پاکستان با لآخر یونین سے اپنا موقف تسلیم کرانے میں کامیاب ہو گیا

پاکستان با لآخر یونین سے اپنا موقف تسلیم کرانے میں کامیاب ہو گیا

تجزیہ : قدرت اللہ چودھری

پاکستان نے یورپی یونین سے اپنا یہ مطالبہ بالآخر تسلیم کرا لیا ہے کہ کسی پاکستانی کو ڈی پورٹ کرنے سے پہلے اس کے کاغذات تصدیق کیلئے پاکستان بھیجے جائیں گے اور صرف اسی شخص کو پاکستان قبول کرنے کا پابند ہوگا جس کے سفری کاغذات کی تصدیق ہوگی۔ ہوتا یوں تھا کہ کچھ عرصہ پہلے تک یورپی یونین کے ممالک اپنے ہاں سے بعض ایسے لوگوں کو پکڑتے تھے جو پاکستانی تو نہیں تھے لیکن انہوں نے پاکستانی شہری ہونے کی جعلی دستاویز بنائی ہوتی تھیں، ان سب کو یہ ملک جہازوں میں بھر بھر کے پاکستان لے آتے تھے اور ایک اطلاع کے مطابق ان کے پردے میں تخریب کار بھی یہاں چھوڑے جاتے تھے، پچاس ہزار سالانہ کے لگ بھگ ایسے لوگ پاکستان بھیجے جاتے تھے، یہ دراصل وہی لوگ تھے جنہیں انسانی سمگلروں نے ان ملکوں میں سمگل کیا ہوتا تھا۔ ان میں بعض جائز پاکستانی شہری بھی ہوتے تھے جو انسانی سمگلروں کے ہتھے چڑھ جاتے تھے اور انہیں ایران، ترکی، یونان وغیرہ کے راستے سے یورپ پہنچایا جاتا تھا، ایسے بہت سے پاکستانی انسانی سمگلروں کے ظلم و ستم کی وجہ سے راستے میں ہی دم توڑ جاتے تھے۔ ایک روٹ یو کرائن بھی تھا، جہاں لے جانے کیلئے پاکستانیوں کو حیلوں بہانوں سے ویزے دلائے جاتے تھے، بعض کو طالب علم ظاہر کرکے وہاں کے تعلیمی اداروں میں داخلہ بھی دلایا جاتا تھا، جب یہ لوگ یوکرائن پہنچ جاتے تو پھر انہیں اگلے مرحلے میں سیل بند کنٹینروں کے ذریعے یورپ پہنچایا جاتا تھا، ایک ایک کنٹینر میں اوپر نیچے تین تین ’’منزلیں‘‘ بنائی جاتی تھیں۔ ان میں صرف اتنی گنجائش ہوتی تھی کہ آدمی سمٹ سمٹا کر اکڑوں بیٹھ سکتا تھا، آپ تصور کرسکتے ہیں کہ اس حالت میں آٹھ دس گھنٹے تک بیٹھنا کتنا اذیت ناک ہوسکتا ہے۔ یہ صرف پاکستانی نہیں ہوتے تھے ان میں عرب ممالک سے تعلق رکھنے والے بھی سوار ہوتے تھے، کنٹینروں میں بٹھا کر باہر سے کنٹینر کا منہ ویلڈ کردیا جاتا تھا اور اس پر مہر لگا دی جاتی تھی۔ تاثر یہ دیا جاتا تھا کہ اس کنٹینر کے اندر تجارتی سامان ہے جو باقاعدہ کسٹم حکام کی اجازت سے یورپ لے جایا جا رہا ہے۔ لوگوں کو یورپ پہنچانے کے اس چکر میں ایسے ایسے انسانی المیے بھی ظہور پذیر ہوئے کہ تصور کرکے ہی انسان سر سے پاؤں تک کانپ جاتا ہے۔ ان سطور کے راقم کو ایک ایسے نوجوان نے، جو خود اس اذیت سے گزر چکا تھا اور خوش قسمتی سے زندہ بچ گیا تھا بتایا کہ سردیوں کے موسم میں وہ کنٹینر سے زندہ سلامت نکلا تو جو منظر اس نے دیکھا اس سے اس کی آنکھیں پتھرا گئیں، ایک کنٹینر کو شک ہونے پر سرحدی محافظوں نے چیک کرنے کی نیت سے کھلوایا تو اندر سب لوگ دم گھٹنے سے مرچکے تھے۔ اس نوجوان نے سرحدی علاقے میں ایسی لاشیں بھی دیکھیں جو برف کے اندر دبی ہوئی تھیں۔

