ایران اسلامی انقلاب عظیم قربانیو کا ثمرہے : احمدمحمدی

ایران اسلامی انقلاب عظیم قربانیو کا ثمرہے : احمدمحمدی

 کراچی ) پ ر ( خانہ فرہنگ اسلامی جمہوریہ ایران کی کامیابی کی 38ویں سالگرہ کی مناسبت سے صوبہ سندھ میں ایران کے نئے قونصل جنرل احمد ممدی کی زیرصدارت ایک عظیم الشان کانفرنس کا اہتمام کیا گیا۔ اس پروگرام میں بڑی تعداد میں اہلسنت اور شیعہ علمائے کرام، دانشور حضرات اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات نے شرکت کی۔ اس کانفرنس سے خطاب کرنے والوں میں ایرانی قونصل جنرل کے علاوہ خانہ فرہنگ اسلامی جمہوریہ ایران کراچی کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر محمد رضا باقری ، اسد اﷲ بھٹو، سید عقیل انجم اور علامہ سید رضی جعفر نقوی شامل تھے ۔ کانفرنس میں شرکت کرنے والی دیگر اہم مذہبی، سماجی وسیاسی شخصیات میں الائنس فرانسس کے سابق صدر ضیغم حیدر، سابق وزیر میرنواز خان مروت، مظفر ہاشمی، مولانا امین انصاری اور ان کے تمام رفقائے کار، اکادمی ادبیات پاکستان کراچی کے ریزیڈنٹ ڈائریکٹر قادر بخش سومرو، ڈاکٹر جاوید منظر، ڈاکٹر فراصت رضوی ، علامہ شبیر حسن میثمی، علامہ مرزا یوسف حسین اور مذہبی جماعتوں کے عہدیداران نے شرکت کی۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے قونصل جنرل احمد محمدی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں آمد کے پہلے دن ہی انقلاب اسلامی کی 38ویں سالگرہ کی تقریب میں اپنی شرکت کو ایک نہایت شگون بتایا۔ انہوں نے کہا کہ انقلاب اسلامی ایران ہزاروں قربانیوں اور امام خمینی کی مدبرانہ بے لوث قیادت کی بدولت کامیابی سے ہمکنار ہوا۔دشمنوں نے اس عالمگیر انقلاب کی کامیابی کے پہلے دن سے ہی سازشوں کی جال بچھائی تھی لیکن ایرانی قوم نے خدا کے فضل و کرم سے مرکزی سے کڑی امتحان میں بڑی کامیابیاں حاصل کیں۔ انقلاب کی ابتداء میں ہمارے بہت سارے پڑوسیوں کو تشویش تھی کہ پوری دنیا سے الگ رہ کر ایران کس طرح ترقی کرے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اپنے فرائض منصبی کے انجام دہی کے دوران پاکستان اور ایران کے تعلقات کو بہتر سے بہتر بنانے کی بھرپور کوشش کریں گے۔ ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر باقری نے انقلاب اسلامی ایران کے وقوع پذیر ہونے کے عوام و اسباب پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ انقلاب سے پہلے شاہ کی حکومت کے دوران ایران کے داخلی و خارجی امور سے متعلق تمام فیصلے ایران کے بجائے واشنگٹن میں ہوتے تھے۔ حکومت کی یہ حکمت عملی جس کی وجہ سے ایران کی خودمختاری سلب ہورہی تھی ، ایرانی عوام کو بالکل پسند نہ تھی ۔ اس کے علاوہ ایران کے تقریباً تمام حکومتی کارندے اقتصادی و اخلاقی کرپشن میں ملوث تھے۔ مغربی سامران نوجوان نسل کو خراب کرنے اور انہیں دین و اخلاقیات سے منحرف کرنے کیلئے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کررہا تھا ۔ شاہ کی حکومت ایرانی عوام کے توقعات اور ان کی سماجی، معاشرتی اور مذہبی ضروریات کو نہ صرف نظر انداز کررہی تھی بلکہ معاشرے میں دین اور دینی اقدار کا کھلم کھلا مذاق اڑایا جاتا تھا۔ اس صورتحال میں ملت ایران کو امام خمینی کی شکل میں ایک مسیحا مل گیا تھا جنہو ں نے اپنی انتھک کوششوں اور بینظیر قیادت کے ذریعے ایرانی عوام کو ہمیشہ کیلئے غلامی سے نجات دلائی اور ترقی کی راہ پر گامزن کیا۔ اس وقت اسلامی جمہوریہ ایران اقتصادی ، معاشرتی ، سیاسی اور جدید علوم و ٹیکنالوجی کے میدانوں میں قابل رشک ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...