پی آئی اے پر لازمی سروس ایکٹ کے اطلاق کے خلاف درخواست ہائی کورٹ نے خارج کردی

پی آئی اے پر لازمی سروس ایکٹ کے اطلاق کے خلاف درخواست ہائی کورٹ نے خارج کردی
پی آئی اے پر لازمی سروس ایکٹ کے اطلاق کے خلاف درخواست ہائی کورٹ نے خارج کردی

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہورہائیکورٹ نے لازمی سروس ایکٹ مجریہ1952ءکے پی آئی اے پراطلاق کے خلاف دائردرخواست ناقابل سماعت قراردے کرمستردکردی۔ جسٹس شاہد وحید نے اشتیاق احمد چودھری ایڈووکیٹ کی طرف سے دائریہ درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ اس ایکٹ کے پی آئی اے کے ملازمین پر اطلاق سے درخواست گزار کا کوئی آئینی حق متاثر نہیں ہورہا ،اس لئے وہ یہ درخواست دائر کرے کا استحقاق نہیں رکھتا ۔درخواست میں موقف اختیارکیا گیا تھا کہ آئین شہریوں کوپرامن احتجاج کاحق دیتاہے۔ پی آئی اے ملازمین بھی اپنے مطالبات کے لئے پرامن احتجاج کررہے ہیں۔ان کا کہناتھا کہ لازمی سروس ایکٹ کے سیکشن 3 کا اطلاق صرف اسی صورت کیا جاسکتا ہے جب ملکی سلامتی کوخطرہ ہو۔لازمی سروس ایکٹ 1952ءبنیادی آئینی حقوق سے متصادم ہے۔انہوں نے استدعا کی کہ لازمی سروس ایکٹ 1952ءکے پی آئی اے ملازمین پر اطلاق کوآئین سے متصادم قراردیتے ہوئے کالعدم کیا جائے۔عدالت نے قراردیا کہ درخواست کے ساتھ لازمی سروس ایکٹ کے نفاذ کا نوٹیفکیشن نہیں ہے اورنہ ہی درخواست گزارمتاثرہ فریق ہے،عدالت نے درخواست کوناقابل سماعت قرار دے کرمستردکردیا۔

مزید : لاہور