اگلا سال انتخابات کاہے، سب سیاسی جماعتیں متحرک نئے اتحاد بن رہے ہیں

اگلا سال انتخابات کاہے، سب سیاسی جماعتیں متحرک نئے اتحاد بن رہے ہیں

ملتان کی سیاسی ڈائری

شوکت اشفاق

گو کہ ’’میثاق جمہوریت‘‘ کے بعد (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی ایک دوسرے کو بوجوہ برداشت کر رہی ہیں لیکن بہت ہی ’’دوستانہ‘‘ نوک جھونک اور چھیڑ چھاڑ بھی چلتی رہتی ہے اس لئے اگر پیپلز پارٹی کے گذشتہ پانچ سالہ دور اقتدار پر نظرڈالی جائے تو اسے کم از کم مسلم لیگ ن سے سکون ہی سکون رہا جبکہ ن لیگ کی موجودہ حکومت کے لئے پیپلز پارٹی ایک ٹھنڈی چھاؤں کا کردار اداکر رہی ہے لیکن سکرپٹ کے عین مطابق کبھی کبھار تھوڑا ’’زیادہ‘‘ بھی ہو جاتا ہے جب کوئی ’’بات‘‘ منوانی ہو، اس کا کمال سیاست کے پیچھے دو دہائیوں کی وہ سیاسی خجل خواری ہے جس کا شکار یہ دونوں جماعتیں ایک دوسرے کے ساتھ سیاسی اور ذاتی محاذ آرائی کے باعث رہیں ہونا تو یوں چاہیے تھا کہ ان کی سیاست کا رخ عوام کے لئے اصلاحات میں تبدیل ہو جاتا کیونکہ میدان سیاست میں اور کوئی تیسری سیاسی قوت موجود نہ تھی لیکن بھلا ہو ان جماعتوں کے سیاسی میڈیا منیجرز اور ان سیاسی پنڈتوں کا جنہوں نے ان کے لئے تحریک انصاف کی صورت میں عمران خان کا ’’بت‘‘ کھڑا کر دیا حالانکہ گذشتہ عام انتخابات میں عمران خان سیاسی نابالغی کا ثبوت دیتے ہوئے ایک جیتا ہوا پورے کا پورا الیکشن ہار گئے اور پھر موجودہ حکومت کے خلاف دھرنا دے کر اپنے لئے نہ صرف سیاسی مشکلات پیدا کر لیں بلکہ سیاسی ساکھ بھی خراب کر لی۔ مخدوم جاوید ہاشمی جیسے زیرک سیاستدان کو گنوایا اور کئی ’’راز‘‘ بھی افشا کروا دئیے جس کے بعد اس کا سیاسی گراف کافی نیچے آگیا مگر عمران خان کو ان دونوں سیاسی جماعتوں کی قیادت اور ان کے حواریوں کا شکر گزار ہونا چاہیے جنہوں نے اسے اس حالت میں بھی دوبارہ سیاسی طور پر کھڑا کر دیا اور اب حالت یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کی قیادت الگ عمران خان کو چیلنج کرتی پھر رہی ہے مشورہ الگ دے رہی ہے جبکہ وزیر اعظم میاں نواز شریف اپنے بھائی وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف سمیت پوری ٹیم کے ساتھ کوئی بھی موقعہ ایسا نہیں جانے دیتے جب وہ عمران خان پر تنقید نہ کرتے ہوں خصوصاً ایسے مواقع پر جب کوئی ترقیاتی کاموں کا بڑا کریڈیٹ ن لیگی حکومت کو جانے والا ہو اس دوران لیگی قیادت عمران خان کو کوسنے سے بالکل نہیں چوکتی اب بھلا اگر پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی قیادت عمران خان کو نہیں بھولتی تو عوام کیسے بھولیں گے ان کو تو یہ خود ہی روزانہ عمران خان کا نام بار بار لے کر یاد کراتے رہتے ہیں اور ان کی سیاست کو پروان چڑھانے میں دن رات ’’محنت‘‘ کر رہے ہیں حالانکہ سیاست اور مارکیٹنگ کااصول ہے کہ جس چیز کو آپ نے مارکیٹ سے آؤٹ کرنا ہو اس کا نام لینا بند کر دیں لوگ اس کے نام کو بھول جائیں گے مگر کیا کریں کہ وزیر اعظم میاں نواز شریف میٹرو بس سروس ملتان کا افتتاح کریں یا پھر حیدر آباد میں نامکمل موٹر وے کا افتتاح کریں وہ عمران خان کا نام لینا بالکل نہیں بھولتے۔ حالانکہ تحریک انصاف اس وقت اندرونی طور پر سخت دباؤ اور گروپ بندی کا شکار ہے جس کا عملی مظاہرہ گذشتہ دنوں پارٹی کے اندرونی انتخابات میں بھی سامنے آیا اور اس کا سیاسی نقصان تحریک انصاف کو اٹھانا بھی پڑا اور اب بھی کئی معاملات میں اندرونی سیاسی خلفشار موجود ہے خصوصاًبلدیاتی انتخابات میں کامیاب ہونے والے پارٹی کے چیئر مینوں اور کونسلرز نے مقامی طور پر گروپ بندی کر کے پارٹی کا ایس او پی تسلیم نہیں کیا اور کافی شہروں میں بلدیاتی اداروں کے سربراہوں کے انتخاب میں کچھ پیپلز پارٹی کے ساتھ الائنس کرتے رہے اور کچھ نے حکمران جماعت کے ساتھ الحاق کر کے مقامی طور پر اپنی ساکھ برقرار رکھی۔

