پی آئی اے بحران،سول ایوی ایشن جہازوں کی پارکنگ کے عوض جرمانہ وصول کریگی

پی آئی اے بحران،سول ایوی ایشن جہازوں کی پارکنگ کے عوض جرمانہ وصول کریگی

لاہور(شہباز اکمل جندران)فلائیٹ آپریشن معطل ہونے پرپی آئی اے کیلئے ایک اور مشکل کھڑی ہوگئی۔سول ایوی ایشن نے جہازوں کی پارکنگ اور شیڈول کے مطابق پرواز نہ کرنے والے طیاروں کے عوض جرمانہ وصول کرنے کی تیاریاں شروع کردیں۔ملک بھر میں دو سے 7فروری کے دوران کراچی ،اسلام آباد، لاہور ، کوئٹہ اور پشاورو دیگر ائیر پورٹس سے بیسیوں لوکل و انٹرنیشنل فلائٹس منسوخ ہوئیں۔ اور ایپرن میں طیارے پارک رہے۔جس کے عوض سول ایوی ایشن ، پی آئی اے سے پارکنگ اور جرمانے کی مد میں رقم وصول کریگی۔معلوم ہواہے کہ دوفروری سے شروع ہونے والی پی آئی اے ملازمین کی ہڑتال کے باعث 6دنوں میں کراچی کے قائد اعظم انٹرنیشنل ائیر پورٹ ، اسلام آباد کے بے نظیر انٹرنیشنل ائیر پورٹ ، لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ائیر پورٹ ،پشاور کے باچا خان انٹرنیشنل ائیر پورٹ کے علاوہ ، سیالکوٹ ، سکھر، حیدر آباد،لاڑکانہ، بہاولپور ، ڈی جی خان، فیصل آباد،گوادر ،ملتان ، تربت اوررحیم یارخان ، گلگت ،سکردواور دیگر ائیرپورٹس سے بیسیوں فلائٹس شیڈول کے مطابق پرواز بھرنے کی بجائے منسوخ کردی گئیں۔ جس سے پی آئی اے کے تمام 38طیارے جہاں تھے۔وہیں ایپرن میں پارک رہے۔اور ایک طرف پی آئی اے کو ان کی پارکنگ فیس ادا کرنا پڑی اور پارکنگ کے لیے طے شدہ وقت ختم ہونے پر ان طیاروں نے ایپرن خالی نہ کیا تو مزید فیس اور جرمانہ بھی شمار ہونے لگا۔تو دوسری طرف سول ایوی ایشن شیڈول کے مطابق اڑان نہ بھرنے والے طیاروں کو قواعد وضوابط کے تحت جرمانہ بھی عائد کرتی ہے۔سول ایوی ایشن کے ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ کسی بھی فلائٹ کے ٹیک آف اور لینڈنگ کے عوض سول ایوی ایشن الگ سے فیس وصول کرتی ہے۔ اور کسی بھی طیارے کی لینڈنگ و ٹیک آف کا جو بھی وقت مقرر ہوتا ہے۔ اس وقت دیگر فلائٹس کولینڈنگ اور ٹیک آف کی اجازت نہیں ہوتی ۔اور سول ایوی ایشن نے ملک کے تمام بین الاقوامی ائیر پورٹس پر گزشتہ6دنوں کے دوران غی یقینی صورتحال کے پیش نظر پی آئی اے کے طیاروں لینڈنگ اور ٹیک آف کے اوقات میں دیگر کمپنیوں کے جہازوں کو اترنے نہ دیا۔لیکن پی آئی اے کے جہاز بھی نہ تو اڑے اور نہ ہی اترے ۔لیکن ایوی ایشن حکام اس کی ذمے داری پی آئی اے پر ڈالتے ہوئے طے شدہ فیس کے علاوہ جرمانہ بھی وصول کریگی۔اس سلسلے میں گفتگو کرتے ہوئے سول ایوی ایشن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ جہازوں کی پارکنگ اور لینڈنگ و ٹیک آف کی فیس ہوتی ہے۔ جو سول ایوی ایشن وصول کرتی ہے۔اور پی آئی اے کے جہازوں کی مسلسل پارکنگ اور فلائٹ آپریشن کے معطل ہونے کی وجہ سے ایپرن مصروف اور بھرے ہوئے ہیں۔اس مد میں ہونے والا نقصان وصول کیا جائیگا۔لیکن اس ضمن میں اعدادوشمار ابھی قبل ازوقت ہونگے۔

مزید : صفحہ اول