بھارتی فوج نے آزاد کشمیر میں 122کنال اراضی 4لاکھ روپے کرائے پر لے رکھی ہے، حیران کن انکشاف

بھارتی فوج نے آزاد کشمیر میں 122کنال اراضی 4لاکھ روپے کرائے پر لے رکھی ہے، ...

نئی دہلی،سری نگر(کے پی آئی) بھارتی فوج میں ایک نئے سکینڈل کا اس وقت انکشاف ہوا جب فوجی دستاویزات میں یہ دعوی کیا گیا کہ بھارتی فوج نے آزاد کشمیر میں122کنال اراضی 4لاکھ روپے کرائے پر لے رکھی ہے ۔بھارتی اخبار کے مطابق بھارتی فوج کی جانب سے پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں واقع اراضی کیلئے کرایہ ادا کرنے کے انکشاف کے بعد مرکزی تفتیشی ایجنسی سی بی آئی نے کیس درج کر کے تحقیقات کا سلسلہ شروع کیا ہے۔

جبکہ اس مبینہ گھپلے میں سب ڈویژنل ڈیفنس اسٹیٹ افسر سمیت پٹواری اور دیگر کئی شہریوں کے نام سامنے آئے ہیں۔ سی بی آئی نے جو ایف آئی آر درج کی ہے اس میں کہا گیا ہے کہ مبینہ طور پر سال2000میں ایک مجرمانہ سازش کے تحت سب ڈویژنل ڈیفنس اسٹیٹ افسر سمیت نوشہرہ راجوری کے پٹواری نے یہ سازش رچی۔ سی بی آئی نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا یہ بات سامنے آئی ہے کہ سال1969-70کی جمعبندی کے تحت مذکورہ اراضی کے خسرہ نمبرات 3000,3045,3041 اور3045 پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی اراضی کے ہیں اور یہ اراضی قطعی طور پر فوج نے کرایہ بھی نہیں لی کیونکہ فوجی ریکارڈ میں بھی یہ کہیں ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔ تاہم ڈیفنس اسٹیٹ کی جانب سے مبینہ مالک زمین کو کرایہ کی ادائیگی ہوتی رہی۔ اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ سب ڈویژنل ڈیفنس اسٹیٹ افسر آر ایس چند ونشی،پٹواری نوشہرہ درشن کمار اور کچھ شہریوں جن میں راجیش کمار بھی شامل ہیں،نے مبینہ طور پر پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی اراضی کو کرایہ پر دکھایا۔ ایف آئی آر میں مزید کہا گیا ہے کہ ایک فوجی افسر،اسٹیٹ افسر اور دیگر ملازمین نے جعلی کاغذات کی بنیادوں پر 122کنال 18مرلہ اراضی کے عوض 4لاکھ99ہزار روپے کا کرایہ خزانہ سے نکالا اور کاغذات میں یہ رقم متعلقین میں تقسیم بھی کی گئی۔جبکہ مجموعی طور پر خزانہ عامرہ کو6لاکھ روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔ ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ افسروں نے آپسی ملی بھگت کرکے مجرمانہ ساش کر کے غلط طریقہ کار اپنا یا اور پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں واقع زمین کے عوض خزانے سے رقومات نکالنے کا جرم کیا۔ اس دوران یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ بعد میں5لاکھ روپے کا چونا خزانہ عامرہ کو لگاتے ہوئے راجیش کمار کو یہ رقم فراہم کی گئی۔سی بی آئی کا کہنا ہے کہ دوران تفتیش انہیں اس بات کا بھی علم ہوا کہ راجوری میں2000میں ضلع ترقیاتی بورڈ میٹنگ بھی منعقد ہوئی جس میں ایک فوج کا ایک آفیسر بھی موجود تھا۔میٹنگ میں اس بات کی تو ثیق کی گئی کہ جس اراضی کا معاملہ زیر غور ہے یہ اس وقت فوج کی تحویل میں ہے۔بورڈ میٹنگ کے اس فیصلے کے بعد خزانہ عامرہ سے رقوم نکالیں گئیں۔

مزید : عالمی منظر


loading...