معروف ادیب ندا فاضلی 78 برس کی عمر میں انتقال کر گئے

معروف ادیب ندا فاضلی 78 برس کی عمر میں انتقال کر گئے
معروف ادیب ندا فاضلی 78 برس کی عمر میں انتقال کر گئے

  

نئی دلی(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت کے معروف شاعر و نغمہ نگار مقتداحسین ندا فاضلی 78 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔

تفصیلا ت کے مطابق ندا فاضلی ممبئی کے ایک نجی ہسپتال میں مختصر علالت کے بعد انتقال کرگئے ہیں۔ ندا فاضلی 12 اکتوبر 1938 کو دلی کے کشمیری ادبی گھرانے میں پیدا ہوئے، تقسیم ہند کے بعد ان کا خاندان پاکستان آگیا لیکن ندا فاضلی دوبارہ ہندوستان چلے گئے اور ممبئی میں مختلف مشاعروں میں اشعار پڑھنے کے علاوہ نقادی کا پیشہ اپنایا۔ 60 کی دہائی میں جب انہوں نے اپنی کتاب ”ملاقاتیں “ میں مشہور زمانہ شعرا ساحر لدھیانوی، علی صفدر جعفری اور کیفی اعظمی کو ہدف تنقید بنایا تو بہت سے شاعروں نے ان کا بائیکاٹ کردیا۔

ندا فاضلی کو اصل شہرت اس وقت ملی جب 1983 میں بننے والی فلم ” رضیہ سلطانہ“ کے گیت لکھنے والے شاعر جاں نثار اختر انتقال کرگئے ، ان کے انتقال کے بعد فلم میکر کمال امروہی نے فلم کیلئے ندا فاضلی سے گیت لکھوائے۔ رضیہ سلطانہ کے بعد انہوں نے متعدد ہندی فلموں کیلئے گیت لکھے اس کے علاوہ انہوں نے معاشرے میں امن و بھائی چارے کے فروغ کیلئے بہت سے مضامین لکھے جس پر انہیں ” نیشنل ہارمونی ایوارڈ“ سے نوازا گیا۔

ندا فاضلی نے 24 کتابیں لکھی ہیں جو کہ اردو، ہندی اور گجراتی زبان میں لکھی گئی ہیں، ان کی بعض کتابیں بھارتی ریاست مہاراشٹر ا کے سکولوں کے نصاب میں بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انہیں ” ستیا اکیڈمی، سٹار سکرین ایوارڈ برائے بیسٹ لریکسٹ، بولی ووڈ مووی ایوارڈ اور پدما شری“ ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔ ان کی مشہور کتابوں میں ” لفظوں کے پھول، مور ناچ، آنکھ اور خواب کے درمیان، سفر میں دھوپ ہوگی، کھویا ہوا سا کچھ اور دنیا ایک کھلونا“ شامل ہیں۔

مزید : ادب وثقافت