’6 سال کی عمر میں پہلی مرتبہ فحش فلم دیکھی اور پھر۔۔۔‘ مکروہ عادت میں مبتلا خاتون نے زندگی کی ایسی کہانی سنادی کہ جان کر ہی تمام نوجوان توبہ کرلیں

’6 سال کی عمر میں پہلی مرتبہ فحش فلم دیکھی اور پھر۔۔۔‘ مکروہ عادت میں مبتلا ...
’6 سال کی عمر میں پہلی مرتبہ فحش فلم دیکھی اور پھر۔۔۔‘ مکروہ عادت میں مبتلا خاتون نے زندگی کی ایسی کہانی سنادی کہ جان کر ہی تمام نوجوان توبہ کرلیں

  

سڈنی (نیوز ڈیسک)ذرائع ابلاغ کی حیرت انگریز ترقی کا ایک منفی پہلو یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ہر طرح کا قابل اعتراض مواد ہر عمر کے افراد تک بلا روک ٹوک پہنچنے لگا ہے۔ اگرچہ فحش مواد کے نقصانات کسی کےلئے بھی کم نہیں، لیکن خصوصاً بچپن سے اس کے عادی بننے والوں کےلئے یہ کس قدر تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے، اس کا اندازہ آسٹریلوی خاتون لزواکر کی کہانی سے لگایا جاسکتا ہے۔

42سالہ لز واکر برسبین شہر سے تعلق رکھتی ہیں اور ”یوتھ ویل بینگ پراجیکٹ“ کے نام سے ایک فلاحی ادارہ چلا رہی ہیں۔ لز واکر نے ڈیلی میل آسٹریلیا کو بتایا کہ انہوں نے اپنی عمر کی تقریباً تین دہائیاں بد ترین جسمانی اور ذہنی تکالیف میں گزاری ہیں اور اس کی وجہ وہ فحش تصاویر ہیں جو آج سے 36سال قبل انہیں سکول بس میں دکھائی گئیں۔

مزید جانئے: وہ ایک کام جو ازدواجی فرائض کی ادائیگی سے قبل ہرگز نہیں کرنا چاہیے، ڈاکٹروں نے خبردار کردیا

لز واکر نے بتایا کہ وہ جب محض 6سال کی تھیں تو ایک دن سکول سے واپسی پر ان کے ساتھ بیٹھی ایک بڑی لڑکی نے انہیں ایک میگزین دکھایا جس میں جنسی تصاویر کی بھرمار تھی۔ لز کا کہنا ہے کہ اس لڑکی کو وہ میگزین اپنے گھر میں ہی ملا تھا اور وہ اس کے بارے میں بہت پرجوش تھی۔ میگزین میں موجود حیا سوز تصاویر دیکھ کر ننھی لز گہرے نفسیاتی ہیجان میں مبتلا ہو گئیں اور ان کے ذہن میں یہ تصاویر ہمیشہ کے لئے نقش ہو گئیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کے ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی کہ انہیں بڑی لڑکیوں جیسا نظر آنے کےلئے تصاویر میں دکھائی گئی لڑکیوں جیسا بننا ہو گا، لہذا بچپن سے ہی ان کا جنسی رویہ ابنارمل ہونے لگا۔ اسی ابنارمل رویے کا ہی نتیجہ تھاکہ محض 12سال کی عمر میں وہ جنسی تعلقات استوار کر چکی تھیں،اور نہ صرف جنس ان کے ذہن پر ہمیشہ سوار رہتی بلکہ وہ منشیات کی بھی عادی ہو چکی تھیں۔

لز واکر نے بتایا کہ وہ نہ صرف جسمانی مسائل کا شکار ہو گئیں بلکہ نفسیاتی مسائل نے بھی انہیں گھیر لیا،اور وہ اکثر نفسیات دانوں اور ڈاکٹروں کے پاس چکر لگاتی رہتی تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تین دہائیوں تک ان کی زندگی ایک مسلسل عذاب کی مانند تھی، لیکن پھر بالآخر انہوں نے اپنے گھر والوں کی مدد اور قابل ڈاکٹروں کی رہنمائی سے اپنے مسائل پر قابو پا لیا۔ اب وہ نوجوانوں کے لئے بنائے گئے فلاحی ادارے کے ذریعے جنسی مواد کی تباہ کاریوں کے بارے میں آگاہی پھیلاتی ہیں۔ انہوں نے” ناٹ فار کڈز “کے نام سے ایک کتاب بھی تحریر کی ہے جس میں فحش مواد کے بچوں پر خوفناک نتائج کے متعلق بات کی ہے ۔

لز کہتی ہیں کہ بد قسمتی سے آج کے دور میں یہ مواد بچوں تک کسی نہ کسی صورت میں پہنچ ہی جاتا ہے، لہذا والدین کو اپنے بچوں کےساتھ دوستانہ تعلق رکھنا چاہئے اور ان سے ان کے مسائل کے متعلق بات چیت ضرور کرنی چاہئے۔ ننھے بچوں کے ذہن غلط قسم کے مواد کی وجہ سے درہم برہم ہو جاتے ہیں اور انہیں اس صورتحال میں اپنے والدین کی رہنمائی کی سخت ضرورت ہوتی ہے، لہذا خاموشی مت اختیار کریںبلکہ اپنے بچوں کے ساتھ بے تکلفی پیدا کریں اور ان کے ساتھ بات چیت کریں، تاکہ وہ ایسی باتوں کو چھپانے کی بجائے بلا جھجک آپ کے علم میں لا سکیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس