پی آئی اے بحران جاری ،ہڑتالی ملازمین نے سیاسی جماعتوں سے مدد مانگ لی

پی آئی اے بحران جاری ،ہڑتالی ملازمین نے سیاسی جماعتوں سے مدد مانگ لی

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک،آئی این پی ) کراچی میں پی آئی اے ہیڈ آفس پر مظاہرین کا دھرنا جاری ہے، جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے سیاسی جماعتوں کو بھی مدد کیلئے بلا لیا ہے،ایم کیو ایم کا وفد اظہار یکجہتی کیلئے پہنچا تو سہیل بلوچ نے ثالثی کے لئے کردار ادا کرنے کی اپیل کر دی،متحدہ قومی موومنٹ نے پی آئی اے ملازمین کو حکومت کے ساتھ مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کی یقین دہانی کرادی ۔پی آئی اے فلائٹ آپریشن کی جزوی بحالی کے بعد پی آئی اے کی پہلی دو پروازیں عمرہ زائرین کو لے کر جدہ سے اسلام آباد پہنچ گئی۔گزشتہ روزایم کیو ایم کے رہنمافاروق ستار نے پی آئی اے ملازمین کو یقین دہانی کرائی کہ وہ اسلام آباد جا کر وزیر اعظم نواز شریف اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے سامنے پی آئی اے ملازمین کے مطالبات رکھیں گے۔کر اچی میں فاروق ستار نے پی آئی اے ملازمین کے احتجاج میں شرکت کی۔دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے فاروق ستار کا کہنا تھا کہ پی آئی اے فیملی کو بچانے کیلئے نکلے ہیں، حکمرانوں کو نجکاری اور تباہ کاری کا فرق ہی معلوم نہیں،اس موقع پر انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کسی کے باپ کی جاگیر نہیں ہے بلکہ عوام کی امانت ہے۔فاروق ستار کا کہنا تھا کہ حکومت پی آئی اے کی نجکاری نہیں بلکہ تباہ کاری کر رہی ہے ،اگر حکمران نجکاری اور تباہ کاری کا فرق نہیں جانتے تو ہم بتا دیتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ پی آئی اے اور حکومت کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لیے اسلام آباد جا رہے ہیں ،پی آئی اے ملازمین کے مطالبات کی حمایت کرتے ہیں جنہیں وزیر اعظم اور وزیر خزانہ کے سامنے رکھیں گے۔انہوں نے کہا کہ ملازمین کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانیں دیں گے، پی آئی اے کے لاپتہ ملازمین کو فوری طور پر بازیاب کرایا جائے۔فاروق ستار نے مزید کہا کہ پی آئی اے نے گورے انگریزوں سے انصاف حاصل کیا ،اس کو کالے انگریزوں کے قبضے سے بھی چھڑائیں گے ،پی آئی اے کو بچا کر پاکستان بچائیں گے۔ اس موقع پر سہیل بلوچ نے کہا کہ متحدہ ساتھ کھڑی رہی تو ناکام نہیں ہونگے۔قبل ازیں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پی آئی اے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے چیئرمین سہیل بلوچ کا کہنا تھا کہ ان کی تحریک ناکام ہوئی تو پی آئی اے نہیں بلکہ پاکستان کا نقصان ہو گا، مذاکرات کی بھیک نہیں مانگ رہے۔ سہیل بلوچ کا مزید کہنا تھا کہ فلائٹ آپریشن بحال نہیں کیا گیا، حکومت نے پائلٹس کو زبردستی بلوایا ہے۔ دوسری جانب پی آئی اے نجکاری کیخلاف ملازمین کے احتجاج اور فلائٹ آپریشن مسلسل چھ روز تک بند رہنے کے بعد پی آئی اے فلائٹ آپریشن کوآج جزوی طور پربحا ل کر دیا گیا ہے جس کے بعددو پروازیں آج عمرہ زائرین کو لیکر آئی ہیں۔ پی آئی اے ترجمان نے کہا کہ پی آئی اے کی پروازپی کے7330کم و بیش 400زائرین کولیکر جدہ سے اسلام آباد پہنچی ہے جبکہ دوسری پرواز پر 325زائرین لائے گئے۔

