امریکی سیاست اور امریکی مسلمان

امریکی سیاست اور امریکی مسلمان
امریکی سیاست اور امریکی مسلمان

  

حقیقت یہ ہے کہ  امریکی سیاست بنیادی طور پر  دو پارٹیوں یعنی  ریپبلکن اور ڈیموکریٹکس   کے گردہی  گھومتی ہے - ریپبلکن پارٹی دائیں بازو کی روایت پرست نظریے کی حامل ہے اور ڈیموکریٹک پارٹی بائیں بازو کے لبرل حلقوں کی ترجمانی کرتی ہے ۔

 امریکی سیاست کے کچھ مستقل سماجی ایشوز ہیں جن میں ان دونوں جماعتوں میں واضح تقسیم پچھلے کئی عشروں سےبد ستور موجود ہے - ان میں سے چند اہم ایشوز اسقاط حمل، ہم جنسوں کی شادی کی قانونی حیثیت، سزائے موت  اور مذہب کے حکومت پر اثر سے متعلق ہیں - ریپبلکن اسقاط حمل کے سخت مخالف ہیں اور اسے کفران نعمت تصور کرتے ہیں جبکہ ڈیموکریٹس اسے عورت کا بنیادی حق مانتے ہیں - اسی طرح ریپبلکنز کے خیال میں شادی صرف ایک مرد اور عورت کے درمیان ہو سکتی ہے جبکہ ڈیموکریٹس کا ماننا ہے کہ یہ ایک مذہبی تصور ہے اور ایک سیکولر ریاست اپنے قوانین کے لئے مذہب کی طرف رجوع نہیں کر سکتی- ان کے خیال میں یہ  انفرادی آزادی کا سوال ہے لہذا  وہ ہم جنسوں کی شادی کو معیوب نہیں سمجھتے - سزائے موت کے بارے میں بھی ہمیں ان دو پارٹیوں کے ہاں کچھ ایسی ہی  تفریق دیکھنے کو ملتی ہے - ڈیموکریٹس کا ایک بڑا حصہ سمجھتا ہے کہ سزائے موت کا قانون ختم ہونا چاہیے جبکہ ریپبلکنز کے خیال میں یہ ایک موثر  قانون ہے ۔

بنیادی طور پر امریکی قانون سیکولر قانون ہے جس کے تحت ریاست کو مذہبی معاملات میں غیر جانبدار رہنا لازم ہے - ڈیموکریٹس امریکی ریاست کو سیکولرازم پر سختی سے قائم رکھنے کہ خواہاں ہیں جبکہ ریپبلکنز کئی جگہوں پر مذہب کی مداخلت کو برا نہیں سمجھتے - مثلاً کئی ایک سالوں سے کوشش کی جا رہی ہے کہ سکولوں میں ڈارون کا نظر یہ ارتقاء یا تو سرے سے ہی  نہ پڑھایا  جائے یا پھر اس کے ساتھ ساتھ کائنات اور انسان کی تخلیق کی بارے میں جو کچھ بائبل میں بیان  ہے اسے بھی سکولوں میں ایک متبادل کے طور پر پڑھایا جائے - ماضی قریب کے تقریباً تمام ریپبلکن رہنما ان کوششوں کی حوصلہ افزائی کرتے رہے ہیں لیکن ایسی تمام کوششیں، ایک آدھ کو چھوڑ کر، امریکی عدالتیں یہ کہہ کر مسترد کر چکیں ہیں کہ ایسا کرنا ریاست کی طرف سے کسی ایک یا کچھ مذاہب کی طرف داری ہے ۔