اب چونکہ اگلا سال عام انتخابات کا ہے اس لئے عمران خان بھی اس حوالے سے کافی متحرک ہیں لیکن کئی شہروں اور ملحقہ علاقوں میں پارٹی ٹکٹوں کے حصول کے لئے ابھی سے ’’جنگ‘‘ شروع ہو گئی ہے نئی نئی گروپ بندی سامنے آرہی ہے جو آئندہ عام انتخابات میں تحریک انصاف کے لئے سیاسی نقصان کا باعث بن سکتی ہے اب یہ ایسا ہو گا کہ نہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ دوسری طرف پیپلز پارٹی نے 2018 کے عام انتخابات کو مد نظر رکھتے ہوئے جنوبی پنجاب پر اپنی نظریں جمالی ہیں جس کے لئے ایک تو سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کیلئے پارٹی کا سابق عہدہ یعنی سینئر وائس چیئر مین، بحال کر دیا گیا ہے اور پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کے صدر مخدوم احمد محمود کو متحرک کر کے دونوں رہنماؤں کو ٹاسک دیا گیا ہے کہ وہ 10 مارچ کو ملتان میں چیئر مین بلال بھٹو زرداری کے جلسہ عام کو نہ صرف کامیاب بنانے کے لئے حکمت عملی بنائیں پارٹی کارکنوں عہدیداروں اور جیالوں کو متحرک کریں اور اس ریجن میں پیپلز پارٹی کے ناراض رہنماؤں کو منائیں اور ایسی سیاسی شخصیات کو بھی پارٹی میں شمولیت پر آمادہ کریں جو دوسری سیاسی جماعتوں سے انتخابی حساب کتاب میں ناراض ہیں اس لئے خصوصاً ن لیگ ، ق لیگ اور تحریک انصاف کے رہنماؤں پر بھی کام کرنے کے لئے ٹاسک دیا گیا ہے ان پارٹی رہنماؤں نے اس پر نہ صرف کام شروع کر دیا ہے بلکہ وہ ’’آف دی ریکارڈ‘‘ یہ نوید بھی سنا رہے ہیں کہ بس ’’اگلی باری، پھر زرداری‘‘ ہے اب پیپلز پارٹی کے اس پیغام کو کتنے سیاسی ’’گھوڑے‘‘ سنجیدہ لیتے ہیں لیکن ایک بات واضح ہے کہ پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب میں ن لیگ کی کمزور سیاسی گرفت کا فائدہ اٹھانا چاہتی ہے جس کا ادراک ن لیگ کی قیادت کو بالکل نہیں ہے کیونکہ ان کے سیاسی پنڈت ’’میاں صاحب ‘‘ کو سب اچھا کی رپورٹ دے رہے ہیں بلکہ ’’چک‘‘ کے رکھو کا فلسفہ بھی دہرا رہے ہیں اب ایسی صورت میں ن لیگ کے ساتھ آئندہ انتخابات میں جنوبی پنجاب میں کیا ہو گا یہ نوشتہ دیوار نظر آرہا ہے۔ ویسے نظر یہ بھی آرہا ہے کہ دینی جماعتیں ’’بوجوہ‘‘ ایک مرتبہ پھر کوئی نئی مجلس عمل بنانے کے لئے ایک مرتبہ پھر فرقہ بندی کو فی الحال پس پشت ڈال کر اکٹھی ہو کر نیا اتحاد بنانے کے لئے سر گرم ہیں اور اس سلسلہ میں کچھ دینی جماعتوں کے اکابرین کے اجلاس ہو بھی چکے ہیں جس میں انہیں مثبت جواب ملا ہے اگر دینی جماعتوں کا یہ الائنس بن جاتا ہے تو پھر اس کا سیاسی نقصان کس کو ہو گا یہ بھی بڑی واضح بات ہے جس کے لئے ابھی تک کسی نے کوئی حکمت عملی تیار نہیں کی ہے۔ کیونکہ اگر تمام دینی جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر اکٹھی ہو جاتی ہیں تو آئندہ انتخابات میں اس کا سیاسی نقصان پیپلز پارٹی سمیت ن لیگ اور تحریک انصاف کو پہنچے گا۔

گورنر پنجاب ملک محمد رفیق رجوانہ ایک مرتبہ پھر ملتان کے دورے پر آئے ہیں بظاہر ان کی سرکاری مصروفیات ضرور ہیں مگر جس انداز سے وہ حلقہ این اے 149 کے سیاسی متعلقین سابق ارکان اسمبلی چیئر مین یونین کونسلز اور کونسلرز سے ملاقاتیں کر رہے ہیں اس سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ وہ اس حلقے سے اپنے بیٹے ملک آصف رجوانہ کو قومی اسمبلی کا انتخاب لڑوانا چاہتے ہیں جس کے لئے انہوں نے ابھی سے سیاسی صف بندی شروع کر دی ہے اور اس صف بندی کی وجہ سے ن لیگ ملتان شہر اور ضلع کی دھڑوں میں تقسیم در تقسیم ہو چکی ہے۔ خصوصاً اس حلقے سے ن لیگ کی ٹکٹ پر منتخب ہونے والے شیخ طارق رشید جو اب بھی ٹکٹ کے امیدوار ہیں نے چوہدری عبدالوحید ارائیں کے ساتھ مل کر میئر گروپ تشکیل دے دیا ہے اور خود اس کے سربراہ بن گئے ہیں لیکن ان کے دوسرے دھڑے کے رکن پنجاب اسمبلی رانا محمود الحسن اور رانا شاہد الحسن اس وقت گورنر پنجاب ملک رفیق رجوانہ کے ساتھ کھڑے ہیں اب اس دھڑے بندی کا پارٹی کی سیاست پر کیا اثر ہوتا ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا مگر سیاست میں ذاتی تعلق داری کہاں؟

مزید : ایڈیشن 1


loading...