2050میں بھی چین کی معیشت نمبر ون ، پاکستان سپین کی جگہ 16پوزیشن سنبھال لے گا

2050میں بھی چین کی معیشت نمبر ون ، پاکستان سپین کی جگہ 16پوزیشن سنبھال لے گا

 لندن(مانیٹرنگ ڈیسک)2050ء میں بھی چین دنیا بھر میں معاشی لحاظ سے نمبرون ملک رہے گا بھارت امریکہ کو شکست دیتے ہوئے دوسرے جبکہ پاکستا ن 8درجے ترقی پاکر سپین کی جگہ 16ویں پوزیشن سنبھال لے گا۔پرائس واٹر ہاؤس کاپرز (پی ڈبلیو سی) کے ماہرین کی جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے 2050ء تک دنیا کی دولت دو گنا ہوجائے گی، صرف یہی نہیں معاشی گراف بھی تبدیل ہوجائے گا،ترقی پاتی معیشتیں چین،بھارت ،برازیل اور روس جی سیون ممالک امریکہ،برطانیہ ،فرانس اور جرمنی کو پیچھے چھوڑ دیں گے۔دنیاکے32ممالک کی موجودہ فہرست کی شکل رینکنگ کے لحاظ تبدیل ہونے کا عندیہ دے دیا ہے،یہ رینکنگ جی ڈی پی،خریداری کی طاقت اور لوگوں کے رہن سہن کے معیار کی بنیاد پر بنائی جاتی ہے،2050ء میں بھارت دنیا کی دوسری بڑی معاشی طاقت بن جائے گا،بھارتی معیشت امریکہ کو بھی شکست دے دے گی۔معاشی ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ2042ء میں دنیا کی معیشت حجم کے لحاظ سے دوگنا ہوجائے گی،چین سرفہرست رہے گا مسلم ملک انڈونیشیا ترقی پاتے ہوئے چوتھے نمبر پر آجائے گا جو جرمنی اور جاپان کے بڑھتے ہوئے قدم روک دے گا،رپورٹ کے مطابق روس یورپ کی بڑی معاشی طاقت بن جائے گا۔ریسرچرز کا خیال ہے کہ ویتنام کی معیشت اس وقت تیزی سے ترقی کررہی ہے،2050ء میں بیسیویں بڑی معیشت بن جائے گا،برطانیہ بریگزٹ کو فالو کرتے ہوئے اپنی معیشت کو اوپن کردے گا،ترکی کی معیشت کا انحصار سیاسی استحکام پر رہے گا۔ریسرچرز کا خیال ہے کہ ویتنام ،بھارت اور بنگلہ دیش کا گروتھ ریٹ صرف پانچ فیصد سالانہ رہے گا،تین دہائیوں تک ان ممالک کی معیشت اسی رفتار سے بڑھے گی۔ماہرین کا دعویٰ کے ترقی پذیر ممالک معاشی ترقی کا انحصار باہمی تجارت پر رہے گا،جس ملک کی تجارت ترقی کرے گی اس کی معیشت اسی رفتار سے آگے بڑھے گی۔

مزید : علاقائی


loading...