امریکہ میں آباد مسلمانوں کی تعداد پینتیس لاکھ کے قریب ہے جس میں  غالب اکثریت ان لوگوں کی ہے جو خود یا ان کی پچھلی یا اس سے پچھلی نسل کسی مسلم اکثریتی ملک سے نقل مکانی کر کے امریکہ میں آباد ہوئی - اس آبادی کے نظریاتی جھکاؤ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دو ہزار بارہ میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق صرف چھبیس فی صد امریکی مسلمانوں نے اپنے آپ کو لبرل قرار دیا - جن سماجی ایشوز کا ذکر اوپر کیا گیا ان پر  امریکی مسلمانوں کی غالب اکثریت کا ریپبلکنز سے مکمل اتفاق ہے - اسقاط حمل، ہم جنسیت اور سزائے موت پر امریکی مسلمان ریپبلکنز کے ساتھ نہ صرف اتفاق کرتے ہیں بلکہ کئی دفعہ اپنی رائے کی درستگی کے اصرار پر ریپبلکنز کو پیچھے چھوڑ دیتے ہیں - ڈارون کی تھیوری پر بھی صورتحال مختلف نہیں - ریاست نیو جرسی کے سب سے بڑے اسلامک سنٹر کے خطیب نے مسلم والدین کو یہ نصیحت کی کہ ان کے بچے اگر ڈارون کی کتاب گھر لائیں تو وہ یہ کتاب کھڑکی سا باہر پھینک دیں-اسی طرح جب ریاست کنساس میں ڈارون کی تھیوری کو نصاب سے نکالنے کا مقدمہ چلا تو ترکی سے ایک مسلم سکالر اس کے حق میں عدالت میں پیش ہوئے جنہوں نے عدالت میں یہ حیرت انگیز دعویٰ بھی کیا کہ مسلم ملکوں میں امریکہ سے نفرت کی ایک وجہ امریکہ کے سکولوں میں ڈارون کی تھیوری کا پڑھایا جانا ہے

ریپبلکن پارٹی کی حالیہ تاریخ میں جو مقبولیت جارج ڈبلیو بش کو ملی وہ شائد رونالڈ ریگن کے علاوہ کسی کو نہیں ملی اور اس کی وجہ بش کی دائیں بازو کے نظریات سے مکمل اور غیر معذرت دارانہ وابستگی تھی - اپنے اس نظریاتی جھکاؤ کی وجہ سے بش کو امریکی مسلمانوں کی بھی غیر معمولی حمایت حاصل ہوئی - سال دو ہزار کی انتخابی مہم میں نمایاں مسلم تنظیموں نے بش کے لئےکثیر فنڈ ریزنگ کی  اور پیو ریسرچ  سروے کے مطابق مسلمان ووٹرز میں سے اٹھہتر فی صد نے جارج ڈبلیو بش کو ووٹ دیا ۔

لیکن یہ صورتحال بش انتظامیہ کی ٩/١١ کے بعد کی خارجہ پالیسی تیزی سے تبدیل ہوتی رہی اور امریکی مسلمانوں اور ریپبلکن پارٹی میں فاصلے بڑھنے لگے - یہاں تک کہ دو ہزار بارہ کے انتخابات میں چھیاسٹھ فی صد مسلمانوں نے باراک اوبامہ کو ووٹ دیا

کیلیفورنیا کے سانحے کے بعد جس طرح کے بیانات ریپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدواروں نے مسلمانوں کے خلاف دیے اور جس طرح ہیلری کلنٹن نے ان بیانات کا جارحانہ جواب دیا ۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے برملا  کہا جا سکتا  ہے  کہ سماجی اقدار میں واضح فرق ہونے کے باوجود امریکی مسلمانوں کی بھاری اکثریت اس دفعہ ڈیموکریٹ پارٹی کے امید وار کو ہی ووٹ دے گے۔۔۔

کچھ لکھاری بارے:

رفیع عامر  ایک عرصے سے نیو جرسی میں مقیم ہیں، پیشے کے اعتبار سے سافٹ وئیر انجیئنر ہیں، پروفیشنل کیرئر کے ابتدائی دنوں میں شعبہ صحافت سے بھی وابستہ رہے، یہی وجہ ہے کہ آج بھی وہ مقامی اور بین الاقوامی معاملات پر باقاعدگی سے قلم اٹھاتے ہیں۔  قارئین ان سے رابطہ ٹوئٹر پر اس ہینڈل کے ذریعے کر سکتے ہیں:

Twitter: @Rafi_AAA

مزید : بلاگ