سکھر(آن لائن) قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے حکو مت کو پیشکش کی ہے کہ اگر حکومت چاہے تووہ پی آئی اے کے ملازمین سے بات کر نے کو تیار ہیں حکو متاورینج ٹرین اور لا ہور کے عبد الحکیم روڈ پر سبسڈی دے رہی ہے مگر پی آئی اے کو تین سو ارب دینے کو تیار نہیں ہے اگر حکو مت سبسڈی دے اور اس کے بعد بھی نقصان ہو تو میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں بھی حکو مت کے ساتھ کھڑا ہونگا ان خیالات کا اظہار انہوں نے سکھر میں اپنی رہائش گاہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہو ئے کیا انہوں نے مزید کہا کہ وزیر داخلہ پر کوئی تبصرہ کر کے اس کا قد نہیں بڑھا نا چاہتا وزراء کے بیانات پر کوئی بات نہیں کروں گا ہر کسی کا اپنا ظرف ہے وہ جو زبان استعمال کررہے ہیں میں نہیں کرنا چاہتا اگر وزیر اعظم نے اسے تنبیہ کی ہے تو پھر ان کو مجھ پر لگا ئے گئے الزامات کی بھی ترید کرنی چاہیئے میں وزیر اعظم کے پا رلیمنٹ میں آنے کا منتظر ہوں میڈیا بھی انتظار کر ے اگر الزامات ثابت ہو ئے تو سیاست کو خیر باد کہہ دوں گا ان کا کہنا تھا کہ اورنج ٹرین منصوبے پر جو رقم خرچ کی جا رہی ہے وہ پو رے عوام کی ہے صرف لاہور کے لوگوں کی نہیں ہے حکومت ترقی کے جو دعوے کر رہی ہے وہ غریب کے خون پر نہیں ہو نی چاہیئے ان کا کہنا تھا کہ نجکاری تو پہلے بھی ہو ئی تھی اور قرض اتار و ملک سنوارو مہم بھی چلی تھی مگر قرض توپہلے سے بھی دوگنا ہوگیا ہے اور اس کا حجم بڑھ کر ساڑھے چار ہزار بلین ہو گیاہے حکو مت کی زبان میں شائستگی ہو نی چا ہیئے مگر میاں صاحب کی زبان میں تو نرمی ہی نہیں آرہی ہے وہ کہتے ہیں کہ دوسری ائیر الئن چلائیں گے تو یہ اچھی بات ہے اس سے ملک کے لو گوں کا فا ئدہ ہوگا وزیر اعظم کی بات حرف آخر سمجھی جا تی ہے مگر پی آئی اے کی نجکاری کا بل جلد بازی میں پا رلیمنٹ میں لا یا گیا حکو مت مذاکرات کی بجا ئے مار دھاڑ پر یقین رکھ رہی ہے پی آئی اے کی ایک ہفتے کی ہڑتال سے کروڑوں رو پے کا نقصان ہوا ہے بھا رت میں کسان خو شحال ہو رہا ہے اور پا کستان میں اس کی حا لت ابتر ہے میں تو حکو ت سے کہتا ہوں کہ وہ تمام منصوبے چاہے وہ سندھ میں ہوں یاکسی ور صوبے میں سب کو ختم کرے اور اس کی جگہ ڈیمز بنا ئے کیونکہ پا کستان کا مستقبل زراعت سے وابستہ ہے وزیر اعظم سب کا ہوتا ہے اور پو ری قوم کا ماں اور باپ ہوتا ہے اور قوم کی رکھوالی کی ذمہ داری اس پر عائد ہو تی ہے ان کا کہنا تھا کہ جمہو ریت میں احتجاج کا حق ہوتا ہے وزیر اعظم اگر یہ کہتے ہیں کہ سروس ایکٹ بھٹو کے دور میں بھی لگاتھا تو پو ری قوم سن لے کہ سروس ایکٹ کے تحت فوج ، سی اے اے کے ٹاورز ، پو لیس ، ایٹمی پاورز کے ملازمین یو نین نہیں بنا سکتے مگر جو سی بی اے ادارے ہیں وہاں پر یونین بن سکتی ہے خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ ساہیوال ایگر بیس ضلع ہے جو بجلی کے منصوبے سے تباہ ہو جا ئے گا یہ منصوبہ تھر یا کسی اور علاقے میں لگنا چا ہیئے تھا،خورشید شاہ نے کہا کہ بھٹو ااور بینظیر نے ڈرا ئنگ روم کی سیا ست کو ختم کردیا اب لوگ موونگ ڈرائنگ روم بنا رہے ہیں اچھی بات ہے مگرپیپلز پارٹی جلد ملک کو بھٹو اور بینظیر دے گی ۔

مزید : صفحہ اول