مارکیٹوں میں ڈکیتیوں کی وارداتیں لمحہ فکریہ ہے ، ایم کیو ایم

مارکیٹوں میں ڈکیتیوں کی وارداتیں لمحہ فکریہ ہے ، ایم کیو ایم

کراچی (اسٹاف رپورٹر) متحدہ قومی موومنٹ کے ارکان سندھ اسمبلی نے لیاقت آباد اور آرام باغ کی مارکیٹوں میں نقب زنی کی اورداتوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ شہر میں سخت سیکورٹی کے باوجود دو بڑی مارکیٹوں میں ڈکیتیوں کی وارداتیں لمحہ فکریہ ہے ۔ اپنے مشترکہ بیان میں انہوں نے کہاکہ اس سے قبل بھی شہر کی بڑی مارکیٹوں کو رات کی تاریکی میں لوٹا جاچکا ہے اور تاجروں اور دکانداروں کو راتوں رات کنگال کیاجاچکا ہے اور اس کے خلاف تاجروں اور دکاندروں کے احتجاج کے باوجود نقب زنی کی وارداتوں میں ملوث عناصر کا قانون کی گرفت سے محفوظ رہنا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بلند و دعوؤں کی کھلی نفی ہے ۔انہوں نے کہاکہ شہر کی مارکیٹوں میں ڈکیتیوں کی وارداتوں سے دکانداروں اور تاجروں کا اعتماد بددلی میں تبدیل ہورہا ہے اور اس کے خلاف تنگ آکر احتجاج تک پر مجبور ہیں اور ان کے احتجاج پر کوئی توجہ نہ دینا اور مارکیٹوں میں ڈکیتیوں کی وارداتوں کا سدباب نہ کرنا سراسر ظلم اور ناانصافی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ لیاقت آباد اور آرام باغ کی مارکیٹوں میں نقب زنی سے شہر میں امن وامان اور جرائم پر قابو پانے کے دعوؤں کی قلعی کھل گئی ہے اور باشعور لوگ شہر میں امن وامان اور جرائم پیشہ عناصر کی سرکوبی کے دعوؤں کو نہ صرف سمجھ رہے ہیں بلکہ اس پر اپنا احتجاج بھی ریکارڈ کرارہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم لیاقت آباد اور آرام باغ کے دکانداروں اور تاجروں کے ساتھ ہے اور اس سلسلے میں آج ایم کیوایم کا وفد آئی جی سندھ، ڈی جی رینجرز اور دیگر متعلقہ حکام سے ملاقاتیں بھی کریگا اور ڈکیتیوں کی وارداتوں پر تاجروں اور دکانداروں میں پائے جانے والے غم و غصہ اور احتجاج کی صورتحال سے آگاہ کرے گا ۔ انہوں نے کہاکہ شہر میں امن وامان کے دعوے اس وقت اچھے لگتے ہیں جب شہر میں لوگوں کی جان ومال محفوظ ہو ، انصاف کی فراوانی ہو ، قانون کی پابندی ہو اور اس کے بغیر امن و امان کے دعوے کرنا دھوکہ دہی کے مترادف ہے ۔ حق پرست ارکان سندھ اسمبلی نے وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ سے مطالبہ کیا کہ لیاقت آباد اور آرام باغ کی مارکیٹوں میں نقب زنی کی وارداتوں کا سختی سے نوٹس لیاجائے ، اس میں ملوث عناصر کو فی الفور گرفتار کیاجائے اور شہر کی مارکیٹوں میں نقب زنی کی وارداتوں کا سلسلہ بند کرانے کیلئے مثبت نوعیت کے اقدامات بروئے کار لائے جائیں ۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر