارق گجر کو ٹکٹ کے وعدے کے ساتھ پی ٹی آئی میں شامل کر لیا گیا۔ پی پی 93 میں بستا عام پی ٹی آئی کارکن بد دل ہوا اور ایک دوسرے سے پوچھنے لگا یہ کیسی تبدیلی ہے؟ جس پیپلز پارٹی کے خلاف ہمیں لڑنے کا درس دیا گیا، اب اسی پیپلز پارٹی کے امیدوار کو ٹکٹ کے وعدے پر سینے سے لگایا جا رہا ہے۔ کئی ایک نے تو یہ بھی کہا خان صاحب یاد رکھیں پیپلز پارٹی پر فی الوقت آسیب کا سایہ ہے، اس کے کسی بھی امیدوار کو ٹکٹ دے لیں ، نتیجہ شکست کے طور پر ہی نکلے گا۔

یہ صورت حال کسی ایک حلقے تک محدود نہیں۔ فیصل آباد، سیالکوٹ، راولپنڈی سمیت پنجاب میں تقریباً ہر جگہ یہی کچھ ہو رہا ہے۔ پرانے کارکنوں کو یکسر نظر انداز کرکے نئے چہروں کو مسلط کیا جا رہا ہے۔ ردعمل کے طور پر مخلص اور جنونیوں کی طرح کام کرنے والے کارکن بددل ہو کر سیاسی سرگرمیوں سے ہی کنارہ کش ہو رہے ہیں۔ یہ بدقسمتی نہیں تو اور کیا ہے، پی ٹی آئی ڈرائنگ روم سے نکل کر گلیوں، محلوں تک پہنچی اور اب پھر سے واپس ڈرائنگ روم کو لوٹ رہی ہے۔ شائد خان صاحب کے اردگرد موجود لوگ انہیں مکمل تباہی کی جانب دھکیلنے کا منصوبہ بنا چکے ہیں۔ وہ اس غلط فہمی کا شکار ہیں لوگ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ سے اکتا چکے ہیں، لہٰذا اگلی دفعہ پی ٹی آئی کو ووٹ دینا ان کی مجبوری ہوگی۔ ایسا قطعا نہیں۔ خان صاحب کو بنی گالا سے نکل کر پنجاب کے تنظیمی ڈھانچے کی طرف متوجہ ہونا پڑے گا۔ انہیں پاکستان کی سیاست کرنا ہوگی ، لندن یا نیویارک کی نہیں۔ وہ ضلعوں میں جائیں، کارکنوں کی گزشتہ پرفارمنس کو ریڈ کریں اور ضلعی و سٹی عہدیدار براہ راست نامزد کریں۔ پاکستانی سیاست میں لیڈر مانا ہی اسے جاتا ہے جو اتھارٹی رکھتا ہو، جبکہ خان صاحب اپنی یہ اتھارٹی ’’انٹرا الیکشن‘‘ نامی بلا کے سپرد کر چکے ہیں۔ اگر اس بلا نے ممی ڈیڈی یا مردم بیزاروں کو جنم دے دیا تو پارٹی معاملات خاک میں مل جائیں گے۔ پنجاب ہر گزرتے دن پی ٹی آئی کے لئے پچھلے پہر کے ڈراؤنے خواب کی مانند بنتا چلا جا رہا ہے۔ پی ٹی آئی کارکن بڑی سرعت سے میچور ہو رہا ہے۔ وہ عقیدت کی سٹیج پھلانگ کر سوال اور احتساب کی منزل پر کھڑا ہے۔ عقیل ڈار، رانا نعیم الحسن، سردار ماجد ایڈووکیٹ، عنصر نت، جعفری، کیسے کیسے کارکن ہیں جو بالکل فریز ہو چکے ہیں۔ جناب خٹک سے کھانے پر ہونے والی ملاقات میں یہ ساری گذارشات گوش گذار کی تھیں۔اب دیکھئے انہیں کب عملی جامہ پہنایا جاتا ہے۔

مزید : کالم