شوکت بسرا پر حملہ، قابل مذمت

شوکت بسرا پر حملہ، قابل مذمت

دنیا بھر میں تشدد کے رحجان میں اضافہ ہوا، اس سلسلے میں معاشرتی طور پر آگاہی بھی جاری ہے لیکن بوتل کے جن کی طرح اسے واپس بند نہیں کیا جاسکا، مغرب اور مشرق ہر طرف یہ موجود ہے اور بہت سے ممالک میں مذہبی اور سیاسی سرگرمیوں میں بھی اس کا دخل ہوچکا، جو ہمیشہ خطر ناک ثابت ہوتا ہے، پاکستان میں بھی لڑائی جھگڑے معمول بنتے جارہے ہیں، اور جب یہ تنازعات سیاست تک آتے ہیں تو زیادہ نقصان کا باعث بنتے ہیں۔ہارون آباد میں احتجاجی دھرنے تک جانے کے لئے روانہ ہونے والے پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کے جنرل سیکرٹری شوکت بسرا اور ان کے ساتھیوں پر فائرنگ کردی گئی جس سے وہ خود اور ان کے تین ساتھی زخمی ہوئے جو ہسپتال میں داخل ہیں تاہم ان کا سیکرٹری امتیاز حیدر جاں بحق ہوگیا، اس حملے کی کئی وجوہات بیان ہونا شروع ہو گئی ہیں جن کا تفتیش سے تعلق ہے تاہم یہ امر فکر انگیز ہے کہ ایک سیاسی جماعت کے اہم عہدیدار اور رہنما کے قافلے پر حملہ کیا گیا، مظاہرہ کون اور کس لئے کررہے تھے یہ بالکل الگ مسئلہ ہوگیا، اب تو یہ سوال ہے کہ شوکت بسرا اور ان کے ساتھیوں پر فائرنگ ہوئی اور ان کا سیکرٹری جاں بحق اور وہ خود زخمی ہوگئے، اس حملے میں وہ بھی اللہ کو پیارے ہو سکتے تھے، خبروں کے مطابق الزام لگایا گیا ہے تنازعہ دوگروپوں میں تھا اور حملہ آوروں کا تعلق مسلم لیگ (ض) سے ہے اور شوکت بسرا اور مقتول کے لواحقین کی طرف سے اندراج مقدمہ کی درخواست میں بھی مسلم لیگ (ض) پر ہی الزام لگایا گیا ہے۔ اس سانحہ یا حملے کی بھرپور مذمت کی جارہی ہے، پیپلز پارٹی سمیت سبھی سیاسی جماعتوں نے مذمت کی اور مجرموں کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے، پیپلز پارٹی کے راہنماؤں آصف علی زرداری ، بلاول بھٹو زرداری، مخدوم احمد محمود، قمر زمان کائرہ اور دیگر کے علاوہ دوسری سیاسی جماعتوں کے راہنما بھی اس میں شریک ہیں اور یہ واقع ہے بھی قابل مذمت کہ ایک جان گئی اور دوسرے زخمی ہوئے، اس سے بڑی برائی یہ ہے کہ اس علاقے اور جاری مسئلہ میں تشدد کا عنصر شامل ہو گیا ہے جو کسی طور پر بھی درست نہیں ہے، اب ضروری ہو گیا ہے کہ حکومت اس واقعہ کی تفتیش کسی ماہر اور غیر جانبدار، دیانت دار افسر سے کرائے تاکہ درست اور صحیح مقدمہ ہو اور مجرم سزا تک پہنچ سکیں۔جہاں تک تشدد کا تعلق ہے تو سبھی اس کی مذمت کرتے ہیں لیکن اس کے لئے عملی اقدامات نہیں کئے جاتے، اگر ہماری پولیس ہی مستعدی کا ثبوت دے تو اس رحجان میں کمی آسکتی ہے، بہر حال یہ وقوعہ بھی قابل مذمت اور قصور واروں کو سزا دلانا حکومت کا کام ہے اور اسے کرنا چاہئے۔

مزید : اداریہ


loading...