ان حالات میں جو لوگ یورپ پہنچ جاتے تھے یورپی ملکوں میں ان کیلئے ایک نئی آزمائش شروع ہو جاتی، اگر وہ وہاں گرفتار ہوتے تو انہیں جیلوں میں بند کردیا جاتا، جو لوگ راستے کی اذیتوں کے باوجود اتنے سخت جاں ہوتے کہ زندہ بچ رہتے انہیں یہ یورپی ملک پاکستان بھیج دیتے۔ جب پاکستان میں ایسے بہت سے لوگ پکڑے گئے جن کی دستاویزات جعلی تھیں اور جو پاکستانی نہیں تھے مگر انہیں پاکستان پہنچا دیا گیا تھا تو وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے اس معاملے کو اپنے ہاتھ میں لیا اور اُن ملکوں سے یہ معاملہ اٹھایا جو جعلی دستاویزات والے ان پاکستانیوں کو اپنے ملکوں سے پکڑ پکڑ کر پاکستان بھیج رہے تھے۔ جب یہ سلسلہ کسی طرح رکنے میں نہ آیا تو ایئر لائنوں کو پابند کردیا گیا کہ وہ کسی ایسے مسافر کو پاکستان نہ لائیں جس کے پاس پاکستان کی جائز قانونی دستاویزات نہ ہوں۔ ایک فلائٹ کے ایسے مسافروں کو جب واپس کیا گیا اور ایئر لائنوں کو جرمانے شروع کئے گئے تو یورپی ملکوں کو احساس ہوا کہ اب من مانی نہیں چلے گی، پاکستان جوابی کارروائی پر اتر آیا ہے۔ کئی ملکوں کی طرف سے تلخ بیانات بھی آئے، لیکن جب پاکستان نے اس معاملے پر کمپرومائز نہ کیا اور ایف آئی اے کے ان اہلکاروں پر بھی سختی کی جنہوں نے اس معاملے میں نرم دلی کا مظاہرہ کیا یا بوجوہ لچک دکھائی، کئی ماہ سے یہ سلسلہ اسی طرح چل رہا تھا اب یورپی یونین کے ساتھ یہ معاملہ خوش اسلوبی سے طے پاگیا ہے۔ یورپی یونین آئندہ کسی بھی شخص کو ڈی پورٹ کرنے سے پہلے اس کی معلومات پاکستان کو دے گی۔ جن کے بارے میں یہ تصدیق ہو جائے گی کہ وہ واقعی پاکستانی ہیں اور پاکستانی دستاویزات کی بھی تصدیق ہو جائے گی کہ وہ اصلی ہیں، جعلی نہیں، انہیں پاکستان آنے دیا جائے گا۔ پاکستان کی وزارت داخلہ کے حکام اور یورپی یونین کے مابین اس مسئلے پر برسلز میں مذاکرات ہوئے، جن میں یورپی یونین نے پاکستان کے تمام تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ جرائم یا دہشت گردی میں ملوث ہونے کی بنیاد پر ڈی پورٹ کئے جانے والے افراد کے خلاف ثبوت پاکستانی حکام کو دیئے جائیں گے۔ یورپی یونین کی جانب سے انسانی سمگلروں کے خلاف وزارت داخلہ کے اقدامات کو سراہا گیا۔ اس معاہدے کے بعد عالمی سطح پر پاکستان کے وقار کی بحالی کی راہ ہموار ہوئی ہے اور پہلا قدم اٹھا لیا گیا ہے، اس طرح پاکستان کے موقف کی زبردست فتح ہوئی ہے۔ ایف آئی اے نے انسانی سمگلروں کی روک تھام کیلئے اگرچہ کردار ادا کیا ہے اور اس میں کمی بھی آئی ہے تاہم یہ سلسلہ پوری طرح رک نہیں سکا، اب ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پاکستان ان تمام ملکوں کے ساتھ جن کے ہاں انسانی سمگلروں نے نیٹ ورک بنا رکھے ہیں، جن کا تعلق صرف پاکستان سے ہی نہیں دنیا کے کئی دوسرے ملکوں سے بھی ہے اس معاملے کو اٹھائے۔ اس سلسلے میں نئی اور موثر حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ جو ملک انسانی سمگلنگ کے روٹ پر آتے ہیں ان کے ساتھ معاہدے ہونے چاہئیں تاکہ انسانی سمگلنگ کا سلسلہ پوری طرح روکا جاسکے۔

مزید : تجزیہ