سعودی عرب میں غیر ملکی کفیل کی مرضی کے بغیر اپنا کفیل تبدیل کیسے کرسکتا ہے؟

سعودی عرب میں غیر ملکی کفیل کی مرضی کے بغیر اپنا کفیل تبدیل کیسے کرسکتا ہے؟
سعودی عرب میں غیر ملکی کفیل کی مرضی کے بغیر اپنا کفیل تبدیل کیسے کرسکتا ہے؟

  

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) عرب ممالک میں کفیلوں کے ہاتھوں پریشان ملازمین کی خبریں تو اکثر سامنے آتی ہیں لیکن اب یہ خبر بھی آ گئی ہے کہ کچھ غیر ملکی ملازمین نے کفیلوں کو چکرا کر رکھ دیا ہے۔

”سعودی گزٹ“ کے مطابق محکمہ جوازات کو درجنوں کفیلوں نے شکایت کی ہے کہ ان کے فرار ہوجانے والے ملازمین، جن کے حروب (فرار) کی شکایت بھی وہ درج کراچکے تھے، کے بارے میں انہیں ٹیکسٹ میسج بھیج کر اطلاع دی گئی ہے کہ یہ ملازمین نئے کفیلوں کے پاس کام کررہے ہیں۔ ان ملازمین کو نہ تو گرفتار کیا گیا، نہ ہی ڈی پورٹ کیا گیا، بلکہ حیران کن طور پر وہ کسی بھی قسم کے الزام کا سامنا کئے بغیر نئے کفیل کے پاس ملازمت کررہے ہیں۔

مزید جانئے: پاکستان کا قریبی دوست دنیا کا وہ ملک جس کا جھنڈا کبھی سرنگوں نہیں کیا جاتا، وجہ ایسی کہ جان کر آپ بھی داد دیں گے

ایک شہری سمیر بعیسیٰ نے بتایا کہ انہوں نے ایک سال قبل غیر ملکی ڈرائیور کو ملازمت پر رکھا لیکن جب اس کے لائسنس وغیرہ کا بندوبست کرچکے تو وہ فرار ہوگیا۔ وہ کہتے ہیں کہ محکمہ جوازات کو ابشیر الیکٹرانک سروس کے ذریعے اس کے فرار کی اطلاع کردی تھی لیکن دو ماہ بعد انہیں ٹیکسٹ میسج موصول ہوا جس میں بتایا گیا کہ ملازم کے خلاف حروب کیس ختم کردیا گیا تھا اور وہ نئے کفیل کے پاس کام کررہا تھا۔

اسی طرح ایک اور شہری احمد الغامدی نے بتایا کہ ان کے فرار ہونے والے ملازم کی اطلاع کرنے کے چار ماہ بعد انہیں بھی ٹیکسٹ میسج کے ذریعے پتہ چلا کہ ان کا سابقہ ملازم ایک اور کفیل کے پاس ملازمت کررہا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ ان کے ملازم نے فرار کے بعد اپنا اقامہ نئے کفیل کے پاس کیسے منتقل کروایا، جبکہ انہیں تمام معاملے کی کوئی خبر بھی نہ ہوئی تھی۔

محکمہ جوازات کا کہنا ہے کہ اس معاملے کی تحقیق کی جارہی ہے کہ کوئی غیر ملکی ملازم اپنے کفیل سے فرار ہونے کے بعد حروب کے کیس سے کیسے بچ سکتا ہے، اور اپنا اقامہ نئے کفیل کے پاس کیسے منتقل کروالیتا ہے۔ انہوں نے امید کا اظہار کیا کہ جلد یہ معمہ حل کر لیا جائے گا۔

مزید : بزنس