خوشی سے مر نہ جاتے

خوشی سے مر نہ جاتے
 خوشی سے مر نہ جاتے

  


’’خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا!‘‘

عجب کشمکش کا سامنا ہے کہ ہم پاناما کیس میں جگ ہنسائی پر حکمران خاندان سے افسوس کریں یا گزشتہ سال کے دوران کرپشن میں کمی پر خوشی کا اظہار۔ لیکن حکمرانوں کی دیدہ دلیری دیکھئے کہ وہ سارا دن عدالت میں شرمندگی کا سامنا بھی کرتے ہیں اور شام کو کرپشن میں کمی کا تمغہ اپنے سینے پر سجا کر کروڑوں روپے کے اشتہارات بھی جاری کرتے ہیں۔ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق 1996ء کے بعد پہلی مرتبہ پاکستان نچلے ایک تہائی بدعنوان ممالک کی فہرست سے باہر آچکا ہے۔ 176 ممالک کی فہرست میں شفافیت کے لحاظ سے اب پاکستان 116 ویں نمبر پر ہے۔ 26 جنوری کو یہ رپورٹ چونکہ پاناما کی خبروں میں کہیں دب دبا گئی تھی۔ اس لیے حکومت نے 5 روز بعد نصف صفحے کا اشتہار دیکر پیغام دیا کہ اب کرپشن کی پرانی قبریں کھودنے کے بجائے کرپشن میں کمی کی نئی خبریں پڑھی جائیں۔

پرانی قبریں کھودنے کی ضرورت ہمیشہ اس وقت پڑتی ہے، جب تحقیقاتی ادارے بروقت پوسٹ مارٹم نہ کرائیں یا جائے واردات کو راتوں رات دھو دیا گیا ہویا پھر پوسٹ مارٹم کرنے والے ’’سرجن‘‘ ملزموں کے ساتھ مل چکے ہوں۔ آج کل عدالت عظمیٰ کرپشن کی جن قبروں کی کھدائی کروا رہی ہے، ان کی وجوہ بھی کچھ ایسی ہی ہیں۔ کرپشن مافیا اپنی طاقت کے دورمیں لوٹ مار کے علاوہ جس کام پر سب سے زیادہ توجہ مرکوز رکھتا ہے، وہ ہے ثبوت ختم کرنا اورافسر شاہی بھی حاکم وقت کا ساتھ دیتے ہوئے رات کے اندھیرے میں ثبوت ہی ’’دھو‘‘ دیتی ہے۔ اگر ماضی میں منی ٹریل یا منی لانڈرنگ کے کوئی ثبوت چھوڑے ہوتے تو آج ججوں کو اتنی مغز ماری نہ کرنا پڑتی۔ ویسے بھی ہمارے ہاں روایت یہی ہے کہ احتساب تو آنے والی حکومت نے کرنا ہوتا ہے یا کوئی ’’اپوزیشن‘‘ آنکھیں کھلی رکھے تو یہ کام ممکن ہوگا۔

پاناما لیکس بھی ایسا ہی قضیہ ہیں۔ ماضی میں بلاخوف و خطر پیسہ ’’اِدھر اْدھر‘‘ کیا گیا۔ اپوزیشن جماعتوں نے کبھی پوچھا نہ افسر شاہی نے جرات کی۔مخالف جماعتوں نے اپنی باری کے چکر میں چپ سادھے رکھی اور ہاتھ روکنے والے بہتی گنگا میں اپنے ہاتھ بھی دھوتے رہے۔ نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ فریقین کے وکلاء روز ڈھیروں کے حساب سے ثبوتوں کی ردی پیش کر رہے ہیں لیکن جج سرپکڑے بیٹھے ہیں کہ کیس کا فیصلہ کیا کریں؟کیسے کریں؟حکمران ہیں کہ کرپشن میں کمی پر ڈھول بجاتے نہیں تھکتے۔ کاش کوئی انہیں سمجھائے کہ ابھی صبر کا دامن تھامے رکھیں، ابھی تک ماضی کی کرپشن کی قبریں کھودی جا رہی ہیں، موجودہ دور کے قصے بعد میں سنائے جائیں گے۔ ویسے بھی آج کل حکومت آنکھیں بند کر کے عدالت عظمیٰ میں صرف شریف خاندان کا دفاع کر رہی ہے۔ یا اگلے الیکشن کی تیاری کے سلسلے میں نئے منصوبے بنانے میں مصروف ہے۔ ان منصوبوں میں کیا ہو رہا ہے، کیسے ہو رہا ہے، کس نے کیسے اورکیا کمایا، وہ تو اگلی کوئی عدالت بتائے گی۔

