علامہ غلام رسول سعیدی جدید سائنسی تحقیقات اور علمی سرمایہ تھے، مفتی منیب الرحمن

علامہ غلام رسول سعیدی جدید سائنسی تحقیقات اور علمی سرمایہ تھے، مفتی منیب ...

کراچی (اسٹاف رپورٹر) عالمِ اسلام کے عظیم مُحقق ،مُفسر ومُحدث اور جامعہ نعیمیہ کراچی کے شیخ الحدیث علامہ غلام رسول سعیدی اور جامعہ غوثیہ معینیہ (پشاور)کے مہتمم علامہ پیرمحمد چشتی رحمہما اللہ تعالیٰ کے ایصالِ ثواب کی تقریب جامع مسجداقصیٰ بلاک15فیڈرل بی ایریا کراچی میں منعقد ہوئی۔ملک بھر سے کثیر تعداد میں علماء کرام ومشائخ عظام ، دینی مدارس کے مہتممین ،اساتذہ وطلبہ اور عوامِ اہلسنّت کی کثیر تعداد شریک ہوئی ۔چیرمین مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی پاکستان مفتئ اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمن نے علامہ صاحب کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا،مفتی منیب الرحمن نے اپنے خطاب میں علامہ غلام رسول سعیدی کو اپنے عہد کا عظیم مُفسّر ومُحدّث قرار دیا اورکہا :اُن کی تفاسیر اور شروحِ حدیث ہزارسال بعد دین کا ایک ثقہ ،مُستند اور معتبر علمی ماخذقرار پائیں گی ۔ان کی تفاسیر وشروحِ حدیث میں عہدِ جدید کے جدید سائنسی تحقیقات اورفلسفہ جدید کے حوالے سے انتہائی گرانقدر علمی سرمایہ موجود ہے۔وہ دلیل سے بات کرتے ہیں۔اجتہادی مسائل میں ان کا کسی سے اختلاف یااتفاق ذاتی پسند وناپسند یامسلکی عصبیت کی بنیاد پر نہیں بلکہ فقہی دلائل کی بنیاد پرہوتاہے ۔انہوں نے جدید الحادی وانحرافی فلسفے اورمذہب بیزار افکار کاقوی دلائل سے رَد کیاہے ۔ان کی فکر کی اساس اس بنیاد پر ہے کہ قرآن کی اساس احادیث وسنّت پرہے اوراس کے بعد آثارصحابہ اور اجتہاد ائمہ کو ماخذ مانتے ہیں اورراجح دلائل کی بنیاد فقۂ حنفی کو ترجیح دیتے ہیں ۔علامہ صاحب اپنے عہد کے امام المُفسر ین وامام المُحدثین تھے ۔ان کی تدریسی زندگی 50سال پر محیط ہے،علامہ غلام رسول سعیدی دارالعلوم نعیمیہ ،کراچی میں مسلسل 32سال شیخ الحدیث کے عہدے پر خدمات انجام دیتے رہے اور45ہزار صفحات پر مشتمل تفسیر وحدیث کا یہ تاریخی اور عدیم المثال شاہکار 32سال کی مدت میں انجام دیا ۔ اُن کی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستا ن نے تمغۂ امتیاز سے نوازاتھا ۔انہوں نے کہا علامہ پیر محمد چشتی اپنے عہد کے مایہ ناز مُدرس اور مُحقّق تھے ،اُن کی تصانیف علمی شاہکار ہیں۔تقریب میں علامہ جمیل احمد نعیمی ، مفتی محمد اطہر نعیمی ،مفتی محمد جان نعیمی ،صاحبزادہ عبدالمصطفٰی ہزاروی ،علامہ غلام محمد سیالوی ،مفتی محمد رفیق حسنی ،مفتی محمد الیاس رضوی ، صاحبزادہ ریحان امجد نعمانی ،حفیظ البرکات شاہ ،علامہ سید عظمت علی شاہ ہمدانی ، مفتی ندیم اقبال سعیدی ،علامہ اکرام حسین سیالوی ، مولانا غلام حسن حسنی ،مفتی محمد سفیان ،مفتی سید زاہد سراج مفتی عبدالحلیم ہزاروی ،مفتی محمد ابوبکر شاذلی ،مفتی محمد اکمل قادری ، مفتی محمد اسماعیل نورانی ،مفتی عابد مبارک ، علامہ ابراراحمد رحمانی ،علامہ اکرام المصطفیٰ، علامہ عبدالمجید ، علامہ ڈاکٹر محمد اشرف اشرفی ،علامہ رضوان احمد نقشبندی ،علامہ محمد اسحاق ظفر، علامہ لیاقت حسین اظہری ،علامہ سید مظفر شاہ قادری ، صاحبزادہ عبدالمجتبیٰ ہزاروی ،مولانا محمد حنیف قریشی ، مولانا اویس رفیق ، مولانا صابر نورانی ،مولانا بختیار احمد ،مولانا شعیب قادری ،مولانا صابر نورانی ،مولانا جہانگیر ،مولانا رفیع الرحمن، مولانا محمد قاسم ،مولانا عبداللہ نورانی ، مولانا محمد امین عطاری ،مفتی محمد شاہد مدنی ،محمد یعقوب عطاری ، قاری عبدالقیوم محمود ،قاری محمد اسماعیل سیالوی،قاری ہدایت الرحمن نعیمی ، سربراہ سنی تحریک ثروت اعجاز قادری ، مولانا یعقوب عطاری ،سید عمیر حسن برنی ،محمد شفیق سعیدی،محمد شمیم خان ،انیق احمد ،پیرانورعلی لودھی ،علامہ محمدرفیق ہزاروی۔اساتذہ دارالعلوم نعیمیہ : علامہ احمد علی سعیدی ،علامہ سید نذیر شاہ ، علامہ علی عمران صدیقی ،مفتی عبدالرزاق نقشبندی ،مولانا منور احمد نعیمی ،مولانا سید محمد علی شاہ ، مولانا ابرار احمد ،مولانا عبداللہ ،مولانا آثار اللہ ،مولانا اسرار محمد ،مفتی خالد کمال ،مولانا عمران شامی ،مفتی محمد وسیم مدنی ،مولانا منیر احمد ، قاری محمد زمان چشتی ، قاری محمد حنیف طیب ، قاری بہادرخان ،قاری نذیر حسین ،قاری ممتازاحمد سعیدی ،قاری متین الدین ،قاری محمد مختار ،مولانا عبدالمجید چانڈیو ،مولانا ریاض محمود ، علماء ومشائخ ، سماجی وسیاسی زُعماء سمیتہزاروں افراد نے شرکت کی ۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر