پاکستان ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ ملکر کام کرنے کیلئے تیار ہے : جلیل عباس

پاکستان ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ ملکر کام کرنے کیلئے تیار ہے : جلیل عباس

 واشنگٹن (اظہر زمان، بیورو چیف) گزشتہ چند برس میں پاکستان اور امریکہ کے باہمی تعلقات میں نمایاں بہتری آئی ہے اور دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ اور اس سلسلے میں چیلنجوں کا سامنا کرنے میں پاکستان جو کردار ادا کر رہا ہے اس کی اب امریکہ میں بہتر تفہیم پائی جاتی ہے۔ امریکہ میں متعین پاکستانی سفیر جلیل عباس جیلانی کے جائزے کا یہ مرکزی نکتہ تھا جس کا اظہار انہوں نے سوموار کے روز سفارتخانے میں پاکستانی میڈیا کے ساتھ ایک الوداعی ظہرانے کے دوران کیا۔ واشنگٹن میں موجود پاکستانی میڈیا کے تمام اہم نمائندے پاکستانی سفیر کے الوداعی کلمات سننے کیلئے اس تقریب میں موجود تھے جس کا اہتمام پریس منسٹر عابد سعید اور پریس اٹیچی زوبیعہ مسعود نے کیا تھا۔ پاکستانی سفیر جلیل عباس جیلانی تقریباً دو ہفتے بعد اپنا چارج چھوڑ کر وزارت خارجہ میں اپنا طویل کیریئر گزارنے کے بعد مستقل ریٹائر ہو جائیں گے۔ پاکستان کے موجودہ سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چودھری فروری کے آخر یا مارچ کے شروع میں ان کی جگہ سفارت کا چارج سنبھالیں گے۔ سفیر جیلانی نے واشنگٹن میں اپنی سفارت کے تقریباً ساڑھے تین سال کے عرصہ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جس مؤثر طریقے سے یہاں امریکی حکام، کانگریس کے ارکان اور رائے عامہ کے لیڈروں کے سامنے پاکستانی موقف بیان کیا اور باہمی معاملات کی بہتر تفہیم میں کامیابی حاصل کی اس میں مشن کے سینئر حکام کی محنت کا بھی بہت عمل دخل ہے جو قدم قدم پر روزانہ کی بنیاد پر تازہ ترین صورتحال پر انہیں اپ ڈیٹ کرتے رہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ واشنگٹن میں موجود پاکساتنی میڈیا کے ارکان اپنے شعبے میں ماہر ہیں جنہوں نے ہمیشہ دیانتداری کے ساتھ قومی مفاد کو پیش نظر رکھتے ہوئے ذمہ دار رپورٹنگ کی جس کے باعث پاکستانی سفارتخانے کا موقف درست انداز سے قارئین اور ناظرین تک پہنچا۔ سفیر جیلانی نے ایک اہم بات یہ بتائی کہ پاکستان اور امریکہ کے باہمی معاملات ہمیشہ سے عمومی طور پر ہموار اور معمول کے مطابق رہے ہیں صرف علاقائی اور عالمی معاملات پر ان کی پالیسی میں کبھی فرق آ جاتا ہے لیکن جلد ہی اس میں افہام و تفہیم کی راہ نکال لی جاتی ہے۔ انہوں نے دونوں ممالک کے سات عشروں پر پھیلے ہوئے تعلقات کا مختصر جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ سرد جنگ کے دور میں پاکستان کو ان تعلقات کی بنیاد پر بیش بہا فوائد حاصل ہوئے۔ افغانستان پر روسی تسلط کے خاتمے کیلئے امریکہ ارو پاکستان نے مل کر کام کیا اور اس وقت باہمی تعلقات عروج پر جاپہنچے۔ نائن الیون کے سانحے کے بعد علاقائی صورتحال میں جو تبدیلی پیدا ہوئی اس سے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں بھی اتار چڑھاؤ آتا رہا۔ خطے کے معاملات پر مکمل ہم آہنگی نہ ہونے اور امریکی امداد میں کمی آنے کے باوجود دونوں ممالک میں تعاون کے سلسلے میں کوئی فرق نہیں آیا۔ سفیر جیلانی نے بتایا کہ ان کے سفارت کا چارج سنبھالنے کے وقت معطل شدہ سٹریٹجک ڈائیلاگ کی ایک مرتبہ پھر بحالی ہوئی۔ امریکہ سے محض اقتصادی اور فوجی امداد حاصل کرنے کی بجائے دونوں طرف سے سوچ میں تبدیلی آئی اور دونوں ممالک نے سٹریٹجک ڈائیلاگ کے ذریعے چھ شعبوں میں تعاون کا اس طرح جائزہ لینے کا سلسلہ شروع کیا جس سے دونوں ممالک کو فائدہ پہنچے۔ باہمی تعاون کے تمام معاملات کو چھ ورکنگ گروپس میں تقسیم کیا گیا جن میں معیشت، فنانس اور تجارت، توانائی، دہشت گردی کا انسداد اور قانون نافذ کرنے کے عمل اور تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے شامل کئے گئے۔ پاکستانی سفیر نے واضح کیا کہ پاکستان کی اقتصادی ترقی میں حالیہ اضافے کے باعث اب پاکستان کے معاملات میں نئی دلچسپی پیدا ہوچکی ہے۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک جیسے عالمی اداروں نے پاکستان کے بارے میں مثبت ردعمل کا اظہار کیا ہے اور پاکستان کو انتہائی تیز رفتاری سے ترقی کرنے والی معیشتوں میں شمار کیا ہے۔ دنیا کی سب سے تیز رفتار معیشتوں میں اس وقت چین اور بھارت کے بعد پاکستان کو تیسرا نمبر دیا گیا ہے جو ہمارے لیے بہت اعزاز کی بات ہے۔ امریکی میڈیا نے پاکستانی معیشت میں ترقی کا اعتراف کرتے ہوئے اسے زبردست خراج تحسین پیش کیا ہے۔ متعدد کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستان کی ریٹنگ میں اضافہ کردیا ہے جو پاکستان کی ترقی پذیر معیشت پر تازہ اعتماد کا اظہار ہے۔ سفیر جیلانی نے بتایا کہ پاکستان امریکہ کی نئی انتظامیہ کے ساتھ بھی قریبی تعلقات قائم کرنے کا منتظر ہے اور صدر ٹرمپ اور وزیراعظم نواز شریف کے درمیان حالیہ رابطہ خوش آئند ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دنیا بھر کے صدر مقام واشنگٹن میں انہوں نے اچھا وقت گزارا اور اب اس کی خوشگوار یادیں لے کر وطن جا رہے ہیں۔

مزید : علاقائی


loading...