کشمیر کے بجائے پاکستان میں ریفرنڈم کی تجویز مضحکہ خیز اور بے معنی ہے حریت کانفرنس

کشمیر کے بجائے پاکستان میں ریفرنڈم کی تجویز مضحکہ خیز اور بے معنی ہے حریت ...

سری نگر(کے پی آئی) کل جماعتی حریت کانفرنس گ نے بھارتی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کے بیان کہ کشمیر ہمیشہ بھارت کا حصہ رہے گا کو بھارت کی روائتی ضد اور ہٹ دھرمی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کی بیان بازی سے نہ ماضی میں حقائق کو بدلا جاسکا ہے اور نہ مستقبل میں اس سے کوئی نتیجہ برآمد ہونے والا ہے۔ حریت نے کہا کہ راجناتھ کا یہ کہنا کہ کشمیر کے بجائے پاکستان میں ریفرنڈم کرایا جائے مضحکہ خیز اور بے معنی ہے۔حریت کے مطابق بھارت کشمیر میں ریفرنڈم کرانے کے نتائج سے خوب واقف ہے اور اسی لئے وہ آئیں بائیں شائیں کرکے اس کو ٹالنے کی کوشش کرتا ہے۔ ترجمان حریت کانفرنس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کشمیر بین الاقوامی سطح کا ایک متنازعہ مسئلہ ہے اور اس کے التوا میں رہنے سے نہ صرف جموں کشمیر کے 15ملین عوام غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہوکر مشکلات اور مصائب کا شکار ہیں بلکہ یہ مسئلہ بھارت اور پاکستان کے مابین کشیدگی اور جنگ جیسی صورتحال کی واحد وجہ ہے۔ بیان کے مطابق تنازعہ کشمیر کی وجہ سے دونوں ممالک کو اپنی بجٹ کا ایک وافر حصہ جنگی سازوسامان بنانے اور خریدنے پر خرچ کرنا پڑرہا ہے جبکہ یہاں کی کروڑوں آبادی خطہ افلاس سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے، انہیں بنیادی ضروریات بھی میسر نہیں ہیں ۔ بیان میں کہا گیا کہ جس زبان میں آج راجناتھ سنگھ بات کررہے ہیں، 60سال پہلے بھارت کے اس وقت کے وزیرِ داخلہ سردار پٹیل بھی وہی بولی بولتے تھے البتہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑا ہے۔

بیان کے مطابق نصف صدی پہلے بھی یہاں غیریقینیت موجود تھی اور آج 2017 میں بھی اس صورتحال میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں آئی ہے۔

حریت نے کہا کہ تیز طرار بیان بازیوں سے کچھ بھی حاصل ہونے والا نہیں ہے۔ الٹا اس سے بھارت کے وقار پر حرف آتا ہے اور اس کے بڑی جمہوریہ والے دعوے پر سوالیہ نشان لگ جاتا ہے۔ ایک طرف یہ ملک سلامتی کونسل کا مستقل ممبر بننے کی دوڑ میں شامل ہے اور دوسری طرف یہ جموں کشمیر کے حوالے سے زورزبردستی اور غنڈہ گردی کے فارمولے پر عمل پیرا ہے۔ یہ اپنی ملٹری مائیٹ کے ذریعے سے کشمیری قوم کے جمہوری حقوق پر شب وخون ماررہا ہے اور طاقت کے ذریعے سے انہیں خاموش کرانے کی کوشش کرتا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ بھارت کا پاکستان پر الزامات لگانے کے بجائے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہئے۔ دونوں ممالک نے کشمیر میں رائے شماری کرانے اور کشمیریوں کی رائے کا احترام کرنے کا معاہدہ کیا ہے۔ پاکستان آج بھی اس پر قائم ہے، جبکہ بھارت اس معاہدے کو پسِ پشت ڈال کر طاقت کی زبان میں بات کرتا ہے۔

مزید : عالمی منظر


loading...