منشیات کا کاروبار کرنے والا پاکستانی شہری جسے برطانوی حکومت چاہتے ہوئے بھی پاکستان واپس نہیں بھیج پارہی کیونکہ۔۔۔

منشیات کا کاروبار کرنے والا پاکستانی شہری جسے برطانوی حکومت چاہتے ہوئے بھی ...
منشیات کا کاروبار کرنے والا پاکستانی شہری جسے برطانوی حکومت چاہتے ہوئے بھی پاکستان واپس نہیں بھیج پارہی کیونکہ۔۔۔

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک)برطانیہ میں ایک پاکستانی شہری کو کروڑوں کی ہیروئن برطانیہ سمگل کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا اور عدالت نے اسے 16سال قید کی سزا سنائی تھی مگر اب برطانوی حکومت اسے ڈی پورٹ کرنا چاہتی تھی لیکن اپنی ہی ایک چھوٹی سی غلطی کے باعث اب اسے لندن کے ہیتھروایئرپورٹ کے ایک امیگریشن سنٹر میں بطور مہمان رکھنے پر مجبور ہو گئی ہے۔41سالہ محمد فیصل کو عدالتی فیصلے کے بعد جیل میں بھیج دیا گیا تھا لیکن برطانوی حکومت نے ایک نیا قانون وضع کیا جس کے تحت غیرملکی قیدیوں کو ان کے آبائی ممالک میں ڈی پورٹ کیا جانا تھا تاکہ وہ برطانوی جیلوں میں قید رہ کر خزانے پر بوجھ نہ بنیں بلکہ اپنے ملک جا کر وہاں سزا پوری کریں۔

مزید جانئے: گرل فرینڈ کی رئیلٹی شو میں شرکت کی خواہش، 17 سالہ لڑکے نے 13 سالہ لڑکا اغواءکے بعد قتل کر دیا

محمد فیصل کو بھی حکام نے واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا، اس کے کاغذات تیار کروائے اور اسے لے کر ہیتھرو ایئرپورٹ آ گئے۔ ایئرپورٹ پر آ کر انکشاف ہوا کہ ان کے تیار کردہ کاغذات میں کچھ گڑ بڑ ہو گئی تھی۔ تب سے محمد فیصل ایئرپورٹ کے امیگریشن سنٹر میں زیرحراست ہے اور اس پر روزانہ 100پاﺅنڈ (تقریباً15ہزار روپے) خرچ ہو رہا ہے۔برطانوی حکومت نے خرچ بچانے کے لیے اسے ڈی پورٹ کرنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن وہ الٹا ان کے گلے پڑ گیا ہے۔ دوسری طرف محمد فیصل نے بھی اپنے ڈی پورٹ کیے جانے کا معاملہ عدالت میں چیلنج کر دیا ہے جس کے بعد اسے 6ماہ کے لیے ڈی پورٹ کرنا ناممکن ہو گیا ہے۔ واضح رہے کہ اب تک محمد فیصل کو امیگریشن سنٹر میں رکھنے پر 5ہزار پاﺅنڈ خرچ کیے جا چکے ہیں۔

مزید : بین الاقوامی