بطورادارہ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کے کردار پر انگلی نہ بھی اٹھائی جائے تو بھی پاکستان کی 9 درجے بہتری کوئی قابل فخر کارنامہ نہیں۔ حکمرانوں سے مرعوب یا مغلوب ہو کر حقائق کی پردہ پوشی بھی حب الوطنی نہیں۔ آئے روز ملنے والی کرپشن کی داستانیں کچھ اور ہی منظر پیش کرتی ہیں۔ نیب والے اپنی ماہانہ کارکردگی پر جتنے مرضی مضمون شائع کراتے رہیں، ان کو بھی روزانہ لوٹ مار کی سینکڑوں شکایات موصول ہوتی ہیں۔ بعض ایسے سکینڈل بھی سامنے آتے ہیں، جہاں تفتیش کرتے ہوئے نیب کے اپنے پر بھی جلنے لگتے ہیں۔ سرکاری محکموں کے تمام منصوبوں میں کمیشن کے نام پر کھلے عام رشوت وصول کی جاتی ہے۔ کرپشن کی ایسی ایسی کہانیاں سننے کو ملتی ہیں کہ عقل انسانی دنگ رہ جاتی ہے۔ جس حکومت کے دور میں پینے کا صاف پانی اورہسپتال سے ملنے والی دوا تک خالص نہ ہو۔ دودھ کے ذریعے زہریلے کیمیکل ہمارے حلق میں اتارے جارہے ہوں، مردار گوشت مضرصحت گھی اورتیل میں پکا کر قوم کو کھلایا جا رہا ہو۔ وہاں کرپشن میں کمی کی رپورٹ اور اشتہار اچھے تو لگتے ہیں لیکن خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا!لیکن اخباری اشتہار کے مطابق اگر مان بھی لیا جائے کہ کرپشن میں کمی، بدعنوانی کے خلاف حکومت کی عدم برداشت کی کامیاب حکمت عملی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اگر یہ بھی تسلیم کر لیا جائے کہ کرپشن میں کمی اچھے مستقبل کی نوید ہے، تو بھی سارے تمغے حکومت کے سینے پر نہیں سجائے جاسکتے۔ مثلاً پرنٹ میڈیا کے علاوہ صبح، دوپہر، شام الیکٹرانک میڈیا اب کسی بھی کرپشن کہانی پر چپ نہیں رہتا (جب تک اسے زبردستی ’’چپ‘‘ نہ کرایا جائے) جب سے عمران خان کو مائیک اور کیمرے کا چسکا پڑا ہے، تب سے وہ بلاناغہ کسی نہ کسی بہانے میڈیا کے سامنے ہوتے ہیں اور کبھی کبھار وہ بڑی پتے کی بات بھی کر جاتے ہیں۔ کرپشن ان کا پسندیدہ موضوع ہے۔ جس میں ان کا دامن ابھی تک قدرے صاف ہے۔ خیبرپختونخوا میں ان کے بعض وزرا کی کہانیاں گاہے گاہے ملتی رہتی ہیں، باقی حساب کتاب اگلے دورمیں کھولے جائیں گے۔ کرپشن میں کمی کی ایک وجہ پیپلز پارٹی بھی ہے۔ ڈاکٹر عاصم اور ایان علی گزشتہ سال ’’اندر‘‘ رہے جبکہ آصف زرداری اورشرجیل میمن ’’باہر‘‘۔ گویا پیپلز پارٹی نے اپنی ساری توانائیاں پچھلے بکھیڑوں میں صرف کر دیں۔ نئے معاملات کے لیے شاید اتنا وقت نہیں مل سکا۔ البتہ سندھ حکومت کی ’’کارگزاری‘‘ کی تفصیل مستقبل میں معلوم ہوگی۔

کرپشن میں کمی کی ایک بڑی وجہ ایم کیو ایم بھی رہی۔ ایک تو وہ حکومت میں نہیں تھی، دوسرا گزشتہ سال اس کی تین ٹکڑوں میں تقسیم نے اسے کسی ’’کام‘‘ کا نہیں چھوڑا۔ حکمران لیگ نے بھی پچھلے سال پاناما لیکس اور ڈان نیوز لیکس کے دفاع پر زیادہ زور لگایا۔ سارا دن عدالتوں میں، شام کو میڈیا میں حاضری اور پھر اگلے دن کی پیشی کی تیاری بھی کرپشن میں کمی کا باعث رہی۔ تاہم بجلی کی پیداوار اور تعمیرات کے بہت سے منصوبے ابھی زیر تکمیل ہیں تو ظاہر ہے ان کا حساب کتاب ابھی قابو میں ہے۔ اوپر سے ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل اور پلڈاٹ جیسے اداروں کا ساتھ، جنہوں نے ابھی صرف ایک آنکھ حکومت کی کارکردگی پر رکھی ہے (دوسری آنکھ شاید کہیں اور جما رکھی ہے)۔ آخر میں حکومت کے سب سے قابل اعتبار وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کا رپورٹ کے دو روز بعد کا بیان کہ کرپشن ختم کرنے میں کوئی بھی سنجیدہ نہیں، صرف نعرے لگائے جاتے ہیں۔ حکومت کے بھیدی وزیر کا کہنا سرآنکھوں پر۔۔۔۔ تو پھر کرپشن میں کمی کی رپورٹ کس کے بارے میں ہے!!!

مزید : کالم


loading...