حکومتی پابندی کے باوجودلاہور میں پتنگ بازی عروج پر

حکومتی پابندی کے باوجودلاہور میں پتنگ بازی عروج پر
 حکومتی پابندی کے باوجودلاہور میں پتنگ بازی عروج پر

  


دوستو! سنائیں کیسے ہیں،امید ہے کہ اچھے ہی ہوں گے۔اتوار کے روز شالا مار باغ جانے کا اتفاق ہوا ، وہ اس لئے کہ ہمارے پیارے دوست جناب جنید مہر رشید کے قریبی عزیز کی شادی تھی اور شادی کی تقریب میں شرکت کے لئے جب پاکستان منٹ پہنچے تو ہمارے کانوں میں بو کاٹا کی آوازیں آئیں۔ ہم نے اور ہمارے ساتھ موجود دوستوں نے بھی آسمان کی طرف نظریں اٹھائیں تو دیکھا کہ آسمان رنگا رنگ پتنگوں سے سجا ہوا تھا اور آسمان کے رنگ پتنگوں کے رنگ سے سجے نظر آئے،لاہورمیں سمن آباد،اچھرہ، ودیگر علاقوں سے بھی دوستوں نے بتایا کہ پتنگ بازی عروج پر رہی۔لاہوریوں نے اتوار کے روز چھٹی کا دن پتنگ بازی سے لطف اندوز ہوتے ہوئے گزارا ۔

ہمیں حیرت ہوئی کہ بلند بانگ دعوے اور نعرے لگانے والے انتظامیہ و قانون کے رکھوالے چپ سادھے رہے۔پتنگ بازی پر پابندی ہے، لیکن منچلے ہمہ وقت پابندیاں توڑنے میں مصروف رہتے ہیں۔ پتنگ بازی پر عرصہ دراز سے پابندی لگی ہے، اسی لئے لاہوری بسنت منانے سے محروم ہیں۔ پتنگ بازی پر پابندی کے باعث ہی پاکستانی عوام جشن بسنت سے لطف اندوز ہونے سے تاحال قاصر ہیں۔پتنگ بازی پاکستانیوں کا محبوب شعلہ تھا جو حکومتی سیاست کی نذر ہو گیا۔ یہ بھی بتاتے چلیں کہ پتنگ بازی چین کا قومی کھیل ہے، جہاں مختلف شکلوں کی پتنگیں، جو مومی لفافے کی طرز پر بنائی جاتی ہیں اور دھاگے سے اڑایا جاتا ہے، جس سے کسی کا نقصان نہیں ہوتا۔ لیکن ہمارے ملک میں تو پتنگ باز ایک پتنگ کاٹنے کے لئے ہر حد سے گزر جاتے ہیں۔

دوستو!ہمارے ملک میں پتنگ اڑانے کے لئے شیشہ لگی ڈور استعمال ہوتی تھی، لیکن پھر آہستہ آہستہ کیمیکل لگی ڈور استعمال کی جانے لگی جو انتہائی خطرناک ثابت ہوئی،پھر بسنت کے موقع پر بے تحاشہ حادثات رونما ہونے لگے۔ اب عرصے بعد اچانک شہر لاہور میں پتنگ بازی ہوتے دیکھ کر حیرت ہوئی اور خیال آیا کہ ان کو روکنے والا کوئی نہیں، تاہم بے شمار دوست تو کہہ رہے ہیں کہ بسنت پر پابندی سیاسی ہے اور شہریوں کو ان کے جمہوری حق سے محروم رکھا گیا ہے بہر حال ہمارے بہت سے دوستوں کا خیال ہے کہ حکومت کو پتنگ بازی کی اجازت دے دینی چاہیے، بے شک ایک دن کے لئے ہی سہی،بہرحال دوستو! اجازت چاہتے ہیں، ملتے ہیں جلد ایک بریک کے بعد تو چلتے چلتے اللہ نگہبان، رب راکھا۔

مزید : کالم


loading...